وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

تعلیم میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے سی اے بی ای کی میٹنگ

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 6:22PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مؤثر اور جامع نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے وزارت تعلیم نے مختلف شعبہ ہائے تعلیم سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین پر مشتمل ایجوکیشن ایڈوائزری کونسل (ایڈاک) تشکیل دی ہے، جو پالیسی کے نفاذ سے متعلق اہم امور پر وزارت کو مشورہ دے گی اور اسکولی و اعلیٰ تعلیم میں اس کے مربوط، جامع اور ہم آہنگ نفاذ کو فروغ دے گی۔

وزارت تعلیم نے بتایا کہ 21 ستمبر 2019 کو سنٹرل ایڈوائزری بورڈ آف ایجوکیشن (سی اے بی ای) کا خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں قومی تعلیمی پالیسی کے مسودے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ این ای پی 2020 میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس پالیسی کا کامیاب نفاذ طویل مدتی وژن، مسلسل مہارت اور قومی، ریاستی، ادارہ جاتی اور انفرادی سطح پر مربوط کوششوں کا متقاضی ہے۔

اسی مقصد کے تحت پالیسی میں سی اے بی ای کو مزید مضبوط اور بااختیار بنانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ اسے مشاورتی پلیٹ فارم کے طور پر وسعت دی جا سکے اور وہ تعلیمی وژن کی تشکیل، اظہار، جائزہ اور ازسرنو تجزیے کے ساتھ ساتھ این ای پی 2020 کے اہداف کے حصول کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے کا بھی جائزہ لے سکے۔

وزارت کے مطابق، ایڈاک وزارت تعلیم کو قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ سے متعلق اہم پہلوؤں پر مشورہ دینے، اسکولی اور اعلیٰ تعلیم میں اس کے جامع، ہم آہنگ اور منظم نفاذ کو یقینی بنانے، مجموعی روڈ میپ تیار کرنے، جاری اقدامات کا جائزہ لے کر ضروری اصلاحات کی سفارش کرنے اور سی اے بی ای کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تجاویز پیش کرنے کی ذمہ داری انجام دے گی۔

حکومت نے کہا کہ وہ تعاون پر مبنی وفاقی نظام (کوآپریٹو فیڈرلزم) کو بہت اہمیت دیتی ہے اور تعلیم سے متعلق امور پر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری رکھتی ہے۔

وزارت نے بتایا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اعلان کے بعد سے ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، ماہرین تعلیم، صنعت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مختلف ادارہ جاتی فورمز پر باقاعدگی سے مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ تعلیمی پالیسیوں اور اصلاحات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

ان اہم میٹنگوں  میں جون 2022 کی قومی وزرائے تعلیم کانفرنس، 2022، 2023 اور 2025 کی قومی چیف سکریٹریز کانفرنس، 2022، 2024 اور 2026 میں نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کے ساتویں، نویں اور گیارہویں  میٹنگ، اکتوبر اور دسمبر 2022 کی ریاستی جائزہ میٹنگیں، فروری، مارچ، مئی اور جون 2023 کی زون وار مشاورتی میٹنگیں، نومبر 2021 کی ایک قومی اور دو علاقائی ورکشاپس، جولائی 2025 کی نصاب، تشخیصی مساوات اور تعلیمی نتائج سے متعلق قومی کانفرنس، 2022، 2023، 2024 اور 2025 کے اکھل بھارتیہ شکشا سماگم، 2021 اور 2024 کی گورنرز کانفرنس اور نومبر 2024 میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سیکریٹریوں کے ساتھ اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم سے متعلق قومی ورکشاپ شامل ہیں۔

وزارت نے مزید بتایا کہ 22 اور 23 جولائی 2026 کو نئی دہلی میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے تعلیم کا دو روزہ کانکلیو بھی منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کے تعلیمی پالیسی سازوں نے اسکولی تعلیم سے متعلق مرکزی معاونت یافتہ اہم اسکیموں کے نفاذ کا جائزہ لیا اور بہتر تعلیمی نتائج کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون اور معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا۔

حکومت کے مطابق، ایسی تمام  میٹنگیں اور مشاورتی عمل تعلیمی اصلاحات کی مشترکہ پالیسی سازی، ان کے جائزے اور مؤثر نفاذ کے لیے مستقل پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔

یہ معلومات وزارت تعلیم میں وزیر مملکت ڈاکٹر سکانت مجمدار نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب  میں فراہم کیں۔

************

ش ح ۔   ف ا  ۔  م  ص

(U :891  )


(रिलीज़ आईडी: 2291394) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी