بھاری صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان میں آٹوموبائل اور آٹو کمپوننٹ (پی ایل آئی (صنعت کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی- آٹو)

प्रविष्टि तिथि: 28 JUL 2026 6:46PM by PIB Delhi

بھاری صنعتوں کی وزارت(ایم ایچ آئی) کے زیرِ انتظام درج ذیل اسکیمیں گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور تکنیکی ترقی کے لیے چلائی جا رہی ہیں:

(i) ہندوستان میں آٹوموبائل اور آٹو کمپوننٹ صنعت کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی-آٹو):

حکومت نے ہندوستان میں آٹوموبائل اور آٹو کمپوننٹ صنعت کے لیے 23.09.2021 کو اس اسکیم کی منظوری دی تھی۔ اس اسکیم کا مقصد جدید آٹوموٹیو ٹیکنالوجی (اے اے ٹی) مصنوعات کی تیاری میں ہندوستان کی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔ اس کے لیے 25,938 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔اس اسکیم کے تحت الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) سمیت جدید آٹوموٹیو ٹیکنالوجی مصنوعات کی تیاری پر مالی مراعات فراہم کی جاتی ہیں، جن میں کم از کم 50 فیصد گھریلو قدر میں اضافہ (ڈی وی اے) ضروری ہے۔ اس کا مقصد آٹوموبائل مینوفیکچرنگ ویلیو چین میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔اس اسکیم کے تحت 31.03.2026 تک 44,326 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوجہ ہوئی ہے اور 67,820 روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ مزید برآں، اسکیم کے تحت مستفید ہونے والی کمپنیوں کی جانب سے تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) پر کیے گئے اخراجات کو سرمایہ کاری کے معیار میں شامل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاکہ وہ اپنے منصوبوں کے نفاذ میں جدید ترین ٹیکنالوجی کو شامل کر سکیں۔

(ii) نیشنل پروگرام آن ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل (اے سی سی) بیٹری اسٹوریج کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم:

حکومت نے ملک میں ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل (اے سی سی) کی تیاری کے لیے 12.05.2021 کو اس اسکیم کی منظوری دی تھی، جس کے لیے 18,100 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔اس اسکیم کا مقصد ملک میں 50 گیگا واٹ گھنٹہ (جی ڈبلیو ایچ) اے سی سی بیٹریوں کے لیے مسابقتی گھریلو مینوفیکچرنگ نظام قائم کرنا ہے، جس میں سے 40 جی ڈبلیو ایچ اے سی سی صلاحیت چار مستفید کمپنیوں کو الاٹ کی جا چکی ہے۔اس اسکیم کے تحت 1.4 جی ڈبلیو ایچ نصب شدہ صلاحیت کا ایک گیگا اسکیل اے سی سی مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے 31.05.2026 تک 5,180 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے اور 1,277 براہ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔مزید برآں، مستفید کمپنیوں کی جانب سے تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) پر کیے گئے اخراجات کو سرمایہ کاری کے معیار میں شامل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے وہ اپنے منصوبوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کو شامل کر سکیں گی۔

(iii) پی ایم الیکٹرک ڈرائیو ریوولوشن اِن اِنّویٹو وہیکل انہانسمنٹ (پی ایم ای-ڈرائیو) اسکیم:

اس اسکیم کو 01.04.2024 سے 31.03.2028 تک کے لیے 10,900 کروڑ روپے کے مالی حجم کے ساتھ منظوری دی گئی ہے۔اس اسکیم کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کی گھریلو تیاری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جن میں الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں (ای-2 ڈبلیو)، الیکٹرک تین پہیہ گاڑیاں (ای-3 ڈبلیو)، الیکٹرک ٹرکس، الیکٹرک بسیں اور الیکٹرک ایمبولینسز شامل ہیں۔یہ اسکیم الیکٹرک گاڑیوں کے عوامی چارجنگ اسٹیشنز کے قیام اور ٹیسٹنگ ایجنسیوں کی اپ گریڈیشن میں بھی معاونت فراہم کرتی ہے۔

(iv) ہندوستانی سرمایہ جاتی اشیا کے شعبے میں مسابقت بڑھانے کی اسکیم – مرحلہ دوم:

اس اسکیم کا مقصد ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دینا اور گھریلو مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس اسکیم کے ایک جزو، یعنی ’’کامن انجینئرنگ فیسلٹی سینٹرز‘‘ کے تحت  بھاری صنعتوں کی وزارتِ (ایم ایچ آئی) نے صنعت 4.0 کو فروغ دینے کے لیے 4 اسمارٹ ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اینڈ ریپڈ ٹرانسفارمیشن ہب (سمرتھ) مراکز قائم کیے ہیں۔

 بھاری صنعتوں کی وزارتِ (ایم ایچ آئی) نے سینٹر فار انڈسٹری 4.0 (سی فور آئی فور)، پونے کے ذریعے ملک بھر میں 10 کلسٹر انڈسٹری 4.0 ایکسپیرینس سینٹرز کے قیام کو بھی منظوری دی ہے، جن کی منصوبہ جاتی لاگت 35 کروڑ روپے ہے۔

ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ کی معاونت کے لیے وزارتِ بھاری صنعتوں (ایم ایچ آئی) نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی)، بنگلورو کے ذریعے "سینٹر آف ایکسی لینس کی توسیع" نامی منصوبے کو منظوری دی ہے، جس کی مجموعی منصوبہ جاتی لاگت 44.6 کروڑ روپے ہے۔ اس کے علاوہ سینٹرل مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (سی ایم ٹی آئی) کے ذریعے "لیزر پر مبنی ڈائریکٹڈ انرجی ڈیپوزیشن ایڈیٹو مینوفیکچرنگ مشین کی تیاری" کے منصوبے کو بھی منظوری دی گئی ہے، جس کی منصوبہ جاتی لاگت 4.943 کروڑ روپے ہے۔

مندرجہ بالا اسکیموں کے علاوہ  بھاری صنعتوں کی وزارت(ایم ایچ آئی) نے "سِنٹرڈ رئیر ارتھ پرمننٹ میگنیٹ کی تیاری کو فروغ دینے کی اسکیم" کو بھی نوٹیفائی کیا ہے، جس کے لیے 7,280 کروڑ روپے کا مالی حجم مقرر کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ہندوستان میں سالانہ 6,000 میٹرک ٹن (ایم ٹی پی اے) سِنٹرڈ رئیر ارتھ پرمننٹ میگنیٹ (آر ای پی ایم) کی تیاری کی صلاحیت قائم کرنا ہے، تاکہ خود انحصاری میں اضافہ ہو اور ہندوستان کو عالمی (آر ای پی ایم) مارکیٹ میں ایک اہم ملک کے طور پر قائم کیا جا سکے۔

(d)محکمہ برائے فروغ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے مطابق سرمایہ کاری کو آسان بنانے، جدت طرازی کو فروغ دینے، عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے اور ہندوستان کو مینوفیکچرنگ، ڈیزائن اور اختراع کا  مرکز بنانے کے مقصد سے ’’میک اِن انڈیا‘‘ پہل کا آغاز 25 ستمبر 2014 کو کیا گیا تھا۔

فی الحال (میک اِن انڈیا 2.0) کے تحت 27 شعبوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، جن میں 15 مینوفیکچرنگ شعبے شامل ہیں۔ اس پہل کو مختلف وزارتوں، محکموں اور ریاستی حکومتوں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔

مزید برآں، حکومت نے مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے متعدد پالیسی اقدامات کیے ہیں، جن میں (آتم نربھر بھارت) پیکیجز، (نیشنل انفراسٹرکچر پائپ لائن) (این آئی پی اور (نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن) (این ایم پی) کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع، (انڈیا انڈسٹریل لینڈ بینک) (آئی آئی ایل بی)، (انڈسٹریل پارک ریٹنگ سسٹم) (آئی پی آر ایس)، (نیشنل سنگل ونڈو سسٹم) (این ایس ڈبلیو ایس) کا ابتدائی اجرا وغیرہ شامل ہیں۔

 (e)اس وزارت کو اس نوعیت کی کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔

******

 

(ش ح ۔ ش ت ۔ م ا)

UR. No-815

 


(रिलीज़ आईडी: 2290818) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी