ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: جوہری توانائی مشن
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 4:13PM by PIB Delhi
ملک کی توانائی کے تحفظ، صاف توانائی کی پیداوار اور نیٹ زیرو اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے وکست بھارت کے لیے ایک پرعزم جوہری توانائی مشن کا اعلان کیا ہے، جس کا ہدف 2047 تک ملک میں جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت کو 100 گیگاواٹ تک پہنچانا ہے۔ حکومت نے عوامی اور نجی دونوں شعبوں کی وسیع تر شمولیت کو ممکن بنانے کے لیے شانتی ایکٹ بھی نافذ کیا ہے۔مذکورہ ہدف کے حصول میں ملکی سطح پر تیار کی گئی پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹر (پی ایچ ڈبلیو آر) ٹیکنالوجی پر مبنی جوہری بجلی گھروں سے نمایاں کردار ادا کرنے کی توقع کی گئی ہے۔ مزید برآں، حکومت نے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آرز) اور دیگر جدید جوہری ٹیکنالوجیز کے شعبے میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کو فروغ دینے کے لیے بھی متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔فاسٹ بریڈر ری ایکٹرز کی توسیع کے سلسلے میں، حکومتِ ہند نے تمل ناڈو کے کلپکم میں 500 میگاواٹ صلاحیت کے دو فاسٹ بریڈر ری ایکٹرز (ایف بی آر-1 اور ایف بی آر-2) کے منصوبے کی ابتدائی سرگرمیوں کی منظوری دے دی ہے۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران کسی بھی نئے جوہری توانائی پروجیکٹوں کی منظوری نہیں دی گئی ہے ۔ تاہم، جوہری توانائی کے شعبے میں درج ذیل اہم کامیابیاں حاصل کی گئیں:
اکیس سو میگاواٹ کی اضافی پیداواری صلاحیت کا اضافہ کیا گیا، جس میں کے اے پی پی-3 اور 4 (2 × 700 میگاواٹ) اور آر اے پی پی-7 (700 میگاواٹ) کے تجارتی آپریشن کا آغاز شامل ہے۔
وزیر اعظم نے راجستھان کے بانسواڑہ میں ماہی بانسواڑہ راجستھان ایٹمی توانائی پروجیکٹ کے یونٹ 1 سے 4 کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس پروجیکٹ پر نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این پی سی آئی ایل) کی ذیلی کمپنی اشونی ، جو این پی سی آئی ایل اور این ٹی پی سی کا مشترکہ ادارہ ہے، عمل درآمد کر رہی ہے۔
ٹی اے پی ایس-1 اور 2، جو دنیا کے قدیم ترین فعال جوہری ری ایکٹرز ہیں، بڑے پیمانے پر تزئین و مرمت کے کام کی کامیاب تکمیل کے بعد دوبارہ فعال کر دیے گئے۔
کرناٹک میں کائیگا جوہری توانائی منصوبے کے یونٹ 5 اور 6 کی تعمیر تمام قانونی اور ضابطہ جاتی منظوریوں کے حصول کے بعد پہلی مرتبہ کنکریٹ ڈالنے (فرسٹ پور آف کنکریٹ - ایف پی سی) کے مرحلے سے باضابطہ طور پر شروع کر دی گئی۔
پی ایف بی آرنے 6 اپریل 2026 کو کریٹیکلٹی حاصل کر لی۔
حکومت نے شَانتی ایکٹ نافذ کیا ہے تاکہ جوہری توانائی کے شعبے میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کی وسیع تر شمولیت کو ممکن بنایا جا سکے۔ شَانتی ایکٹ، 2025 کے تحت قواعد وضع کیے جانے کے بعد ریاستیں، صنعتیں اور تحقیقی ادارے حکومت کے ساتھ تعاون کر سکیں گے۔
یہ معلومات وزیر اعظم کے دفتر اور عملہ ، عوامی شکایات اور پنشن ، جوہری توانائی اور خلا کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں ۔
********
ش ح۔ ۔رض
U-922
(रिलीज़ आईडी: 2291623)
आगंतुक पटल : 10