ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انفورسمنٹ ٹاسک فورس (ای ٹی ایف) کے 136ویں اجلاس میں این سی آر میں نافذ العمل کارروائیوں، تعمیلی صورتحال اور شعبہ وار معائنوں کا جائزہ لیا گیا

प्रविष्टि तिथि: 01 AUG 2026 7:51PM by PIB Delhi

قومی راجدھانی  خطہ(این سی آر) اور ملحقہ علاقوں میں ایئر کوالٹی مینجمنٹ کے کمیشن (سی اے کیو ایم) کی انفورسمنٹ ٹاسک فورس (ای ٹی ایف) کا 136 واں اجلاس 31 جولائی 2026 کو منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں 14 جولائی 2026 سے 24 جولائی 2026 کی رپورٹنگ مدت کے دوران پورے این سی آر میں نافذ العمل کارروائیوں، معائنوں اور تعمیلی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

گیارہ  دنوں کی اس رپورٹنگ مدت کے دوران کمیشن کی جانب سے تعینات کردہ 'فلائنگ اسکواڈز' (متحرک ٹیموں) کے ذریعے کل 159 معائنے کیے گئے، جن میں اہم شعبے شامل تھے: تعمیراتی و مسماری (سی اینڈ ڈی) سائٹس پر 22 معائنے، صنعتی شعبے میں 97 معائنے، اور ڈیزل جنریٹر (ڈی جی) سیٹس سے متعلق 40 معائنے شامل ہیں۔

 

رپورٹ شدہ خلاف ورزیوں پر موصول ہونے والی معائنے کی رپورٹوں کی بنیاد پر 17 منصوبوں/ صنعتوں (11 تعمیراتی و مسماری سائٹس اور 6 صنعتیں) کو بند کرنے، 11 ڈی جی سیٹس کو سیل کرنے، ضوابط کی پاسداری کے لیے 08 احکامات/ ہدایات جاری کرنے اور  5 معاملات میں 'ماحولیاتی معاوضہ' (ای سی) عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ  ایک تعمیراتی منصوبے کا دوبارہ معائنہ کرنے اور ایک  صنعتی اکائی کو مشورتی تنبیہ (ایڈوائزری) جاری کرنے کی تجویز ہے۔

انفورسمنٹ ٹاسک فورس نے ای ٹی ایف کے 135ویں اجلاس میں لیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور نوٹ کیا کہ صنعتی شعبے، تعمیراتی و مسماری (سی اینڈ ڈی) شعبے اور ڈی جی سیٹس سے متعلق تمام ضروری کارروائیوں پر عمل کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ ضوابط کی تعمیل کی تصدیق کے بعد کام دوبارہ شروع کرنے کے  7 احکامات (ریزمپشن آرڈرز) جاری کیے گئے ہیں، جن میں  2 صنعتی اکائیاں اور  5 تعمیراتی منصوبے شامل ہیں۔ ریاست کے لحاظ سے،  2 احکامات ہریانہ میں اور  5 اتر پردیش میں جاری کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ 31 جولائی 2026 تک قانونی کارروائی کی تازہ ترین مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ نوٹ کیا گیا کہ کمیشن کے 'فلائنگ اسکواڈز' (متحرک ٹیموں) نے این سی آر میں اب تک 28084 اکائیوں/ منصوبوں/ اداروں کا معائنہ کیا ہے۔ ان معائنوں کی بنیاد پر 1805 بندش کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جن میں سے ضوابط کی پاسداری کی تصدیق کے بعد 1456 کو دوبارہ کام شروع کرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ، حتمی فیصلے کے لیے 126 مقدمات متعلقہ اسٹیٹ پولوشن کنٹرول بورڈز (ایس پی سی بیز) / دہلی پولوشن کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) کو منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ 223 اداروں کے کام کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت سے متعلق معاملات ابھی زیرِ غور ہیں۔

  

انفورسمنٹ ٹاسک فورس نے کمیشن کے جاری کردہ 'اسٹینڈرڈ فریم ورک' کے مطابق ازسرِ نو تعمیر شدہ سڑکوں کے معائنے کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ جائزے کے دوران غازی آباد، فرید آباد اور گروگرام کے میونسپل کارپوریشنز میں کل 106 سڑکوں کے حصوں، جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 38 کلومیٹر ہے، کا معائنہ کیا گیا۔ غازی آباد میں معائنہ کی گئی تمام 42 سڑکیں مکمل طور پر سرے سے سرے تک پکی (پیوڈ) پائی گئیں، جبکہ فرید آباد میں 50 سڑکوں (9 کلومیٹر) کے معائنے کے دوران صرف 38 سڑکیں مکمل پکی پائی گئیں اور گروگرام میں 14 سڑکوں (22 کلومیٹر) کے معائنے میں صرف 11 سڑکیں مکمل طور پر پکی پائی گئیں۔ اس کے مطابق متعلقہ میونسپل کارپوریشنز کو کمیشن کے مقرر کردہ 'اسٹینڈرڈ فریم ورک' کے تحت ضروری اصلاحی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

کمیشن نے مقررہ ضوابط پر موثر عمل درآمد کے لیے قانون پر سختی سے عمل کرانے، بروقت تعمیل کی تصدیق یقینی بنانے اور نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ این سی آر (قومی دارالحکومت کے علاقے) میں فضائی آلودگی کو موثر طریقے سے کم کرنے کے لیے صنعتی اکائیوں، تعمیراتی و مسماری (سی اینڈ ڈی) کی سرگرمیوں، ڈی جی سیٹس اور سڑکوں کے کاموں جیسے ترجیحی شعبوں میں تیز رفتار کارروائیوں، سخت نگرانی اور فعال معائنے پر مسلسل توجہ مرکوز رکھی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔ ف ا۔ن م۔

U- 1124

                          


(रिलीज़ आईडी: 2293112) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी