وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 6:26PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کی سفارشات کے مطابق اسکولی اور اعلیٰ تعلیم میں ہنرمندی پر مبنی اور عملی تجربے پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے تحت سمگر شکشا اسکیم میں جماعت ششم سے بارہویں تک کے طلبہ کے لیے ہنرمندی کی تعلیم کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔

وزارت تعلیم نے بتایا کہ جماعت ششم سے ہشتم تک کے طلبہ کو قبل از پیشہ ورانہ تعلیم کے ذریعے ہنرمندی سے روشناس کرایا جاتا ہے، جس میں 10 بیگ لیس دن، نصابی کتابوں سے ہٹ کر عملی تعلیمی پروگرام اور این سی ای آر ٹی کی سرگرمیوں پر مبنی کتابوں کی سیریز "کوشل بودھ" شامل ہیں۔

جماعت نہم سے بارہویں تک قومی ہنرمندی اہلیت فریم ورک کے مطابق ہنرمندی پر مبنی کورسز پڑھائے جا رہے ہیں، جن میں ثانوی سطح پر اسکل ماڈیول اضافی مضمون جبکہ اعلیٰ ثانوی سطح پر اختیاری مضمون کے طور پر شامل ہیں۔

وزارت کے مطابق اعلیٰ تعلیم میں کمیونٹی کالجز، بی ووک ڈگری پروگرامز اور دین دیال اُپادھیائے مراکز برائے حصول علم، مہارتوں میں اضافہ اور روزگار کے ذریعے ہنرمندی پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

اسی طرح یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور آل انڈیا کونسل برائے تکنیکی تعلیم نے اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام 2025 کے رہنما اصول جاری کیے ہیں، جس کے تحت قومی اپرنٹس شپ ٹریننگ اسکیم کے ذریعے طلبہ کو تعلیمی تعلیم کے ساتھ صنعتوں میں تربیت، عملی تجربہ اور ملازمت سے متعلق مہارتیں حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

حکومت نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، کوانٹم ٹیکنالوجی، خلائی ٹیکنالوجی، پائیدار توانائی، انٹرنیٹ آف تھنگز، روبوٹکس اور سیمی کنڈکٹرز جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی ہنرمندی پر مبنی پروگرام شروع کیے گئے ہیں تاکہ نوجوانوں میں روزگار اور کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔

وزارت تعلیم نے کہا کہ سمگر شکشا کے تحت پی ایم ای ودیا اور دکشا جیسے آئی سی ٹی اور ڈیجیٹل اقدامات کے ذریعے ملک بھر کے سرکاری اسکولوں، خصوصاً دیہی، دور دراز اور قبائلی علاقوں میں ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

اس اسکیم کے تحت ریاستوں کی سالانہ ورک پلان اور بجٹ تجاویز کے مطابق آئی سی ٹی لیبز اور اسمارٹ کلاس رومز کے قیام کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

وزارت نے بتایا کہ 17 مئی 2020 کو آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت شروع کیا گیا پی ایم ای ودیا پروگرام ڈیجیٹل، آن لائن اور نشریاتی تعلیم سے متعلق تمام اقدامات کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے تاکہ ملک بھر کے طلبہ کو مختلف ذرائع سے تعلیم تک رسائی حاصل ہو سکے۔

اس پروگرام کے تحت 200 ڈی ٹی ایچ ٹی وی چینلز اور 400 ریڈیو چینلز کے ذریعے  پہلی کلاس  سے بارہویں تک مختلف بھارتی زبانوں میں تکمیلی تعلیمی مواد فراہم کیا جا رہا ہے۔

وزارت نے کہا کہ دکشا ملک کا "ون نیشن، ون ڈیجیٹل پلیٹ فارم" ہے، جہاں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے معیاری ڈیجیٹل تعلیمی مواد، تمام جماعتوں کے لیے کیو آر کوڈ سے مزین نصابی کتابیں اور تدریسی وسائل دستیاب ہیں۔

دکشا پلیٹ فارم پر ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور خود مختار اداروں نے مادری، مقامی اور علاقائی زبانوں میں 3.67 لاکھ سے زائد تعلیمی مواد تیار کرکے اپ لوڈ کیا ہے، جبکہ اب تک 2.29 کروڑ صارفین کی جانب سے 579.41 کروڑ تعلیمی سیشن مکمل کیے جا چکے ہیں۔

اس پلیٹ فارم پر 836 سے زائد ورچوئل لیبز بھی دستیاب ہیں، جہاں طلبہ حقیقی لیبارٹری جیسے ماحول میں عملی تجربات کر سکتے ہیں۔ دکشا آن لائن اور آف لائن دونوں سہولتیں فراہم کرتا ہے، جس سے طلبہ انٹرنیٹ نہ ہونے کی صورت میں بھی مواد ڈاؤن لوڈ کر کے تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔

حکومت نے بتایا کہ مرکزی بجٹ 2025 میں بھارت نیٹ منصوبے کے تحت بی ایس این ایل کے ذریعے دیہی علاقوں کے تمام سرکاری سیکنڈری اسکولوں کو مرحلہ وار براڈبینڈ کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے۔

وزارت نے کہا کہ سمگر شکشا کے تحت شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق کم کرنے، مساوی تعلیمی مواقع، سماجی و صنفی مساوات اور شمولیت کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارم، اسمارٹ کلاس رومز اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی وسائل کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سویم، سویم پربھا، ای-پی جی پاٹھ شالہ اور یو جی سی ای-ریسورس پورٹل کے ذریعے طلبہ کو آن لائن کورسز اور تعلیمی مواد تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔

یو جی سی ای-ریسورس پورٹل کو ڈیجیٹل سیوا پورٹل سے مربوط کیا گیا ہے، جس کے ذریعے دیہی علاقوں سمیت کامن سروس سینٹرز پر بھی ڈیجیٹل تعلیمی وسائل دستیاب ہیں۔ اس پورٹل پر منتخب تعلیمی مواد علاقائی زبانوں میں بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔

وزارت نے مزید بتایا کہ اوپن اینڈ ڈسٹنس لرننگ اور آن لائن تعلیم کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک کے ذریعے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو وسعت دی گئی ہے، جبکہ مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ پروگرام کے تحت اساتذہ کی ٹیکنالوجی پر مبنی تدریسی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

مرکزی بجٹ 2026-27 میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہر ضلع میں طالبات کے لیے ہاسٹل تعمیر کرنے کی غرض سے وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ اور سرمایہ جاتی معاونت فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

اسی طرح بجٹ 2025-26 میں بھارتیہ بھاشا پستک یوجنا کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت اسکولی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے بھارتی زبانوں میں ڈیجیٹل کتابیں دستیاب کرائی جائیں گی۔

حکومت کے مطابق یہ تمام اقدامات ملک کے مختلف علاقوں میں تعلیم تک مساوی رسائی، ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ اور معیاری تعلیمی مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

یہ معلومات وزارت تعلیم میں وزیر مملکت ڈاکٹر سکانت مجمدار نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب  میں  فراہم کیں۔

************

ش ح ۔   ف ا  ۔  م  ص

(U :  892)


(रिलीज़ आईडी: 2291392) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी