قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قبائلی امور کی وزارت نے نایاب، معدومیت کے  شکار اور خطرات سے دوچار (آر ای ٹی)   طبی خصوصیات کے حامل پودوں کے تحفظ اور روایتی علم کے فروغ کے ذریعے قبائلی برادریوں کو با اختیار بنانے کے لیے سی ایس آئی آر-این بی آر آئی کے ساتھ مفاہمت  نامے پر دستخط کیے

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 5:20PM by PIB Delhi

قبائلی برادریوں کی فلاح و بہبود، پائیدار ذریعۂ معاش کو فروغ دینے اور روایتی علم کے تحفظ کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت، حکومتِ ہند کی قبائلی امور کی وزارت (ایم او ٹی اے) نے سی ایس آئی آر -  نیشنل بوٹینیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس آئی آر۔این بی آر آئی)، لکھنؤ کے ساتھ ایک مفاہمت  نامے  (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔ اس تین سالہ شراکت داری کا بنیادی مقصد  ، دونوں اداروں کے درمیان ایک مضبوط اور باہمی تعاون پر مبنی نظام قائم کرنا ہے تاکہ   پورے بھارت میں قبائلی حیاتیاتی وسائل کے تحفظ اور ان کے نباتاتی و روایتی استعمال (ایتھنو بوٹینیکل) سے متعلق تحقیق و ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

مفاہمت  نامے پر قبائلی امور کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب منیش ٹھاکر اور سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اجیت کمار شاسنی نے دستخط کیے۔ اس موقع پر قبائلی امور کی وزارت کی سکریٹری محترمہ رنجنا چوپڑا بھی موجود تھیں۔ تقریب میں سی ایس آئی آر کے چیف سائنسداں  ڈاکٹر شرد سری واستو، سی ایس آئی آر  سائنسداں  ڈاکٹر سوچترا راتھا، سی ایس آئی آر  سائنسداں  ڈاکٹر منیش بھویار کے علاوہ قبائلی امور کی وزارت کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔

 

 

سائنسی تحقیق میں قبائلی فلاح و بہبود کو مرکزی حیثیت

اس معاہدے کے تحت قبائلی فلاح و بہبود اور برادریوں کی  سالمیت ، تمام سائنسی سرگرمیوں کی بنیادی اساس ہوں گی۔ یہ شراکت داری نایاب، معدومیت کے  شکار اور خطرے سے دوچار (آر ای ٹی)  طبی خصوصیات  کے حامل پودوں  کی اقسام کے تحفظ پر خصوصی توجہ مرکوز کرتی ہے، جس کے لیے جدید اقدامات، بشمول ٹشو کلچر کی سہولیات اور خصوصی بیج بینکوں کی تیاری جیسے اقدامات اختیار کیے جائیں گے۔ طویل مدتی، برادری کی نگرانی میں پائیدار تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی قبائلی نوجوانوں کو  ، ان پودوں کی افزائش اور تحفظ کی تکنیکوں میں عملی صلاحیت سازی اور تکنیکی تربیت فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں، تمام میدانی جائزوں اور تحقیقی سرگرمیوں کے لیے مقامی گرام سبھاؤں اور قبائلی برادریوں کی پیشگی باخبر رضامندی (پی آئی سی) لازمی ہوگی اور حیاتیاتی تنوع ایکٹ، 2002 کی مکمل پابندی کی جائے گی۔ ہر مشترکہ منصوبے کی تجویز میں نچلی سطح پر برادری کی ترقی، مقامی سطح پر قدر میں اضافے اور صلاحیت سازی کے لیے الگ بجٹ مختص کیا جائے گا۔ مقامی مفادات کے تحفظ کے لیے  ، اس شراکت داری سے پیدا ہونے والے تمام حقوقِ دانشورانہ ملکیت قبائلی امور کی وزارت اور سی ایس آئی آر - این بی آر آئی کی مشترکہ ملکیت ہوں گے، جنہیں تعاون کرنے والی قبائلی برادریوں کے مفاد میں امانت کے طور پر رکھا جائے گا یا ان کے ساتھ منصفانہ بنیاد پر شریک کیا جائے گا، جب کہ اس سے حاصل ہونے والے مالی فوائد قومی یا ریاستی حیاتیاتی تنوع فنڈز اور قبائلی امور کی وزارت کی مخصوص فلاحی اسکیموں کے ذریعے واپس قبائلی برادریوں تک پہنچائے جائیں گے۔ اس معاہدے میں روایتی علم کو قبائلی عوام کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس کے غیر مجاز تجارتی استعمال کی روک تھام کے لیے رسائی اور فوائد کی شراکت کے قومی نظام پر سختی سے عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔

روایتی علم اور جدید سائنس کے درمیان رابطہ

مشترکہ موضوعاتی تقریبات، سیمیناروں اور روایتی معالجین اور سائنس دانوں کے درمیان مسلسل تبادلے کے پروگراموں کے ذریعے قبائلی امور کی وزارت قبائلی برادریوں کے روایتی علم کو جدید نباتاتی سائنس سے جوڑنے کی کوشش کرے گی۔ قبائلی نوجوانوں کو با اختیار بنانے اور مقامی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے ذریعے  ، یہ شراکت داری اس بات کو یقینی بنائے گی کہ حیاتیاتی وسائل کا تحفظ براہِ راست پائیدار برادری کی ترقی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں تبدیل ہو۔

 

 

***

) ش ح – ا  ک       -  ع ا )

U.No. 871


(रिलीज़ आईडी: 2291301) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी