سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر میں اوجھ  ملٹی پرپز   پروجیکٹ کی پیشرفت کا لیا جائزہ


پروجیکٹ پر مرحلوں  میں عمل درآمد کیا جائے گا جبکہ بقیہ اراضی کے حصول کا کام ساتھ ساتھ   جاری رہے گا

 اوجھ  ملٹی پرپز پروجیکٹ  جموں وکشمیر   کے اضلاع کٹھوعہ اور سامبا  اور پنجاب کے اضلاع پٹھان کوٹ اور گرداس پور میں تقریباً 90,000 ہیکٹر اراضی کو آبپاشی فراہم کرے گا؛ نیز  یہ ضلع کٹھوعہ کو پینے کا پانی بھی فراہم کرے گا

وزیراعظم  مودی کی قیادت میں ایک  طویل عرصے سے زیر التوا اوجھ اور شاہ پور کنڈی پروجیکٹوں کو بھارت کے دریائے  راوی  کے پانیوں کے بہترین استعمال کے لیے دوبارہ شروع کیا گیا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

प्रविष्टि तिथि: 02 AUG 2026 4:01PM by PIB Delhi

سائنس اور ٹیکنالوجی؛ ارضیاتی سائنس  کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیراعظم دفتر ، محکمہ جوہری توانائی، محکمہ خلا، عملہ ، عوامی شکایات اور پنشن کے وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ  میں اوجھ ملٹی پرپز پروجیکٹ (ایم پی پی) کی صورتحال اور مرحلہ وار عمل درآمد کے روڈ میپ کا جائزہ لیا۔

وزیر موصوف نے واپکوس لمیٹڈ کے حکام کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کی، جو کہ وزارت جل شکتی کے تحت حکومت ہند کا ایک ادارہ ہے اور جسے اس پروجیکٹ پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تیز رفتار عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس  اسٹریٹجک  لحاظ سے اہم پروجیکٹ کے فوائد جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے واپکوس کو صلاح دی  کہ وہ معیار، حفاظت اور کارکردگی کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھتے ہوئے اختراعی حل اور نفاذ کی حکمت عملیوں کو تلاش کریں۔

زیر موصوف کو بتایا گیا کہ اس پروجیکٹ کو مرحلہ وار طریقے سے شروع کیا جا رہا ہے۔ زمین کے حصول کے پورے عمل کی تکمیل کا انتظار کیے بغیر، بقیہ اراضی کے حصول کے کام کو ساتھ ساتھ جاری رکھتے ہوئے کام شروع کر دیا جائے گا۔ عملدرآمد کرنے والی  ایجنسی پروجیکٹ کی جگہ اور اس سے متعلق  ضروریات پر بھی کام کر رہی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم  جناب  نریندر مودی کی قیادت میں ایک  طویل عرصے سے زیر التوا قومی پروجیکٹوں کو نئی مستعدی کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا  کہ اوجھ ملٹی پرپز پروجیکٹ، جس کا تصور  تقریباً ایک صدی قبل  کیا گیا تھا، دہائیوں تک معلق رہا، جبکہ شاہ پور کنڈی پروجیکٹ تقریباً چار دہائیوں سے زیر التوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان  پروجیکٹوں  پر عمل درآمد میں تاخیر کے نتیجے میں دریاۓ راوی اور اس کے معاون دریاؤں کا پانی پاکستان میں بہتا رہا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے  کے نافذ العمل رہنے کے دوران بھی  راوی، ستلج اور بیاس اس معاہدے کے تحت بھارت کے تین دریا تھے، جن میں راوی بڑا دریا تھا۔ انہوں نے کہا  کہ یہ معاہدہ اب معطل  ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 2019 میں شاہ پور کنڈی پروجیکٹ کا احیاء، جو اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے  اور 2026 میں اوجھ ملٹی پرپز پروجیکٹ کا احیاء وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک  طویل عرصے سے تاخیر کا شکار پروجیکٹوں  کو پورا کیا جائے، بھارت کے آبی وسائل کے استعمال کو بہترین بنایا جائے اور لوگوں کو ٹھوس فوائد پہنچائے جائیں۔

دریائے راوی کے ایک اہم معاون دریا، دریائے اوجھ پر واقع اوجھ ملٹی پرپز پروجیکٹ کو تقریباً 186 میگاواٹ سے 212 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ جموں و کشمیر کے اضلاع کٹھوعہ اور سامبا اور پنجاب کے اضلاع پٹھان کوٹ اور گرداس پور میں تقریباً 90,000 ہیکٹر زرعی اراضی کو آبپاشی فراہم کرے گا۔ یہ پروجیکٹ ضلع کٹھوعہ کو پینے کا پانی بھی فراہم کرے گا اور صنعتی پانی کی دستیابی کو یقینی بنائے گا۔

توقع ہے کہ یہ  پروجیکٹ  زرعی پیداواری صلاحیت کو مضبوط کرے گا، پانی کی حفاظت کو بہتر بنائے گا، اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور مرکز کے زیرانتظام خطے  کی مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کا ایک اہم سیکورٹی اور بارڈر مینجمنٹ کا پہلو بھی ہے اور اسے وزارت داخلہ کی مدد حاصل ہے تاکہ پانی کے غیر منظم بہاؤ کو روکا جا سکے اور ندی کے راستے   سرحد پار دراندازی کے غیرمحفوظ  راستوں کو بند کیا جا سکے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے عمل درآمد کے سنگ میل   کا تفصیلی جائزہ لیا اور بروقت  نفاذ  کے لیے تمام اسٹیک ہولڈروں  کے درمیان قریبی ہم آہنگی اور مؤثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واپکوس کو اس باوقار پروجیکٹ  کے کامیاب نفاذ اور بروقت تکمیل کے لیے حکومت کی مکمل مدد اور تعاون  کی یقین دہانی کرائی ۔

 

 

***

ش ح- ن  ا

U.N: 1156


(रिलीज़ आईडी: 2293456) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil