سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
سائنسدانوں نے سورج کی اوپری سطح میں تیز رفتار گردش کو دریافت کیا
प्रविष्टि तिथि:
30 JUL 2026 4:35PM by PIB Delhi
ایک نئی تحقیق کے مطابق سورج کے گرد گردش کرنے والی فضا، سورج کی نظر آنے والی سطح کے مقابلے میں بہت زیادہ تیزی سے گھومتی ہے، اور سورج کی سطح سے جتنی زیادہ بلندی پر جائیں، گردش کی رفتار اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ یہ دریافت کلاسیکی طبیعیات کی توقعات کو چیلنج کرتی ہے۔سورج کو بہتر طور پر سمجھنے کے ساتھ ساتھ یہ نتائج سورج کی سرگرمیوں اور خلائی موسم کے ماڈلز کو مزید بہتر بنانے میں مدد دیں گے، جو زمین پر موجود سیٹلائٹس، مواصلاتی نظام، نیویگیشن نیٹ ورک اورتوانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
صدیوں سے ہماری تہذیب میں سورج کو زندگی اور توانائی کی علامت کے طور پر سوریہ دیو کے روپ میں عزت دی جاتی رہی ہے۔ لیکن جدید سائنس مسلسل یہ انکشاف کر رہی ہے کہ سورج جتنا نظر آتا ہے، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ زمین کی طرح سورج کی بھی ایک فضا ہے، لیکن سائنس دان طویل عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ سورج کے گھومنے کے دوران اس کی وسیع فضا کس طرح حرکت کرتی ہے۔
تصور کریں کہ برف پر اسکیٹنگ کرنے والا کوئی شخص برف کے میدان میں ایک جگہ کھڑا ہو کر گھوم رہا ہے۔ جب وہ اپنے بازو جسم کے قریب کر لیتا ہے تو وہ زیادہ تیزی سے گھومنے لگتا ہے، اور جب وہ اپنے بازو باہر کی طرف پھیلاتا ہے تو اس کی گردش کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ یہ عمل طبیعیات کے ایک بنیادی اصول کے مطابق ہوتا ہے، جسے زاویائی مومینٹم کے تحفظ کا اصول کہا جاتا ہے۔ زمین کی فضا بھی عام طور پر اسی اصول کے مطابق حرکت کرتی ہے۔
تاہم، آریہ بھٹہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنسز (اے آر آئی ای ایس)، جو سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمہ (ڈی ایس ٹی) کے تحت ایک خود مختار ادارہ ہے، اودے پور سولر آبزرویٹری (یو ایس او)، فزیکل ریسرچ لیبارٹری (پی آر ایل) اور احمد نگر کالج کے محققین کی ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ سورج اس قاعدے کا پابند نہیں ہے۔
جاپان کی نوبیاما ریڈیو ہیلیوگراف سے حاصل کیے گئے مشاہدات کا استعمال کرتے ہوئے ٹیم نے دریافت کیا کہ سورج کی فضا اس کی نظر آنے والی سطح کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گردش کرتی ہے، جو کلاسیکی طبیعیات کے اصولوں سے یکسر مختلف ہے۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ سورج کی سطح سے جتنی زیادہ بلندی پر جائیں، گردش کی رفتار اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے، جبکہ سورج کی سرگرمی، جس کا اندازہ سورج کے دھبوں کی تعداد سے لگایا جاتا ہے، بڑھنے پر گردش کی رفتار میں معمولی کمی آ جاتی ہے۔ یہ تحقیق اے آر آئی ای ایس کے سرینجنا روتھ اور ویبھو پنت (جو اب آئی آئی ٹی دہلی میں ہیں)، یو ایس او-پی آر ایل کی انشو کماری اور احمد نگر کالج کے جے دیپ کاندیکر نے انجام دی۔ یہ تحقیق ایسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس لیٹرس نامی جریدہ میں شائع ہوئی ہے۔
تصویر: (اوپر) سورج کے مشاہدے کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔ بائیں جانب کی تصویر خلا میں موجود سولر ڈائنامک آبزرویٹری کے ذریعے لی گئی ہے، جبکہ دائیں جانب کی تصویر زمین پر نصب نوبیاما ریڈیو ہیلیوگراف سے حاصل کی گئی ہے۔ (نیچے بایاں پینل) سورج کی سطح سے مختلف بلندیوں پر اس کے خط استوا کی گردش کی رفتار میں اضافے کا رجحان دکھایا گیا ہے۔ اس کا موازنہ سورج کے دھبوں سے کیا گیا ہے، جو عام طور پر سورج کی سطح پر نظر آتے ہیں۔ (نیچے دایاں پینل) سرخ نقطوں والی لکیر سورج کے دھبوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ سورج کی گردش کی رفتار میں ممکنہ کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
چونکہ سورج زیادہ تر گیسوں سے بنا ہوا ہے اور اس کی کوئی ٹھوس سطح نہیں ہے، اس لیے یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ آیا وہ زمین کی طرح اسی انداز میں گردش کرتا ہے یا نہیں۔ لہذا، سورج کی فضا کس طرح گردش کرتی ہے، یہ معلوم کرنے کے لیے "2 ڈی امیج کوریلیشن طریقہ" استعمال کیا گیا۔ اس طریقے میں دو الگ الگ دنوں کی سورج کی تصاویر کو ایک جیسے حصوں تک محدود کرکے آپس میں ملایا گیا اور یہ دیکھا گیا کہ ایک تصویر دوسری کے مقابلے میں کتنی آگے یا پیچھے منتقل ہوئی ہے۔ پھر اسی تبدیلی کی بنیاد پر گردش کی رفتار کا حساب لگایا گیا۔
اشاعت کا لنک : https://www.aanda.org/articles/aa/abs/2025/08/aa55364-25
*****
(ش ح-ع و-ص ج )
U-959
(रिलीज़ आईडी: 2291926)
आगंतुक पटल : 14