وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی تعلیمی اداروں میں خالی اسامیاں

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 7:08PM by PIB Delhi

مرکزی تعلیمی اداروں میں اسامیوں کا پیدا ہونا اور ان پر تقرری کا عمل ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ نئی اسامیاں ترقی، ریٹائرمنٹ، استعفیٰ، وفات، نئے تعلیمی اداروں، منصوبوں یا اسکیموں کے آغاز، طلبہ کی تعداد میں اضافے اور موجودہ اداروں کی توسیع کے باعث پیدا ہوتی رہتی ہیں۔

چونکہ تعلیم بھارتی آئین کی مشترکہ فہرست  کا موضوع ہے، اس لیے ملک کے بیشتر اسکول متعلقہ ریاستی حکومتوں یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے تحت کام کرتے ہیں۔

اگست 2021 میں وزارتِ تعلیم نے اپنے ماتحت تمام مرکزی اعلیٰ تعلیمی اداروں (سی ایچ ای آئی ایس) کو ہدایت دی تھی کہ وہ مشن موڈ میں خصوصی بھرتی مہم چلا کر خالی اور بیک لاگ اسامیوں کو پُر کریں۔ اس مہم کے تحت درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے مختص خالی اسامیوں کو بھی بھرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

اس کے بعد ستمبر 2022 میں وزارتِ تعلیم نے ایک بار پھر تمام مرکزی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مشن موڈ میں بھرتی کا عمل تیز کرنے کی ہدایت دی۔ بعد ازاں اکتوبر 2025 میں بھی تمام اداروں سے کہا گیا کہ وہ تمام بیک لاگ اسامیوں کو جلد از جلد پُر کریں۔

ستمبر 2022 سے تمام مرکزی اعلیٰ تعلیمی ادارے مسلسل مشن موڈ بھرتی مہم چلا رہے ہیں۔ 23 مئی 2026 (یعنی آخری روزگار میلے کی تاریخ) تک ان اداروں میں 32,114 اسامیاں پُر کی جا چکی ہیں، جن میں 18,757 تدریسی اسامیاں شامل ہیں۔

قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 پر عمل درآمد ایک مسلسل جاری عمل ہے۔ وزارتِ تعلیم کے مختلف خودمختار ادارے اس پالیسی کی مختلف شقوں کو مرحلہ وار نافذ کر رہے ہیں اور اس کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت بالخصوص دیہی اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے لیے نئی عمارتوں کی تعمیر، اضافی کلاس رومز، تعلیمی سہولیات کی بہتری، خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے لیے رکاوٹوں سے پاک رسائی، اور صفائی و حفظانِ صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

سمگر شکشا، پی ایم شری (پی ایم-ایس ایچ آر آئی) اور پی ایم اوشا (پی ایم –یو ایس ایچ اے) جیسی اسکیمیں محفوظ، جامع اور معیاری تعلیمی ماحول کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسی طرح پی ایم پوشن اور پی ایم ودیا لکشمی جیسی اسکیمیں طلبہ کو غذائیت اور مالی معاونت فراہم کرکے انہیں تعلیم جاری رکھنے میں مدد دیتی ہیں اور اسکول چھوڑنے کے رجحان کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اہداف کے حصول میں نمایاں پیش رفت درج ذیل اقدامات کے ذریعے ہوئی ہے:دِکشا (ڈی آئی کے ایس ایچ اے) پلیٹ فارم کو تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور خودمختار اداروں نے اختیار کر لیا ہے۔200 پی ایم ای ودیا) پی ایم ای وی آئی ڈی وائی) ڈی ٹی ایچ ٹی وی چینلز اور ریڈیو خدمات کے ذریعے تعلیمی مواد فراہم کیا جا رہا ہے۔نِشٹھا (این آئی ایس ایچ ٹی ایچ اے) پروگرام کے تحت ملک گیر سطح پر اساتذہ کی وسیع پیمانے پر تربیت کی گئی ہے۔ہندوستانی اشاروں کی زبانپر مبنی مواد، پراشاست 2.0 اور دیگر قابلِ رسائی تعلیمی وسائل کے ذریعے جامع ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دیا گیا ہے۔سمگرا شکشا کے آئی سی ٹی (اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی) جزو کے تحت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی پر مبنی تدریس کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

ان تمام اقدامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مقاصد مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔

سمگر شکشا کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پری اسکول سے بارہویں جماعت تک ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ اس اسکیم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو اسکولوں کے طبعی اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سمگر شکشا کے تحت مختص اور استعمال کیے گئے فنڈز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

مالی سال

مرکزی حکومت کی جانب سے مختص حصہ (لاکھ روپے میں)

PRABANDH کے مطابق اخراجات (ریاستی حصہ سمیت) (لاکھ روپے میں)

2021-22

34,67,173.25

43,56,183.43

2022-23

44,49,394.26

51,95,854.48

2023-24

45,64,755.29

57,13,287.32

2024-25

47,46,073.05

56,69,470.92

2025-26

47,67,633.57

58,54,423.27

Total

2,19,95,029.42

2,67,89,219.41

 

ڈیجیٹل تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں، وزارت تعلیم نے کئی اقدامات کیے ہیں ۔ تقریبا تمام جواہر نوودیہ ودیالیہ (جے این وی) جو بنیادی طور پر دیہی علاقوں میں واقع ہیں ، ڈیجیٹل تعلیم کو آسان بنانے کے لیے سمارٹ کلاس رومز، کمپیوٹر لیبارٹریز، ڈیجیٹل آلات جیسے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ اور قابل اعتماد انٹرنیٹ کنیکٹوٹی سے لیس ہیں۔ ڈیجیٹل لرننگ کو دکشا، پی ایم ایوڈیا، ای-پاٹھ شالہ، ستی (سیلف اسسمنٹ، ٹیسٹ اور داخلہ امتحانات کے لیے مدد) سویم پلس (ینگ ایسپائرنگ مائنڈز کے لیے ایکٹیو لرننگ کی اسٹڈی ویب سائٹس) سویم ایم او او سی (ماسیو اوپن آن لائن کورسز) این آئی او ایس (نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ) پورٹل، یوٹیوب چینلز، پی ایم ایوڈیا ڈی ٹی ایچ چینلز، مکتا ودیا وانی ریڈیو، تارا (ٹیچر اسسٹنٹ فار ریڈنگ اسسمنٹ) ایپ، سمگام پورٹل اور پرساد (پری اسسمنٹ ہولسٹک اسکریننگ ٹول) ایپ جیسے پلیٹ فارمز کے وسیع استعمال کے ذریعے بھی مضبوط کیا گیا ہے ۔

یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں تعلیم کے وزیرِ مملکت، ڈاکٹر سوکانتا مجمدار نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

****

(ش ح۔م ع۔ م ذ۔)

UR No.909


(रिलीज़ आईडी: 2291480) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी