ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 4:15PM by PIB Delhi
ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج )جناب جینت چودھری نےآج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت نے ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای)کے تحت ہنرمندی کے شعبے کے لیے ایک ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ (ڈی پی آئی) کے طور پر اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) تیار کیا ہے۔ 13 ستمبر 2023 کو شروع کیے گئے مذکورہ پلیٹ فارم نے ہنرمندی کے پورےنظام کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کر دیا ہے، جہاں تربیت، جانچ، سرٹیفکیشن، روزگار اور صنعت کاری سے متعلق خدمات ایک ہی جگہ دستیاب ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تربیتی اداروں، آجر اداروں اور مختلف سرکاری اسکیموں کو بھی ایک مشترکہ اور باہم مربوط نظام سے منسلک ہونے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ موبائل کو ترجیحی بنیاد بنا کر تیار کیا گیا یہ پلیٹ فارم نیشنل کیریئر سروس، ای شرم، ڈیجی لاکر اور بھاشنی جیسے دیگر سرکاری پلیٹ فارمز سے بھی منسلک ہے، جس کے ذریعےہر شہری کے لیے قابلِ رسائی، مربوط اور شہری مرکز ہنرمندی کے حکومت کے نظام کے وژن کو فروغ مل رہا ہے۔
حکومت نے اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) کے ذریعے مہارت سے متعلق سرٹیفکیشن کے نظام میں شفافیت بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ہنرمندی کے مختلف پروگراموں اور اسکیموں کے تحت اندراج، تربیت، جانچ اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے تمام مراحل ایس آئی ڈی ایچ کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر انجام دیے جاتے ہیں، جس سے شفافیت، کارکردگی اور ہر مرحلے کی نگرانی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اسکیموں اور پروگراموں سے متعلق ڈیش بورڈز بھی عوام کے لیے ایس آئی ڈی ایچ پر دستیاب ہیں، تاکہ معلومات تک آسان رسائی اور شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔
ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی مذکورہ وزارتِ (ایم ایس ڈی ای) نے جولائی 2025 میں ایس او اے آر (مصنوعی ذہانت کے لیے ہنرمندی کی تیاری) پروگرام شروع کیا، جس کا مقصد طلبہ اور اساتذہ/تربیت کاروں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق بیداری اور تیاری پیدا کرنا ہے۔مذکورہ اقدام کے تحت اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب پر خود رفتار آن لائن تعلیم کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس میں طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت کے بنیادی کورسز اور اساتذہ کے لیے ایک خصوصی پروگرام شامل ہے۔ دوسرے مرحلے میں اس اقدام کو مزید وسعت دیتے ہوئے قومی ہنرمندی اہلیت فریم ورک (این ایس کیو ایف) سے ہم آہنگ مصنوعی ذہانت اور اس کے استعمال سے متعلق 50 کورسز متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں مختلف شعبوں کے 35 کریڈٹ سے منسلک مائیکرو اسناد بھی شامل ہیں۔
پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) 4.0 کے تحت طلبہ کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور اس سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز کو تربیتی پروگراموں میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے تحت مشین لرننگ، جنریٹو مصنوعی ذہانت، ذہین خودکاری اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسے شعبوں میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ 30 جون 2026 تک اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب کی رپورٹ کے مطابق 53,449 امیدواروں نے اندراج کرایا، 39,104 کو تربیت اوربیداری فراہم کی گئی، 28,345 کا جائزہ لیا گیا، جبکہ 25,466 امیدواروں کو پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق ملازمتوں کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) نے بھی انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (آئی ٹی آئیز) اور نیشنل اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (این ایس ٹی آئیز) کے ذریعے مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ڈی جی ٹی نے مائیکروسافٹ اور آئی بی ایم جیسی معروف ٹیکنالوجی پر مبنی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے، تاکہ بھارت اسکلز پلیٹ فارم کے ذریعے مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیت فراہم کی جا سکے۔
***
( ش ح ۔ش م۔ت ا)
U. No. 864
(रिलीज़ आईडी: 2291298)
आगंतुक पटल : 5