وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

معیاری تعلیم تک رسائی

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 6:32PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اسکولی تعلیم و خواندگی کا محکمہ اسکولی تعلیم کے لیے مربوط مرکزی معاونت یافتہ اسکیم سمگر شکشا نافذ کر رہا ہے، جو پری اسکول سے جماعت بارہویں تک تعلیم کے تمام مراحل کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ اسکیم قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مطابق مرتب کی گئی ہے تاکہ تمام بچوں کو مساوی، جامع اور معیاری تعلیم کے ساتھ ایسا تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے جو ان کے مختلف سماجی پس منظر، لسانی ضروریات، تعلیمی صلاحیتوں اور سیکھنے کے عمل میں فعال شرکت کو یقینی بنائے۔

حکومت نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو معیاری اور جامع اسکولی تعلیم کے فروغ کے لیے مختلف سرگرمیوں کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ ان میں سینئر سیکنڈری سطح تک نئے اسکولوں کا قیام اور موجودہ اسکولوں کو مضبوط بنانا، اسکولی عمارتوں اور اضافی کلاس رومز کی تعمیر، وائبرنٹ ولیج پروگرام کے تحت سرحدی علاقوں میں اسکولی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، پی ایم جن من کے تحت انتہائی کمزور قبائلی گروہوں کے لیے ہاسٹلوں کی تعمیر، نیتا جی سبھاش چندر بوس آواسیہ ودیالیوں کا قیام، دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اتکرش ابھیان کے تحت درج فہرست قبائل کی غیر مستفید آبادی کے لیے ہاسٹلوں کی تعمیر، مستحق طلبہ کو مفت یونیفارم اور ابتدائی سطح پر مفت نصابی کتابوں کی فراہمی، ٹرانسپورٹ الاؤنس اور داخلہ و حاضری برقرار رکھنے کی مہمات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسکول سے باہر بچوں کو رسمی تعلیمی نظام سے جوڑنے کے لیے عمر کے مطابق خصوصی تربیت، رہائشی اور غیر رہائشی تربیتی پروگرام، موسمی ہاسٹل، رہائشی کیمپ، کام کی جگہوں پر خصوصی تربیتی مراکز، ٹرانسپورٹ اور اسکارٹ سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت ہنرمندی کی تعلیم اور مربوط سائنس و ریاضی لیبارٹریوں کے قیام کے لیے بھی معاونت فراہم کر رہی ہے۔

وزارت نے کہا کہ پی ایم ای ودیا پروگرام قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت ڈیجیٹل، آن لائن اور نشریاتی تعلیم سے متعلق تمام اقدامات کو یکجا کرتا ہے تاکہ ملک بھر میں مختلف ذرائع سے تعلیم تک رسائی ممکن ہو سکے۔ اس پروگرام کے تحت جماعت اول سے بارہویں تک مختلف بھارتی زبانوں میں تکمیلی تعلیم فراہم کرنے کے لیے 200 ڈی ٹی ایچ ٹی وی چینلز اور 400 ریڈیو چینلز دستیاب ہیں۔

حکومت نے بتایا کہ پی ایم شری ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہے، جس کا مقصد مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مقامی اداروں کے زیر انتظام 14,500 سے زائد موجودہ اسکولوں کو مضبوط بنانا ہے۔ ان اسکولوں کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تمام اقدامات کا مثالی نمونہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے آس پاس کے دیگر اسکولوں کے لیے رہنما کردار ادا کر سکیں۔

وزارت کے مطابق مختلف اسکیموں کے تحت سالانہ منصوبے متعلقہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے اپنی ترجیحات اور ضروریات کے مطابق، خصوصاً دیہی اور محروم علاقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کرتے ہیں۔ ان منصوبوں کا جائزہ اسکولی تعلیم و خواندگی کے محکمے کا پروجیکٹ اپروول بورڈ متعلقہ ریاستوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اسکیم کے مالی اور پروگراماتی اصولوں کے مطابق لیتا ہے۔

اسی کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے سمگر شکشا کے تحت ریاست پنجاب کے لیے 722.93 کروڑ روپے کی مرکزی حصہ داری منظور کی گئی ہے، جبکہ پی ایم شری کے تحت پنجاب کے 356 اسکولوں کے لیے 140.10 کروڑ روپے کی مرکزی حصہ داری منظور کی گئی ہے تاکہ ریاست میں معیاری اور جامع تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔

حکومت نے واضح کیا کہ تعلیم آئین کی مشترکہ فہرست کا موضوع ہے اور ملک کے بیشتر اسکول متعلقہ ریاستی حکومتوں یا مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے انتظامی دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ سمگر شکشا کے جامع تعلیم پروگرام کے تحت خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے لیے شناختی اور تشخیصی کیمپ، معاون آلات، لکھنے والے معاون، سفری و اسکارٹ الاؤنس، بریل کتابیں، بڑے حروف والی کتابیں، خصوصی ضرورت رکھنے والی طالبات کے لیے وظیفہ، تدریسی مواد اور دیگر سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ عام اسکولوں میں اپنی تعلیمی ضروریات پوری کر سکیں۔

بلاک سطح پر علاجی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے، جبکہ اسکولوں میں ریمپ، ہینڈ ریل اور خصوصی ضرورت رکھنے والے بچوں کے لیے موزوں بیت الخلا جیسی رکاوٹ سے پاک بنیادی سہولتوں کی تعمیر کی بھی گنجائش موجود ہے۔

وزارت نے بتایا کہ حکومت نو بھارت ساکشرتا کاریہ کرم (اُلّاس) بھی نافذ کر رہی ہے، جو 2022-23 سے 2026-27 تک جاری رہے گا۔ یہ پروگرام قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے غیر خواندہ افراد کو خواندگی فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس میں دیہی علاقوں، درج فہرست ذاتوں و قبائل کی بڑی آبادی والے اضلاع، تعلیمی لحاظ سے پسماندہ علاقوں اور خواتین پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

یہ پروگرام آن لائن، آف لائن یا مخلوط طریقہ کار سے نافذ کیا جا رہا ہے اور رضاکارانہ خدمات کے ذریعے بنیادی خواندگی اور حسابی صلاحیتیں سکھانے پر مبنی ہے۔ لداخ، میزورم، تریپورہ، گوا، ہماچل پردیش، انڈمان و نکوبار جزائر، چندی گڑھ، سکم اور اتراکھنڈ مکمل خواندگی کا اعلان کر چکے ہیں۔

مرکزی حکومت نے مزید بتایا کہ سمگر شکشا کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو موجودہ سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس میں عمارتوں، لڑکوں، لڑکیوں اور خصوصی ضرورت رکھنے والے بچوں کے لیے بیت الخلا، پینے کے پانی، بجلی اور ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی شامل ہے۔ یہ منصوبے ریاستوں کی سالانہ ورک پلان اور بجٹ تجاویز اور یونفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کیے جاتے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ اسکولی تعلیم و خواندگی کا محکمہ وقتاً فوقتاً جائزہ اجلاسوں اور پروجیکٹ اپروول بورڈ کی میٹنگوں کے ذریعے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ سے اسکولی بنیادی ڈھانچے کی کمیوں کو جلد از جلد دور کرنے کی درخواست کرتا رہتا ہے۔

یہ معلومات وزارت تعلیم میں وزیر مملکت جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب   میں  فراہم کیں۔

***

ش ح ۔   ف ا  ۔  م  ص

U : 893


(रिलीज़ आईडी: 2291413) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी