خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
حکومتِ ہند بچوں کی حفاظت، سکیورٹی اور ان کی خوشحالی کو یقینی بنانے کو سب سے اعلیٰ ترجیح دیتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 3:35PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند بچوں کی حفاظت، سکیورٹی اور ان کی بہتری و خوشحالی کو یقینی بنانے کو سب سے اعلیٰ ترجیح دیتی ہے۔ بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کا قانون، 2012 (پوکسو) اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو جنسی جرائم اور پورنوگرافی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک جامع اور صنف سے بالاترقانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ یہ قانون جرائم کی نوعیت کی سنگینی کے متناسب تدریجی سزاؤں کا تعین کرتا ہے اور ترمیم کے ذریعے سزاؤں کو مزید سخت کر کے اسے مزید مضبوط بنایا گیا ہے، جس میں کچھ شدید قسم کے پینٹریٹیو جنسی حملوں کے جرائم کے لیے سزائے موت بھی شامل ہے۔ یہ قانون بچوں کے موافق طریقۂ کار کو بھی شامل کرتا ہے، جیسے کہ جرائم کی لازمی رپورٹنگ (دفعہ 19)، بیانات کی بچوں کے لیے سازگار ریکارڈنگ اور طبی معائنہ (دفعہ 24 اور 27)، اسپیشل کورٹس کا قیام (دفعہ 28)، اسپیشل کورٹ کے ذریعہ بچوں کے موافق سماعت کے طریقۂ کار (دفعہ 33)، ان کیمرہ سماعت (دفعہ 37)، جبکہ دفعہ 42 اے کسی دوسرے قانون کے ساتھ عدم مطابقت کی صورت میں پوکسو ایکٹ کی دفعات کو فوقیت دیتی ہے۔
پوکسو ضوابط، 2020 متاثرہ بچوں کودیکھ بھال، تحفظ، بحالی اور انہیں دوبارہ معاشرے کا حصہ بنانے کے اقدامات کو یقینی بنا کر قانون کے نفاذ کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہ ضوابط بچے اور سرپرست کی رضامندی سے ایک سپورٹ پرسن کی تقرری (قاعدہ 4 (8))، کارروائی کے دوران راز داری برقرار رکھنے، کیس کی پیش رفت کے بارے میں باقاعدگی سے آگاہی، بچوں کی بہبود کی کمیٹی (سی ڈبلیو سی)، بچوں کے تحفظ کی ضلع یونٹ (ڈی سی پی یو) یا قانونی خدمات سے متعلق ضلع اتھارٹی (ڈی ایل ایس اے) کے ذریعے فوری بحالی کی ضروریات کے لیے خصوصی راحت (قاعدہ 8) اور پہنچائے گئے نقصان کی نوعیت کی بنیاد پر عبوری یا حتمی معاوضے (قاعدہ 9 اور 10) کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔ معاوضے کی ادائیگی ریاستی حکومت کی طرف سے مقررہ مدت یعنی عدالت کے حکم کے 30 دنوں کے اندر قابلِ ادا ہوتی ہے، جس میں بحالی اور اس سے متعلقہ امدادی خدمات کے لیے سی ڈبلیو سی، ڈی ایل ایس اے اور ڈی سی پی یو کے ساتھ ہم آہنگی کی جاتی ہے۔
تمل ناڈو سمیت پچھلے تین سال کے دوران درج کیے گئے ایسے مقدمات کی ریاست وار تعداد، ان پر فائل کی گئی چارج شیٹ اور سزا کا باعث بننے والے مقدمات کا ڈیٹا نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کے پورٹل https://ncrb.gov.in پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) 2023 کی دفعہ 193 (2) میں کہا گیا ہے کہ بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کی دفعات 64، 65، 66، 67، 68، 70، 71 یا پوکسو ایکٹ 2012 کی دفعات 4، 6، 8 یا دفعہ 10 کے تحت کسی جرم سے متعلق تفتیش، تھانے کے انچارج آفیسر کے ذریعہ معلومات درج کیے جانے کی تاریخ سے دو ماہ کے اندر مکمل کی جائے گی۔
بی این ایس ایس 2023 کی دفعہ 346 (1) میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر انکوائری یا ٹرائل میں کارروائی روزانہ کی بنیاد پر اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ حاضر تمام گواہوں سے پوچھ تاچھ نہ کر لی جائے، الا یہ کہ عدالت کے پاس اگلی تاریخ تک ملتوی کرنے کی ایسی وجوہات ہوں جنہیں ریکارڈ کرنا ضروری ہو:
اس کا انتظام کیا گیا ہے کہ جب انکوائری یا ٹرائل بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کی دفعہ 64، دفعہ 65، دفعہ 66، دفعہ 67، دفعہ 68، دفعہ 70 یا دفعہ 71 کے تحت کسی جرم سے متعلق ہو، تو انکوائری یا ٹرائل چارج شیٹ دائر کرنے کی تاریخ سے دو ماہ کی مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا۔
مقدمات کے جلد از جلد تصفیے کی سہولت کے لیے، وزارتِ قانون و انصاف کےمحکمہ انصاف نربھیا فنڈ کے تحت فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس (ایف ٹی ایس سیز)، بشمول خصوصی پوکسو کورٹس (ای-پوکسو) کے لیے ایک مرکز کی زیرِ سرپرستی اسکیم نافذ کر رہا ہے۔ تمل ناڈو میں، اس اسکیم کے تحت 20 خصوصی پوکسو کورٹس فعال ہیں، جنہوں نے 12,184 مقدمات کا تصفیہ کیا ہے، جبکہ 9,065 مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ یہ اسکیم فی الحال 30 ستمبر 2026 تک بڑھا دی گئی ہے۔ ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور ہائی کورٹس کے ساتھ باقاعدگی سے جائزہ میٹنگیں منعقد کی جاتی ہیں، جبکہ وزرائے اعلیٰ، چیف جسٹسز اور بین ریاستی زونل کونسل کی میٹنگوں کے ساتھ خط و کتابت کے ذریعے پوکسو مقدمات کے بروقت تصفیے کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔
حکومت نے متعدد اقدامات کے ذریعے ملک بھر میں فارنسک انفراسٹرکچر اور صلاحیت کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ سینٹرل فارنسک سائنس لیبارٹری (سی ایف ایس ایل)، چنڈی گڑھ میں ایک جدید ترین (اسٹیٹ آف دی آرٹ) ڈی این اے انالسس اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی سہولت قائم کی گئی ہے، جبکہ سی ایف ایس ایلز میں مشینری اور آلات کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، جس میں مخصوص شعبے جیسے کہ نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکو ٹراپک سبسٹینسز کا فارنسک انالسس، ڈیجیٹل فارنسکس، ڈی این اے فارنسک انالسس اور فارنسک سائیکولوجی شامل ہیں۔ ڈیجیٹل فراڈ اور سائبر کرائم کے بڑے مقدمات کی تفتیش کے لیے سی ایف ایس ایل حیدرآباد میں ایک نیشنل سائبر فارنسک لیبارٹری قائم کی گئی ہے اور’’سیفٹی آف وومن‘‘ کی اسکیم کے تحت مزید چھ نیشنل سائبر فارنسک لیبارٹریز کی منظوری دی گئی ہے۔ فارنسک انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے، حکومت نے جموں (مرکزکے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر)، راجستھان، تمل ناڈو، بہار، اتر پردیش، اڈیشہ، چھتیس گڑھ اور کیرالہ میں آٹھ نئی سی ایف ایس ایلز کی منظوری دی ہے۔
حکومت نے قانونی معاوضے اور طبی امداد کے میکانزم کے ذریعے متاثرین کی بحالی کے نظام کو بھی مضبوط کیا ہے۔ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس)، 2023 کی دفعہ 396 کے تحت متاثرین کے معاوضے کی اسکیموں کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ دفعہ 397 مخصوص جرائم بشمول پوکسو ایکٹ کے تحت آنے والے جرائم کے متاثرین کے لیے مفت طبی علاج کو لازمی قرار دیتی ہے اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 200 ایسے علاج کی فراہمی سے انکار کرنے کو قابلِ سزا جرم بناتی ہے۔ پوکسو ایکٹ کی دفعہ 27 اور پوکسو ضوابط کا ضابطہ 6 بچوں کے لیے سازگار طبی معائنے، 24 گھنٹے کے اندر اندر ہنگامی طبی دیکھ بھال، فارنسک ثبوتوں کے جمع کرنے، چوٹوں کے علاج، جنسی طور پر منتقل شدہ بیماریوں کے تدارک، ایچ آئی وی پروفیلیکسس، ہنگامی حمل مانع ادویات، نفسیاتی کونسلنگ، قابلِ اطلاق قوانین کے تحت حمل سے متعلق امداد اور معذور بچوں کے لیے مناسب دیکھ بھال کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
مرکزی حکومت نے ریاستی متاثرین کے معاوضے کی اسکیموں کی تکمیل کے لیے متاثرین کے معاوضے سے متعلق مرکزی فنڈ (سی وی سی ایف) بھی قائم کیا ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتطام علاقوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جنسی حملوں اور دیگر جرائم کا شکار ہونے والی خواتین متاثرین/زندہ بچ جانے والی خواتین کے لیے نظر ثانی شدہ نالسا معاوضہ اسکیم کو نافذ کریں۔
وزارت خواتین اور بچوں کی حفاظت کے اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے وقت فوقتاً ریاستوں اور مرکزکے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ضروری پالیسی اور پروگرام سے متعلق اقدامات کرتی رہتی ہے۔
یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔
***
ش ح۔ ک ح۔ ش ہ ب
U.No. 854
(रिलीज़ आईडी: 2291299)
आगंतुक पटल : 10