ادویات سازی کا محکمہ
ملکی دوا ساز ادارے
प्रविष्टि तिथि:
31 JUL 2026 4:37PM by PIB Delhi
محکمہ ادویہ (ڈی او پی) کی جانب سے 30 جون 2026 کو جاری کردہ ادویات (قیمتوں کے کنٹرول) ترمیمی حکم، 2026، جسے ایس او 3516 (ای) کے ذریعے نوٹیفائی کیا گیا ہے، کے مطابق، کوئی بھی موجودہ دوا ساز ادارہ جو وہی نئی دوا تیار کر رہا ہے، جس کی خوردہ قیمت گزشتہ 12 ماہ کے دوران قومی ادویات قیمت تعین اتھارٹی (نیشنل فارما سیوٹیکل اتھارٹی -این پی پی اے) کی جانب سے مقرر کی گئی ہے، اسے اسی خوردہ قیمت پر عمل کرنا ہوگا اور دوا کی فروخت شروع کرنے کی تاریخ سے ایک ماہ کے اندر فارم-1 اے کے ذریعے این پی پی اے کو اطلاع دینی ہوگی۔ فارم-1 اے کے تحت ملکی دوا ساز اداروں کے لیے پیداواری لائنوں یا بیچز کا اندراج لازمی نہیں کیا گیا ہے۔
قومی ادویات قیمت تعین اتھارٹی (نیشنل فارما سیوٹیکل اتھارٹی -این پی پی اے) کو محکمہ ادویہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کیے جانے والے ادویات قیمت کنٹرول حکم کے نفاذ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ این پی پی اے، ڈی پی سی او، 2013 کے تحت مقررہ اور غیر مقررہ دونوں اقسام کی ادویات کی قیمتوں کی نگرانی کرتی ہے اور ایسے دوا ساز اداروں کے خلاف کارروائی کرتی ہے جو صارفین سے زیادہ قیمت وصول کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہ کارروائی مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جن میں قیمت نگرانی اور وسائل یونٹس (پی ایم آر یوز)، ریاستی ڈرگ کنٹرولرز، کھلی مارکیٹ سے خریدے گئے نمونے، مارکیٹ ڈیٹا بیس سے حاصل رپورٹس اور شکایتی ازالہ نظام کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات شامل ہیں۔
مذکورہ ذرائع سے موصول ہونے والے زیادہ قیمت وصولی کے مشتبہ معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اگر ابتدائی طور پر زیادہ قیمت وصولی کا معاملہ ثابت ہوتا ہے تو ڈی پی سی او، 2013 کی دفعات کے مطابق کارروائی شروع کی جاتی ہے۔
گزشتہ چار ماہ کے دوران این پی پی اے نے تمل ناڈو سمیت ملک بھر کے دوا ساز اداروں کو 103 مطالباتی نوٹس جاری کیے ہیں۔ مزید برآں، این پی پی اے دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے زیادہ قیمت وصولی کا ریاست وار ریکارڈ برقرار نہیں رکھتی۔
یہ معلومات کیمیکل اور کھاد کی وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
********
ش ح۔ م م۔ ش ب ن
U-NO-1056
(रिलीज़ आईडी: 2292625)
आगंतुक पटल : 10