بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت ہندایم ایس ایم ای کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اے آئی اور ڈیجیٹل ٹیک کو اپنانے کو فروغ دے رہی  ہے۔


دس ہزار371 کروڑ روپے کا انڈیا اے آئی مشن ایم ایس ایم ای کے لیےاے کو جامع بناتا ہے

حکومت ہند نے ریسرچ اسٹڈیز اور نیتی آیوگ فریم ورک کے ذریعے ایم ایس ایم ای ڈیجیٹل ترقی کا اندازہ لگایا

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 6:21PM by PIB Delhi

حکومت ایم ایس ایم ای  کے درمیان مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانے کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کر رہی ہے۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت  10,371.92 کروڑ کی لاگت کے ساتھ 7 مارچ 2024 کو منظور شدہ انڈیا اے آئی مشن کو نافذ کر رہی ہے۔ یہ مشن سات ستونوں پر مشتمل ہے، یعنی انڈیا اے آئی کمپیوٹ کیپسٹی، انڈیا اے آئی انوویشن سنٹر، انڈیا اے آئی ڈیٹا سیٹس پلیٹ فارم، انڈیا اے آئی ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ انیشیٹو، انڈیا اے آئی فیوچر سکلز، انڈیا اے آئی اسٹارٹ اپ فنانسنگ اور سیف اینڈ ٹرسٹڈ اے آئی، جس کا مقصداے آئ کے فوائد کو جمہوری بنانا ہے اور معاشرے کے تمام طبقات میں اے آئی نظام کو مضبوط کرنا ہے۔ مؤثر، ذمہ دار اور جامع ترقی، بشمول تمام شعبوں میںاے آئی کو اپنانے میں سہولت فراہم کرنا۔ اس مشن کا مقصد اے آئی کے فوائد کو سماج کے تمام طبقوں بشمول ایم ایس ایم ای  کی پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں اضافہ کرنا ہے۔

حکومت وقتاً فوقتاً صنعت اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر تشخیصی مطالعات کے ذریعےایم ایس ایم ای میں ڈیجیٹل اپنانے کی حد کا اندازہ کرتی ہے۔ نیتی آیوگ کا آؤٹ پٹ-آؤٹکم مانیٹرنگ فریم ورک کومتی مداخلتوں کے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے ایک ادارہ جاتی طریقہ کار کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

یہ معلومات ایم ایس ایم ای کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کرندلاجے نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب کے طور پر دی۔

***

(ش ح۔اص)

UR No 977

 


(रिलीज़ आईडी: 2292038) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी