ٹیکسٹائلز کی وزارت
ٹیکسٹائل برآمدات کا فروغ
प्रविष्टि तिथि:
28 JUL 2026 2:19PM by PIB Delhi
ٹیکسٹائل کے وزیر مملکت جناب پبیترا مارگریٹا نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں جانکاری فراہم کی کہ ہندوستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات بشمول دستکاری کی برآمدات ،24-2023 میں 2,97,004 کروڑ روپے سے بڑھ کر26-2025 میں 3,25,339 کروڑ روپے ہو گئی۔اس طرح اس نے مذکورہ مدت کے دوران 4.7فیصد کی سی اے جی آر نمو درج کی۔
|
ہندوستان کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات بشمول دستکاری کی برآمدات (قیمت کروڑ روپے میں)
|
|
نمبر شمار
|
اہم اشیاء
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
1
|
ریڈی میڈ گارمنٹس
|
120305
|
135428
|
139350
|
|
2
|
کاٹن ٹیکسٹائل
|
101495
|
104064
|
102427
|
|
3
|
ہاتھ سے تیار کردہ ٹیکسٹائل
|
42059
|
44788
|
46254
|
|
4
|
قالین
|
11553
|
13037
|
12887
|
|
5
|
جوٹ کی مصنوعات
|
2925
|
3385
|
3381
|
|
6
|
ریشم کی مصنوعات
|
988
|
1370
|
2262
|
|
7
|
اون اور اونی ٹیکسٹائل
|
1593
|
1355
|
1566
|
|
8
|
ہینڈ لوم مصنوعات
|
1162
|
1201
|
1359
|
| |
ہندوستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات
|
282079
|
304628
|
309484
|
|
9
|
ہاتھ تیار کردہ قالین سمیت دست کاری مصنوعات
|
14925
|
14945
|
15855
|
| |
ہندوستان کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات بشمول دستکاری کی برآمدات
|
297004
|
319573
|
325339
|
ماخذ: ڈی جی سی آئی ایس، عارضی ڈیٹا (قریب ترین عدد)
بڑے بازاروں میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات - اہم بازارمیں ہندوستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات بشمول دستکاری کی تفصیلات ذیل میں شامل کی گئی ہیں۔
|
ہندوستان کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات بشمول دستکاری کی برآمدات (کروڑ روپے میں )ملک کے لحاظ سے
|
|
نمبر شمار
|
ملک
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
1
|
امریکہ
|
83179
|
92571
|
85910
|
|
2
|
بنگلہ دیش
|
23340
|
27845
|
24445
|
|
3
|
متحدہ عرب امارات
|
16720
|
18252
|
20775
|
|
4
|
برطانیہ
|
16679
|
18287
|
19652
|
|
5
|
جرمنی
|
10937
|
12035
|
13200
|
|
6
|
نیدرلینڈ
|
7990
|
10190
|
10461
|
|
7
|
اسپین
|
7292
|
8373
|
9651
|
|
8
|
فرانس
|
8079
|
8294
|
9074
|
|
9
|
اٹلی
|
6471
|
6684
|
7407
|
|
10
|
سری لنکا
|
5762
|
6919
|
6997
|
|
باقی ممالک
|
110555
|
110124
|
117766
|
|
کل
|
297004
|
319573
|
325339
|
ماخذ: ڈی جی سی آئی ایس، عارضی ڈیٹا (قریب ترین عدد)
ہندوستان کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات بشمول دستکاری کی برآمدات نے 25-2024کے مقابلے 26-2025میں 100 سے زیادہ ممالک میں اضافہ درج کیا۔
حکومت ، ہندوستان کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کی باقاعدگی سے نگرانی کرتی ہے اور کسی بھی چیلنج کے اثرات کو کم کرنے کے لیے برآمد کاروں اور صنعت سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں برآمدات کی پیداوار اور مسابقت کو بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کرتی ہے۔
حکومت، ہندوستانی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کو فروغ دینے اور اس کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے مختلف اسکیموں اور اقدامات پر عمل پیرا ہے، اور یہ اقدامات ملک سے برآمدات میں اضافے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ اہم اسکیموں/پہل قدمیوں میں پی ایم میگا انٹیگریٹڈ ٹیکسٹائل ریجنز اور اپیرل (پی ایم مِتر) پارکس اسکیم شامل ہیں۔ پیداوار سے منسلک ترغیب(پی ایل آئی) اسکیم؛ قومی ٹیکنیکل ٹیکسٹائل مشن؛ سامرتھ – ٹیکسٹائل سیکٹر میں صلاحیت سازی کی اسکیم؛ سلک سمگر-2; قومی ہینڈلوم ترقیاتی پروگرام؛ قومی دستکاری ترقیاتی پروگرام؛ جامع دستکاری کلسٹر ترقیاتی اسکیم؛ ریاستی اور مرکزی ٹیکس اور محصولات (آر او ایس سی ٹی ایل) اسکیم کی چھوٹ؛ برآمد شدہ مصنوعات(آر او ڈی ٹی ای پی) اسکیم پر محصولات اور ٹیکسوں کی چھوٹ ؛ برآمدات کے فروغ کامشن (ای پی ایم)، جس میں نریات پروتساہن اور نریات دشا نیز برآمد کاروں کے لیے قرض گارنٹی اسکیم (سی جی ایس ای)شامل ہیں۔
حکومت نے 40 ترجیحی ممالک پر محیط برآمدات کو فروغ دینے اور مارکیٹ کے تنوع کی حکمت عملی بھی اپنائی ہے۔ ہندوستان-برطانیہ جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) ؛ یورپی یونین اور نیوزی لینڈ کے ساتھ حال ہی میں ہوئے آزاد تجارتی معاہدے(ایف ٹی ایز) سمیت 16 آزاد تجارتی سمجھوتے نافذ المل ہیں۔یہ معاہدے ہندوستانی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کو اپنی برآمدات کو بڑھانے اور مارکیٹ میں تنوع لانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
حکومت ہند نے برآمدات کے فروغ کے مشن (ای پی ایم) کے تحت 19 مارچ 2026 کو ریلیف (برآمدات میں سہولت کے لیے مستحکم اور لاجسٹکس اقدامات) کا آغاز کیا تاکہ مغربی ایشیا/مشرق وسطی کے تنازعات اور خلیجی خطے میں سمندری چیلنجوں سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے متاثر برآمد کاروں کو مدد فراہم کی جا سکے۔
باب 5201 کے تحت آنے والی روئی کی درآمدات پر کسٹم محصول کو 1 جون سے 31 اکتوبر 2026 تک عارضی طور پر ختم کر دیا گیا ہے تاکہ گھریلو سطح پر اس کی دستیابی کو بڑھایا جا سکے۔ مزیدبرآں، حکومت نے 27-2026سے 31-2030کی مدت کے لیے کپاس کی پیداواری صلاحیت کے مشن کو منظوری دی ہے تاکہ اہم رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے، پیداواری ترقی کو بہتر بنایا جا سکے اور ہندوستان کے کپاس کے شعبے میں معیار سے متعلق خدشات کو دور کیا جا سکے۔
حکومت نے مارچ 2019 سے ریاستی اور مرکزی ٹیکسوں اور محصولات کی چھوٹ (آر او ایس سی ٹی ایل) اسکیم کو لاگو کیا ہے، تاکہ ان شعبوں کو مدد فراہم کرنے اور مسابقت کو بڑھانے کے لیے ملبوسات/گارمنٹس اور میک اپس کی برآمد ات پر عائد تمام ریاستی اور مرکزی ٹیکسوں/محصولات کو چھوٹ دی جائے۔ مزید برآں، اسکیم کی 30 ستمبر 2026 تک کی حالیہ توسیع پالیسی میں استحکام فراہم کرتی ہے، ہندوستانی ٹیکسٹائل برآمدات کی مسابقت کو مضبوط کرتی ہے۔
******
(ش ح ۔ م ع۔ت ا(
U.No.735
(रिलीज़ आईडी: 2290485)
आगंतुक पटल : 10