ایٹمی توانائی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: تابکاری فضلات

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 4:04PM by PIB Delhi

عام طور پر جوہری بجلی گھروں سے پیدا ہونے والا تابکاری ٹھوس فضلہ، جس میں بجلی گھر کی عملی مدت کے دوران اور اس کے استعمال کے اختتام (ڈی کمیشننگ) کے وقت پیدا ہونے والا فضلہ بھی شامل ہے، فی میگاواٹ سالانہ 0.15 کیوبک میٹر کے اندر رہتا ہے۔ تلف کیے گئے تابکار فضلے کی مقدار اور اس کے مقام سے متعلق تمام ریکارڈ باقاعدگی سے اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ (اے ای آر بی) کے پاس جمع کرائے جاتے ہیں۔

ہندوستان کے جوہری توانائی پروگرام کے آغاز ہی سے جوہری فضلے کے محفوظ انتظام کو اعلیٰ ترجیح دی گئی ہے۔ حکومت ہند نے اٹامک انرجی (تابکار ی فضلے کے محفوظ تصرف) قواعد، 1987 نافذ کیے ہیں، جو تابکار ی فضلے کے محفوظ انتظام اور تصرف کے لیے قانونی تقاضے متعین کرتے ہیں۔

ان قواعد کے مطابق، تابکاری فضلہ پیدا کرنے والے تمام اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اے ای آر بی سے تابکاری مائع یا گیس نما اخراج خارج کرنے کی اجازت (اتھارائزیشن) حاصل کریں۔ اس اجازت نامے میں اس فضلے کی مقدار اور تابکاری کی حد متعین کی جاتی ہے، جسے متعلقہ ادارہ مقررہ طریقۂ کار کے مطابق خارج کر سکتا ہے۔

اے ای آر بی کی جانب سے مقرر کردہ تابکار ی اخراج کی حدود بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیارات اور محفوظ طریقۂ کار پر مبنی ہیں۔ اسی طرح تابکار فضلے کو سنبھالنے، اس کا علاج (ٹریٹمنٹ)، ذخیرہ کرنے اور محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا عمل بھی اے ای آر بی کی جانب سے مقرر کردہ ضابطوں، طریقۂ کار اور رہنما اصولوں کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔

تابکار ی فضلے کے انتظام کے بنیادی اصول کے طور پر کسی بھی جسمانی شکل میں موجود فضلہ ماحول میں اس وقت تک خارج یا ٹھکانے نہیں لگایا جاتا جب تک اسے متعلقہ ضابطوں کے تحت منظوری، استثنا یا اخراج حاصل نہ ہو جائے۔ جوہری بجلی گھروں اور جوہری ایندھن کے استعمال کے بعد کے مراحل (بیک اینڈ فیول سائیکل) سے پیدا ہونے والے تابکار فضلے کے مؤثر انتظام کے لیے ایک جامع نظام قائم کیا گیا ہے۔

جوہری بجلی گھروں کی آپریشن اور دیکھ بھال کی سرگرمیوں کے دوران گیسی، مائع اور ٹھوس شکل میں تابکار فضلہ پیدا ہوتا ہے۔(الف) گیسی فضلہ کو اس کی پیدائش کے مقام پر ہی قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے فعال چارکول (ایکٹیویٹڈ چارکول) پر جذب (ایڈسورپشن) اور اعلیٰ کارکردگی والے ذراتی ہوا فلٹر (ہائی ایفیشنسی پارٹیکیولیٹ ایئر فلٹر) کے ذریعے فلٹریشن جیسی تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔(ب) مائع فضلے کو اس کی نوعیت، مقدار اور تابکاری کی سطح کے مطابق مختلف طریقوں سے صاف کیا جاتا ہے، جن میں فلٹریشن، جذب (ایڈسورپشن)، کیمیائی عمل، بخارات کے ذریعے علیحدگی (ایواپریشن)، آئن تبادلہ (آئن ایکسچینج) اور ریورس اوسموسس وغیرہ شامل ہیں۔(ج) جوہری بجلی گھروں کی آپریشن اور دیکھ بھال کے دوران پیدا ہونے والے تابکاری  ٹھوس فضلے کو ٹھکانے لگانے سے پہلے الگ کیا جاتا ہے اور اس کا حجم کم کیا جاتا ہے۔ اس فضلے کو خصوصی طور پر تعمیر کیے گئے ڈھانچوں، جیسے پتھروں سے آراستہ خندقیں، مضبوط کنکریٹ کی خندقیں اور ٹائل ہولز میں محفوظ طریقے سے دفن کیا جاتا ہے۔یہ تمام تصرفی ڈھانچے زمین کے اوپر اور زیرِ زمین، محدود رسائی والے علاقوں میں قائم کیے جاتے ہیں اور انہیں کثیر رکاوٹی اصول (ملٹی بیریئر پرنسپل) کی بنیاد پر اس انداز سے تیار کیا جاتا ہے کہ تابکاری کو مؤثر طور پر محدود رکھا جا سکے۔جن مقامات پر یہ ڈھانچے قائم ہیں، وہاں منصوبہ بند انداز میں نصب کیے گئے بور ویلوں کی مدد سے زیرزمین مٹی اور پانی کے نمونوں کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تلف کیے گئے تابکاری  فضلے کی تابکاری مکمل طور پر محدود اور محفوظ ہے۔اب تک مختلف مقامات پر ان تصرفی علاقوں کی مسلسل نگرانی سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تابکار ی فضلے کو محفوظ رکھنے کا یہ نظام انتہائی مؤثر ہے۔ آج تک ایسے تلف کیے گئے تابکار ی فضلے سے تابکاری کے اخراج کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، اور نہ ہی اس کے نتیجے میں عوام یا ماحول پر تابکاری کے کسی منفی اثر کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔

استعمال شدہ ایندھن (اسپینٹ فیول) کی دوبارہ پروسیسنگ کے دوران پیدا ہونے والے اعلیٰ سطح کے تابکار ی فضلے کو ایک مخصوص عمل کے ذریعے شیشے میں تبدیل (وٹریفیکیشن) کیا جاتا ہے۔ وٹریفائیڈ فضلے کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے رہنما اصولوں کے مطابق، عالمی طریقۂ کار کے عین مطابق، ایک مقررہ عبوری مدت کے لیے سالڈ اسٹوریج سرویلنس سہولت (فیسلٹی)میں محفوظ رکھا جاتا ہے۔

فضلے کی تقسیم کاری (پارٹیشننگ) پر مبنی جدید تکنیکی ترقیات کے ذریعے مفید ریڈیو آئسوٹوپس، جیسے سیزیم-137 (سی ایس -137)، روتھینیم-106 (آر یو -106) اور اسٹرونشیئم-90 (ایس آر-90) کو الگ کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے، جنہیں طبی شعبے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ قیمتی تابکاری  عناصر کی بازیابی کے علاوہ، تقسیم کاری کی ٹیکنالوجی طویل عرصے تک فعال رہنے والے ریڈیو آئسوٹوپس، جن میں ایکٹینائیڈز بھی شامل ہیں، کو شیشے کے ڈھانچے میں محفوظ کرنے سے پہلے الگ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے باقی ماندہ فضلے کی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے، جسے طویل مدت کے لیے ذخیرہ کرنا ہوتا ہے۔

جوہری توانائی کا محکمہ (ڈی اے ای) بہترین طریقۂ کار کے مطابق تابکار ی فضلے کے محفوظ انتظام کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ جوہری فضلے کو اٹامک انرجی (تابکاری  فضلے کے محفوظ تصرف) قواعد، 1987 کی دفعات کے مطابق محفوظ طریقے سے منظم اور ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔ملک میں تابکار ی فضلے کے انتظام کے لیے قائم ضابطہ جاتی نظام بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار کے مطابق ہے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے رہنما اصولوں کے برابر ہے۔

مزید برآں، تمام ایٹمی بجلی گھروں میں ماحولیاتی سروے لیبارٹریاں (ای ایس ایل) قائم کی گئی ہیں، جو مختلف ماحولیاتی عناصر کی باقاعدگی سے نگرانی کرتی ہیں اور ان نتائج کا موازنہ جوہری تنصیب کے کام شروع ہونے سے پہلے ریکارڈ کی گئی بنیادی تابکاری کی سطح سے کرتی ہیں۔ تنصیبات سے خارج ہونے والے فضلات کو مقررہ ضابطہ جاتی حدود کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے خارج کرنے سے پہلے صاف کیا جاتا ہے اور ان کی نگرانی کی جاتی ہے۔

 جوہری توانائی کا محکمہ  (ڈی اے ای) بند ایندھن چکر (کلوزڈ فیول سائیکل) کے نظام پر عمل پیرا ہے، جس میں ملکی ذرائع سے حاصل شدہ استعمال شدہ ایندھن (اسپینٹ فیول) کو ایک قیمتی وسائل کے طور پر تصور کیا جاتا ہے۔ استعمال شدہ ایندھن کے زیادہ تر مفید اجزا کو دوبارہ پراسیس کر کے مستقبل کے ری ایکٹروں کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔دوبارہ پروسیسنگ کے دوران پیدا ہونے والے اعلیٰ سطح کے تابکاری فضلے کو وٹریفیکیشن نامی عمل کے ذریعے شیشے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ تقسیم کاری (پارٹیشننگ) کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے طویل عرصے تک فعال رہنے والے تابکار اجزا، جن میں ایکٹینائیڈز شامل ہیں، کو الگ کیا جا سکتا ہے اور اعلیٰ سطح کے تابکار ی فضلے سے مفید ریڈیو آئسوٹوپس حاصل کیے جا سکتے ہیں، جنہیں سماجی اور عوامی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل سے وٹریفیکیشن سے پہلے فضلے کے حجم میں نمایاں کمی ممکن ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں گہرے ارضیاتی ذخیرے (ڈیپ جیولوجیکل ریپوزٹری) کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے۔

یہ معلومات وزیر اعظم کے دفتر اور عملہ ، عوامی شکایات اور پنشن ، جوہری توانائی اور خلا کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

********

ش ح۔ش آ۔رض

U-925


(रिलीज़ आईडी: 2291628) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Urdu , हिन्दी