کامرس اور صنعت کی وزارتہ
محکمۂ تجارت نے تجارت اور پائیدار ترقی کی پالیسی کے منظرنامے پر ورکشاپ کا انعقاد کیا
کامرس کے سکریٹری نے تجارت اور پائیدار ترقی کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا
ورکشاپ میں پائیداری سے متعلق اقدامات اور ہندوستان کی تجارتی حکمتِ عملی کو تقویت دینے کے لیے گھریلو کاربن فریم ورک پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی
प्रविष्टि तिथि:
31 JUL 2026 9:20PM by PIB Delhi
وزارتِ تجارت و صنعت کے محکمۂ تجارت نے آج نئی دہلی کے وانیجیہ بھون میں ‘‘تجارت اور پائیدار ترقی (ٹی ایس ڈی): ابھرتا ہوا پالیسی منظرنامہ’’کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں حکومت کے سینئر عہدیداروں، تجارتی مذاکرات کاروں، صنعت، تعلیمی اداروں، پالیسی تحقیقی اداروں (تھنک ٹینکس) اور قانونی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے بین الاقوامی تجارت اور پائیدار ترقی کے درمیان تیزی سے بدلتے ہوئے تعلقات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
یہ ورکشاپ مجوزہ مشاورتی سلسلے کی پہلی کڑی تھی، جس کا مقصد عالمی تجارتی قواعد و ضوابط میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور جاری آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے مذاکرات کے تناظر میں تجارت اور پائیدار ترقی (ٹی ایس ڈی) سے متعلق ہندوستان کی اسٹریٹجک حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تجارت کے سکریٹری جناب راجیش اگروال نے زور دے کر کہا کہ تجارت اور پائیدار ترقی (ٹی ایس ڈی) ایک ایسا کثیر شعبہ جاتی پالیسی معاملہ ہے، جس کے لیے تجارت، صنعت، پائیداری اور مسابقت کو یکجا کرنے والی مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیداری سے متعلق ضوابط اور یکطرفہ ماحولیاتی اقدامات اب عالمی تجارتی نظام کا مستقل حصہ بنتے جا رہے ہیں، اس لیے صنعت کو پائیدار طریقۂ کار اپنانے میں معاونت فراہم کرنے کے لیے ایک سازگار نظام قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بروقت موافقت اختیار کرنے سے نہ صرف ہندوستان کی عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک بدلتے ہوئے بین الاقوامی تجارتی منظرنامے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے بھی بہتر طور پر تیار ہوگا۔
ورکشاپ میں چار موضوعاتی اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں ہندوستان کے گھریلو کاربن فریم ورک، آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) میں تجارت اور پائیدار ترقی (ٹی ایس ڈی) سے متعلق شقوں کے عالمی رجحانات، عالمی کاربن ضابطہ جاتی فریم ورک میں ہونے والی تبدیلیوں، اور تجارت و پائیدار ترقی کے حوالے سے ہندوستان کی آئندہ حکمتِ عملی کی تشکیل کے لیے مختلف اسٹریٹجک متبادلات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
مباحثوں کے دوران پائیداری سے متعلق اقدامات کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر خصوصی توجہ دی گئی، جن میں کاربن مارکیٹس، کاربن کی قیمتوں کے تعین کے نظام، کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ اقدامات، پائیداری کے معیارات اور ضابطہ جاتی تعاون شامل ہیں، اور اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ ان اقدامات کے ہندوستان کی تجارت اور صنعتی مسابقت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ورکشاپ کا اختتام ہندوستان میں پائیداری سے متعلق تیزی سے فروغ پاتے ہوئے ملکی ادارہ جاتی ڈھانچے پر تفصیلی غور و خوض کے ساتھ ہوا۔ اس دوران کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم (سی سی ٹی ایس)، ہندوستانی کاربن مارکیٹ، توسیع شدہ پیداواری ذمہ داری (ای پی آر) فریم ورک، اور ملک کے منظوری (ایکریڈیٹیشن) اور مطابقت کے جائزے (کنفارمٹی اسیسمنٹ) کے نظام پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مباحثوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان ملکی اقدامات سے مؤثر استفادہ کرتے ہوئے پائیداری سے متعلق ابھرتے ہوئے عالمی تجارتی ضوابط کے لیے ہندوستان کی تیاری کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے، اور مستقبل میں ہونے والے تجارتی مذاکرات و معاہدوں کی حکمتِ عملی مرتب کرنے میں بھی ان سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
********
ش ح۔ ش ت ۔رض
U-1174
(रिलीज़ आईडी: 2293607)
आगंतुक पटल : 6