وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

اعلیٰ تعلیم میں تعلیمی معاونت کے دائرہ کار کی وسعت

प्रविष्टि तिथि: 03 AUG 2026 7:35PM by PIB Delhi

حکومت ہند نے کہا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 (این ای پی-2020) اعلیٰ تعلیم میں رسائی، مساوات، استطاعت اور شمولیت کو فروغ دیتی ہے اور حکومت خاص طور پر معاشی طور پر کمزور طبقات کے طلبہ کو معیاری اعلیٰ تعلیم تک مساوی رسائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر تعلیم جناب پرہلاد جوشی نے بتایا کہ حکومت مختلف اسکالرشپ اسکیموں کے ذریعے مستحق طلبہ کو مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ درج فہرست ذات (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیمیں مرکزی معاونت یافتہ ہیں، جن پر ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے عمل درآمد کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پردھان منتری اُچّتر شکشا پروتساہن (پی ایم-یو ایس پی) یوجنا کے تحت کالج اور یونیورسٹی طلبہ کے لیے مرکزی شعبہ اسکالرشپ اور جموں و کشمیر و لداخ کے لیے خصوصی اسکالرشپ اسکیم کے ذریعے معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں مرکزی حکومت نے پوسٹ میٹرک اور اعلیٰ تعلیم کے لیے تقریباً 1.09 کروڑ اسکالرشپ فراہم کیں، جن میں تقریباً 36 لاکھ او بی سی، انتہائی پسماندہ طبقات (ای بی سی) اور غیر مطلع شدہ قبائل (ڈی این ٹی)، 48 لاکھ ایس سی اور 24 لاکھ ایس ٹی طلبہ کے لیے تھیں۔

وزیرموصوف نے بتایا کہ آئی آئی ٹی اور این آئی ٹی جیسے اداروں میں اعلیٰ تعلیم کو سستا بنانے کے لیے معاشی و سماجی طور پر کمزور طبقات کے طلبہ کو ٹیوشن فیس میں رعایت دی جا رہی ہے۔ تعلیمی سال 17-2016 سے ایس سی، ایس ٹی، معذور طلبہ اور ایک لاکھ روپے سے کم سالانہ آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کو مکمل فیس معافی جبکہ ایک سے پانچ لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کو دو تہائی فیس میں رعایت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن فنانسنگ ایجنسی (ہیفا) کے ذریعے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بنیادی ڈھانچے، بالخصوص ہاسٹلوں کی تعمیر و توسیع کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ مارچ 2026 تک ہیفا نے اپنے قیام (2017) کے بعد سے مختلف مرکزی مالی اعانت یافتہ اداروں کو 24,977.62 کروڑ روپے کے قرض جاری کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی یونیورسٹیوں میں طلبہ کی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً نئے ہاسٹل تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ مالی سال 2013-14 میں مرکزی یونیورسٹیوں کو 5,603.79 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی تھی، جبکہ 2014-15 سے 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 1,13,943.55 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ مالی سال 27-2026 کے لیے 17,440 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی بجٹ 2026-27 میں ہر ضلع میں طالبات کے ایک ہاسٹل کے قیام کی تجویز دی گئی ہے تاکہ خاص طور پر ایس ٹی ای ایم اداروں میں طالبات کی رسائی بڑھائی جا سکے۔ اے آئی ایس ایچ ای 2023-24 کے مطابق ایس ٹی ای ایم میں طالبات کے اندراج کی شرح 15-2014 کے 38.4 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 44 فیصد ہو گئی ہے۔

وزیرموصوف نے کہا کہ این ای پی-2020 کے اہداف کے تحت وزارت تعلیم نیشنل مشن آن ایجوکیشن تھرو انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (این ایم ای آئی سی ٹی) نافذ کر رہی ہے۔ اس کے تحت سویم پلیٹ فارم پر اب تک 20 ہزار سے زائد کورسز پیش کیے جا چکے ہیں اور مجموعی اندراج 6 کروڑ سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ سویم پلس پلیٹ فارم پر جولائی 2026 تک 89 صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے 15 شعبوں میں 500 سے زائد صنعت سے ہم آہنگ کورسز دستیاب ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آئی آئی ٹی کانپور کے اشتراک سے ساتھی  پورٹل نومبر 2023 میں شروع کیا گیا، جس پر جے ای ای، نیٹ، کیویٹ، آئی سی اے آر، ایس ایس سی اور آئی بی پی ایس سمیت مختلف مسابقتی امتحانات کی مفت تیاری کرائی جاتی ہے۔ اب تک 21 لاکھ سے زیادہ طلبہ اس پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ون نیشن ون سبسکرپشن (او این او ایس) اسکیم کے تحت اہل اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو 32 ناشرین کے 13 ہزار سے زائد علمی جرائد تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے، جس سے 7,499 اعلیٰ تعلیمی اور تحقیق و ترقی کے ادارے مستفید ہو رہے ہیں۔

وزیرموصوف نے بتایا کہ نومبر 2024 میں شروع کی گئی پی ایم ودیا لکشمی اسکیم کے تحت اعلیٰ معیار کے اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر داخلہ لینے والے طلبہ کو بغیر ضمانت اور بغیر رہن تعلیمی قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ 6 نومبر 2024 سے 21 جولائی 2026 تک 1,12,817 قرض منظور کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 15,634.78 کروڑ روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم-یو ایس پی سنٹرل سیکٹر انٹرسٹ سبسڈی اسکیم کے تحت سالانہ 4.5 لاکھ روپے تک آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کو 10 لاکھ روپے تک کے تعلیمی قرض پر مورٹوریم مدت کے دوران مکمل سودی رعایت دی جاتی ہے، جبکہ پی ایم-یو ایس پی کریڈٹ گارنٹی فنڈ اسکیم کے تحت 7.5 لاکھ روپے تک کے تعلیمی قرض پر 75 فیصد تک کریڈٹ گارنٹی فراہم کی جاتی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ان تمام اسکیموں کے نتیجے میں ملک میں اعلیٰ تعلیم کا مجموعی اندراجی تناسب (جی ای آر) 15-2014 کے 23.7 سے بڑھ کر 24-2023 میں 30 ہو گیا ہے، جبکہ طالبات کا جی ای آر 22.9 سے بڑھ کر 31.2 تک پہنچ گیا ہے۔ اسی عرصے میں ایس سی کا جی ای آر 8.9 پوائنٹس اور ایس ٹی کا 9.3 پوائنٹس بڑھا ہے۔ مجموعی طور پر اعلیٰ تعلیم میں طلبہ کی تعداد 3.42 کروڑ سے بڑھ کر 4.50 کروڑ ہو گئی، یعنی اس عرصے میں 1.08 کروڑ سے زیادہ نئے طلبہ اعلیٰ تعلیمی نظام سے وابستہ ہوئے۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 1246 )


(रिलीज़ आईडी: 2294064) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English