ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
پی ایم سیتو
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 4:16PM by PIB Delhi
پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائبلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹی آئیز (پی ایم-ایس ای ٹی یو)اسکیم کا مقصد ملک میں پیشہ ورانہ تربیت کے مجموعی معیار اور اس کی افادیت کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے تحت جدید لیبارٹریاں، جدید مشینیں اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ نصاب فراہم کرکے صنعتی تربیتی اداروںکو اپ گریڈ کیا جائے گا۔
اس اسکیم کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
- صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئی) اور قومی مہارتی تربیتی اداروں (این ایس ٹی آئی) میں تربیت کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنانا؛
- بنیادی ڈھانچے اور آلات کو صنعت کے معیارات کے مطابق جدید بنانا؛
- صنعت سے ہم آہنگ طویل مدتی اور قلیل مدتی کورسز، خصوصاً نئے اورترقی پذیر شعبوں میں متعارف کرانا؛
- مانگ پر مبنی مہارتی تربیت اور بہتر روزگار کے نتائج کے لیے صنعت کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانا؛ اور
- تربیت کاروں کی تربیت کے لیے این ایس ٹی آئی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا۔
اس اسکیم کے دو اجزاء ہیں:
(i) جز اوّل۔ ہب اور اسپوک ماڈل کے تحت ایک ہزار سرکاری آئی ٹی آئی کو جدید بنایا جائے گا، جن میں 200 ہب آئی ٹی آئی اور 800 اسپوک آئی ٹی آئی شامل ہیں۔ اس جدیدکاری کے تحت اسمارٹ کلاس رومز، جدید تجربہ گاہیں، ڈیجیٹل تعلیمی مواد اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ نئے کورسز متعارف کرائے جائیں گے۔
(ii) جز دوم۔ بھونیشور، چنئی، حیدرآباد، کانپور اور لدھیانہ میں واقع پانچ این ایس ٹی آئی کی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے تحت مختلف شعبوں کے لیے قومی مراکزِ امتیاز قائم کیے جائیں گے تاکہ عالمی شراکت داری کے ساتھ تربیت کاروں کی اعلیٰ سطح کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا سکے۔
نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی (این ایس سی) نے اینکر انڈسٹری پارٹنرز (اے آئی پی) کی جانب سے پیش کیے گئے چھ (6) اسٹریٹجک سرمایہ کاری منصوبوں (ایس آئی پی)کی منظوری دے دی ہے، جن میں تین تلنگانہ، ایک آندھرا پردیش، ایک اڈیشہ اور ایک گجرات سے تعلق رکھتا ہے۔ منظور شدہ کلسٹروں اور متعلقہ اینکر انڈسٹری پارٹنرزکے ناموں کی تفصیلات ضمیمہ-اوّل میں دی گئی ہیں۔
(ب) اور (ج) کسی کلسٹر میں شامل کیے جانے والے سرکاری آئی ٹی آئی کے انتخاب کے معیار کا تعین متعلقہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے، صنعتوں سے مشاورت کے بعد کرتے ہیں، تاکہ یہ ابھرتی ہوئی مہارتی ضروریات، مقامی صنعتی صلاحیت اور ریاستی حکومتوں و صنعتی شراکت داروں کی مشترکہ ذمہ داری اور تعاون سے ہم آہنگ ہو۔
اس اسکیم کے تحت صنعت کی قیادت میں قائم اسپیشل پرپز وہیکلز (ایس پی وی) صنعتی تربیتی اداروں کی جدیدکاری کی قیادت کریں گے۔ انہیں مقامی صنعت کی ضروریات اور اسکیم کے رہنما اصولوں، بشمول آٹوموبائل شعبے، کے مطابق نصاب کی ازسرِنو تشکیل، تربیت کی فراہمی کے طریقۂ کار، بنیادی ڈھانچے کی جدیدکاری، صنعتی ماحول سے عملی آگاہی، روزگار کی فراہمی اور خود روزگاری کے فروغ سے متعلق ضروری اقدامات تجویز کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
اس اسکیم پر عمل درآمد کی نگرانی نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی (این ایس سی) کر رہی ہے، جس میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور صنعتی شراکت داروں کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ کمیٹی مجموعی پالیسی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے (یو ٹی) کے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں قائم ریاستی اسٹیئرنگ کمیٹیاں (ایس ایس سی) ریاستی سطح پر اسکیم کی پیش رفت کی نگرانی کرتی ہیں۔ اسکیم میں مؤثر عمل درآمد اور مطلوبہ نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ نگرانی، کارکردگی کا جائزہ اور تیسرے فریق کے ذریعے اثرات کا جائزہ لینے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
اسکیم کے رہنما اصولوں کا مقصد یہ ہے کہ تربیت حاصل کرنے والے افراد صنعت سے متعلق مہارتیں، بشمول ڈیجیٹل، آٹوموبائل، کان کنی، مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں کی مہارتیں، حاصل کریں، حقیقی کام کے ماحول کا عملی تجربہ حاصل کریں، اور مضبوط ادارہ جاتی نظام اور صنعت سے مؤثر روابط کے ذریعے پیشہ ورانہ رہنمائی، ملازمت کے حصول میں معاونت اور خود روزگاری کے مواقع تک رسائی حاصل کر سکیں۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) نے کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) کے تحت 32 نئے دور کے کورسز متعارف کرائے ہیں۔ ان کورسز کی تفصیلات ضمیمہ-II میں دی گئی ہیں۔
(د) اسکل انڈیا مشن کے تحت، ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) عالمی سطح پر مسابقتی آٹوموبائل شعبے کے قیام کے مقصد کو فروغ دینے کے لیے مختلف مہارتی ترقی کی اسکیموں کے ذریعے معاونت فراہم کر رہی ہے، جن میں (i) پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی)، (ii) قومی اپرنٹس شپ فروغ اسکیم (این اے پی ایس)، (iii) جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس)، اور (iv) کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) شامل ہیں۔ ان اسکیموں کے تحت آٹوموبائل شعبے سے متعلق مختلف روزگار پر مبنی مہارتوں کی تربیت دی جاتی ہے، جن میں روایتی آٹوموبائل پیشوں کے ساتھ ساتھ برقی گاڑیاں (ای وی) جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں۔ 30 جون 2026 تک ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت کی مختلف اسکیموں کے تحت تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
(i) پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی):
اس اسکیم کے تحت 30 جون 2026 تک آٹوموبائل شعبے سے متعلق مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں 4,72,880 امیدواروں کو تربیت یا رہنمائی فراہم کی گئی، جن میں سے 3,62,932 امیدواروں کو تصدیق نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔
(ii) قومی اپرنٹس شپ فروغ اسکیم (این اے پی ایس):
این اے پی ایس 2.0 کے تحت 30 جون 2026 تک آٹوموٹیو شعبے میں 8,93,134 اپرنٹس اور آٹوموبائل شعبے میں 99,244 اپرنٹس کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔
مزید برآں، اپرنٹس شپ کے مواقع نامزد پیشوں اور اختیاری پیشوں دونوں کے ذریعے دستیاب ہیں، جس سے آٹوموبائل صنعتوں کو یہ سہولت حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنی افرادی قوت کی مخصوص ضروریات کے مطابق اپرنٹس شپ کے تربیتی پروگرام تیار کریں اور ان پر عمل درآمد کریں۔ اس میں برقی گاڑیاں (ای وی)، آٹوموٹیو الیکٹرانکس، میکاٹرونکس، جدید مینوفیکچرنگ اور دیکھ بھال کی جدید ٹیکنالوجیز جیسے ابھرتے ہوئے شعبے بھی شامل ہیں۔اپرنٹس شپ کے اندراج اور نفاذ کو قومی اپرنٹس شپ پورٹل کے ذریعے آسان بنایا جاتا ہے، جبکہ پردھان منتری قومی اپرنٹس شپ میلے (پی ایم این اے ایم) جیسی بیداری مہمات نوجوانوں کو صنعتوں سے جوڑنے اور آٹوموبائل شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت کے دائرے کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
(iii) جے ایس ایس:جے ایس ایس کے تحت مالی سال 2018-19 سے 30 جون 2026 تک آٹوموبائل شعبے سے متعلق مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں 56,930 امیدواروں کو تربیت فراہم کی گئی۔ ان میں ہیلپر-دو/تین پہیہ گاڑی مکینک، آٹوموٹیو اسمبلی اسسٹنٹ، ڈرائیونگ اسسٹنٹ، آٹوموٹیو مینٹیننس ٹیکنیشن (برقی)، اور آٹوموٹیو باڈی ریپیئر ٹیکنیشن جیسے شعبے شامل ہیں۔
(iv) سی ٹی ایس: سی ٹی ایس (کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم )کے تحت سال 2014 سے 2025 کے دوران آٹوموٹیو شعبے سے متعلق مختلف پیشہ جاتی کورسز، مثلاً ڈیزل مکینک، موٹر وہیکل مکینک، ٹریکٹر مکینک، الیکٹرک وہیکل مکینک، پمپ آپریٹر کم مکینک، آٹو الیکٹریکل اور الیکٹرانکس مکینک، ڈرائیور کم مکینک، آٹو باڈی مرمت مکینک، آٹو باڈی پینٹنگ مکینک، زرعی مشینری مکینک، اور دو و تین پہیوں والی گاڑیوں کے مکینک میں مجموعی طور پر 12,82,285 امیدواروں نے داخلہ لیا۔
ضمیمہ-I
نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے منظور شدہ کلسٹروں کی تفصیلات
|
S. No.
|
State Name
|
Cluster Name
|
Hub ITI
|
Spoke ITIs
|
|
1
|
Andhra Pradesh
|
Visakhapatnam Cluster
|
Govt. ITI,
Kancharapalem
|
Govt ITI(Women),
Vishakhapatanam
Govt ITI ,Bobbili,
Govt. ITI,Narsipatanam
|
|
2
|
Odisha
|
Keonihar-Barbil Cluster
|
Govt. ITI,Barbil
|
Govt. ITI Anandapur, Govt. ITI Koira,
Govt. ITI Karanjia,
Govt. ITI Barkote
|
|
3
|
Gujarat
|
Surat Cluster
|
Govt. ITI, Surat
|
Govt. ITI ,Surat (Women),
Govt. ITI ,Hajira,
Govt. ITI ,Bardoli,
Govt. ITI (Women), Sachin
|
|
4
|
Telangana
|
Old City Cluster
|
Govt. ITI,
Old City
|
Govt. ITI Warangal, Govt. ITI(Boys), Nalgonda
Govt. ITI Vikarabad, Govt. ITI Panjaguda
|
|
5
|
Telangana
|
Patancheru Cluster
|
Govt. ITI, Patancheru
|
Govt. ITI Nalgonda (New),
Govt. ITI Marpally, Govt. ITI Bhongir,
Govt. ITI Shadnagar
|
|
6
|
Telangana
|
Sangareddy Cluster
|
Govt. ITI,
Sangareddy
|
Govt. ITI Hathnoora, Govt. ITI Medak,
Govt. ITI Yellareddy, Govt. ITI Dubbaka
|
ضمیمہ-II
صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) میں جاری 32 نئے دور کے پیشہ ورانہ کورسوں کی فہرست:
|
S. No.
|
Trade Name
|
|
1
|
Additive Manufacturing (3D Printing) Technician
|
|
2
|
Aeronautical Structure and Equipment Fitter
|
|
3
|
Artificial Intelligence Programming Assistant
|
|
4
|
Advanced CNC Machining Technician
|
|
5
|
Computer Aided Manufacturing (CAM) Programmer
|
|
6
|
Cyber Security Assistant
|
|
7
|
Data Annotation Assistant
|
|
8
|
Drone Pilot (Junior)
|
|
9
|
Drone Technician
|
|
10
|
Engineering Design Technician (Artisan Using Advanced Tool)
|
|
11
|
Fiber to Home Technician
|
|
12
|
Geo Informatics Assistant
|
|
13
|
Green Hydrogen Production Technician
|
|
14
|
Industrial Internet of Things (IIoT) Technician
|
|
15
|
Industrial Robotics and Digital Manufacturing
|
|
16
|
Information Technology
|
|
17
|
Internet of Things Technician (Smart Agriculture)
|
|
18
|
Internet of Things Technician (Smart City)
|
|
19
|
Internet of Things Technician (Smart Healthcare)
|
|
20
|
Manufacturing Process Control & Automation
|
|
21
|
Mechanic Electric Vehicle
|
|
22
|
Multimedia, Animation & Special Effects
|
|
23
|
Semiconductor Technician
|
|
24
|
Small Hydro Power Plant Technician
|
|
25
|
Smartphone Technician Cum App Tester
|
|
26
|
Software Testing Assistant
|
|
27
|
Solar Technician (Electrical)
|
|
28
|
Technician Mechatronics
|
|
29
|
Virtual Analysis and Designer – FEM (Finite Element Method) (Basic Designer and Virtual Verifier)
|
|
30
|
Wind Plant Technician
|
|
31
|
5G Network Technician
|
|
32
|
Nuclear Power Plant Technician
|
یہ معلومات ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں ۔
********
ش ح۔ش آ ۔رض
U-912
(रिलीज़ आईडी: 2291554)
आगंतुक पटल : 7