ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

دواسازی کی قیمتوں سے متعلق پالیسی میں اصلاحات

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 2:28PM by PIB Delhi

کیمیکلز اور کھاد کی مرکزی وزیرِ مملکت محترمہ انوپریا پٹیل  نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ محکمۂ دواسازی نے ایس او 3516(ای) مورخہ 30 جون 2026 کے ذریعے ڈرگز (پرائسز کنٹرول) آرڈر، 2013 کی بعض موجودہ دفعات میں ترامیم کو مطلع کیا ہے۔ ان ترامیم کے تحت دیگر امور کے ساتھ ساتھ زائد قیمت وصولی کے معاملات میں دوا ساز کمپنیوں کی ذمہ داری اور کسی موجودہ دوا ساز ادارے کی جانب سے نئی دوا کو مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے خوردہ قیمت کی پیشگی منظوری کی ضرورت جیسے معاملات کو حل کیا گیا ہے۔

مذکورہ نوٹیفکیشن کے ذریعے کی گئی ترامیم سے کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ ملے گا اور دواسازی کے شعبے میں اختراعات کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

مذکورہ نوٹیفکیشن درج ذیل  ویب لنک پر دستیاب ہے۔

https://pharma-dept.gov.in/sites/default/files/13th%20Amendment%20%20S.O.%203516%20%28E%29%20dated%2030%20June%202026.pdf.

ان ترامیم کے تحت زائد قیمت وصولی کے معاملے میں دوا ساز کمپنی کی ذمہ داری کو اس مقدار تک محدود کر دیا گیا ہے جس پر متعلقہ  تقسیم کنندہ، خوردہ فروش یا اسٹاکسٹ  کی جانب سے واقعی زائد قیمت وصول کی گئی ہو، بشرطیکہ اس سلسلے میں  ڈی پی سی او، 2013  میں مقرر کردہ ضوابط کی تعمیل کی گئی ہو۔

مزید برآں،  ڈی پی سی او  کی اس شق میں بھی ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت تمام موجودہ دوا ساز اداروں کو کسی ایسی دوا کو مارکیٹ میں متعارف کرانے سے پہلے الگ سے قیمت کی پیشگی منظوری حاصل کرنا ضروری تھا، جو کسی ضروری دوا کو دوسری دوا کے ساتھ ملا کر تیار کی گئی ہو یا جس میں ضروری دوا کی طاقت، خوراک یا دونوں میں تبدیلی کی گئی ہو۔

ترمیم شدہ شق کے مطابق، اگر  قومی ادویات قیمت تعین سے متعلق  اتھارٹی (این پی پی اے)  کسی دوا ساز ادارے کے لیے نئی دوا کی خوردہ قیمت مقرر کر دیتی ہے، تو اسی دوا کی تیاری کرنے والے دیگر موجودہ ادارے اگلے  12 ماہ  کے دوران اسی قیمت یا اس سے کم قیمت کو اختیار کر سکتے ہیں، اور انہیں الگ سے پیشگی قیمت منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ  ڈی پی سی او، 2013  میں دوا ساز اداروں کی جانب سے تیار کردہ یا درآمد کی گئی اور مارکیٹ میں فروخت کی جانے والی انفرادی  فعال دواسازی اجزا (اے پی آئی)  یا بلک ڈرگز، فارمولیشن یونٹس اور پیک وغیرہ کی فروخت سے متعلق ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے کوئی مقررہ مدت طے نہیں کی گئی تھی۔ اب اس شق میں ترمیم کرتے ہوئے ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ضرورت کو موجودہ مالی سال سے قبل کے صرف  سات مالی سالوں  تک محدود کر دیا گیا ہے۔

مزید برآں، دواسازی کے شعبے میں اختراعات کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے یہ انتظام کیا ہے کہ ایک ہی دوا کے لیے الگ الگ زیادہ سے زیادہ قیمت یا خوردہ قیمت مقرر کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ علاج سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر ایسی علیحدہ قیمت کا جواز موجود ہو۔ اس اقدام سے ایسی اختراعات کو فروغ ملے گا جو صحت کے بہتر نتائج فراہم کرنے میں معاون ہوں۔

ان ترامیم سے بعد کی درخواستوں کے لیے پیشگی منظوری کی ضرورت ختم ہوگی، ضابطہ جاتی بوجھ میں کمی آئے گی اور ایسی ادویات کو تیزی سے مارکیٹ میں متعارف کرانے میں مدد ملے گی۔ اس کے نتیجے میں صارفین کو زیادہ مؤثر، بہتر نتائج دینے والی اور استعمال میں آسان ادویات دستیاب ہوں گی، جس سے مریضوں کی ادویات تک رسائی بہتر ہوگی اور صارفین و دوا ساز ادارے دونوں مستفید ہوں گے۔

**********  

(ش ح ۔ ش ت ۔ت ا(

U.NO 1027


(रिलीज़ आईडी: 2292534) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी