سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ماہرینِ فلکیات نے روشن نیلے اسٹرگلر ستارے کی فعال تشکیل دریافت کی
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 5:45PM by PIB Delhi
بھارتی ماہرینِ فلکیات نے اپنے بین الاقوامی تعاون کرنے والے سائنس دانوں کے ساتھ مل کر نیلے اسٹرگلر ستارے (بلیو اسٹرگلر اسٹار) کی تشکیل کے دوران اس کی ایک نہایت نادر دریافت کی اطلاع دی ہے، جس سے پہلی بار اس بات کا براہِ راست ثبوت ملا ہے کہ اس نوعیت کے ستارے کس طرح وجود میں آتے ہیں۔
نیلے اسٹرگلر ستارے (بلیو اسٹرگلر اسٹارز) ستاروں کے جھرمٹوں میں پائے جانے والے ستاروں کی ایک منفرد قسم ہیں، جو اپنے ہم عمر ستاروں کے مقابلے میں زیادہ گرم، زیادہ روشن اور زیادہ کمیت رکھتے ہیں۔ ان ستاروں کی اصل اور ارتقا ایک طویل عرصے سے ماہرینِ فلکیات کے لیے ایک معمہ بنا ہوا تھا۔
اس سلسلے میں سب سے زیادہ تسلیم شدہ نظریہ یہ ہے کہ یہ ستارے اپنے کسی ساتھی ستارے سے مادہ حاصل کرتے ہیں یا دو ستاروں کے باہمی انضمام کے نتیجے میں اپنی کمیت بڑھا لیتے ہیں، جس کے باعث وہ گویا دوبارہ جوان ہو جاتے ہیں۔ تاہم، اس تشکیل کے عمل کے براہِ راست مشاہداتی شواہد اب تک انتہائی نایاب رہے ہیں۔
اس معمہ کی تحقیق کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی) کے خود مختار ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس (آئی آئی اے) کے ماہرینِ فلکیات نے ایک قدیم کھلے ستاروی جھرمٹ کولنڈر 261 میں واقع ایک غیر معمولی ثنائی ستاروی نظام ٹی آئی سی 327546480 کا مطالعہ کیا، جو زمین سے تقریباً 9,500 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس ثنائی نظام کو مزید تحقیق کے لیے ایک موزوں امیدوار قرار دیا گیا، کیونکہ اس کی خصوصیات سے ظاہر ہوتا تھا کہ دونوں ستاروں کے درمیان مادے کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔ اس تحقیق میں امریکی خلائی ادارے ناسا کے ٹی ای ایس ایس خلائی مشن سے حاصل ہونے والے نہایت درست نوری مشاہدات (لائٹ کروز) کو چلی میں یورپی جنوبی رصدگاہ کے زیرِ انتظام ویری لارج ٹیلی اسکوپ سے حاصل کردہ شعاعی رفتار (ریڈیل ویلاسٹی) کی پیمائشوں کے ساتھ یکجا کر کے تجزیہ کیا گیا۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس کی فیکلٹی رکن اور اس تحقیق کی شریک مصنفہ انپورنی سبرامنیم نے کہا، ’’ہم نے دریافت کیا ہے کہ یہ نیلا اسٹرگلر ستارہ اپنے ساتھی ستارے سے فعال طور پر مادہ حاصل کر رہا ہے، جس سے ہمیں پہلی مرتبہ ایسے ستارے کی تشکیل کے عمل کا براہِ راست مشاہدہ کرنے کا نادر موقع ملا ہے۔ ہماری یہ دریافت نیلے اسٹرگلر ستاروں کی اصل کی وضاحت کرنے والے اہم نظریات میں سے ایک کے حق میں براہِ راست مشاہداتی ثبوت فراہم کرتی ہے۔‘‘
شکل: کولنڈر 261 میں واقع الگول قسم کے ثنائی ستاروی نظام کی حقیقت سے قریب تر تصوراتی تصویر، جس میں روش حد (روشی لوب) کو بھر چکے عطیہ کنندہ ستارے سے ایک تیزی سے گردش کرنے والے نیلے اسٹرگلر ستارے (بی ایس ایس) کی جانب مادے کی فعال منتقلی کو دکھایا گیا ہے۔
انہوں نے دریافت کیا کہ یہ ثنائی ستاروی نظام نیم منفصل نوعیت کا ہے، یعنی دونوں میں سے ایک ستارہ اس قدر پھیل چکا ہے کہ وہ اپنی ثقلی حد، جسے روشی لوب کہا جاتا ہے، سے باہر نکل آیا ہے۔ اس کے نتیجے میں کم کمیت والا ساتھی ستارہ اپنا مادہ نیلے اسٹرگلر ستارے (بی ایس ایس) کو منتقل کر رہا ہے۔ کم کمیت والے ساتھی ستارے سے بی ایس ایس کی جانب مادے کی یہ مسلسل منتقلی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اس کی دوبارہ جوان ہونے کی کیفیت اب بھی جاری ہے، جس کے باعث یہ نظام اب تک دریافت ہونے والے تشکیل پذیر نیلے اسٹرگلر ستاروں کی واضح ترین مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔
محققین نے اس نظام سے طاقتور ایکس رے شعاعوں کا اخراج بھی دریافت کیا۔ اس نوعیت کی ایکس رے سرگرمی اس وقت متوقع ہوتی ہے جب ساتھی ستارے سے منتقل ہونے والا مادہ بی ایس ایس پر جمع ہو رہا ہو۔ اس طرح یہ مشاہدہ بھی اس بات کا ایک آزاد اور مضبوط ثبوت فراہم کرتا ہے کہ مادے کی منتقلی کا عمل اس وقت بھی جاری ہے۔
گوہاٹی یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کے طالب علم، اس تحقیق کے پہلے مصنف اور حکومتِ ہند کے سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کے انسپائر پروگرام کے تحت انسپائر فیلو، علی حسن شیخ نے کہا، ’’تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوا کہ نیلے اسٹرگلر ستارے (بی ایس ایس) کی کمیت سورج سے تقریباً 1.67 گنا زیادہ ہے، جبکہ یہ اپنے ایسے ساتھی ستارے سے مادہ حاصل کر رہا ہے جس کی کمیت سورج کی کمیت کا تقریباً 0.32 گنا ہے۔
اس ثنائی نظام کا مداری دورانیہ 2.11 دن ہے، اس میں کمیت کا تناسب تقریباً 0.19 ہے، جبکہ بی ایس ایس تقریباً 69.55 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گردش کر رہا ہے، جس کی ممکنہ وجہ اس پر جمع ہونے والا مادہ ہے جس نے اس کی گردش کی رفتار میں اضافہ کر دیا ہے۔ ارتقائی نمونوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مادے کی منتقلی کا عمل تقریباً 5.46 ارب سال قبل شروع ہوا تھا اور آج تک جاری ہے، جبکہ جس ستاروی جھرمٹ میں یہ نظام موجود ہے اس کی عمر تقریباً 7 ارب سال بتائی جاتی ہے۔‘‘
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس (آئی آئی اے) کے فیکلٹی رکن اور اس تحقیق کے شریک مصنف رام ساگر نے کہا، ’’یہ دریافت ثنائی ستاروی نظاموں میں مادے کی منتقلی کے ذریعے نیلے اسٹرگلر ستاروں کی تشکیل کے حق میں اب تک کے مضبوط ترین براہِ راست مشاہداتی شواہد میں سے ایک فراہم کرتی ہے، جس سے ستاروی طبیعیات کے کئی دہائیوں پرانے ایک معمہ کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘ ان کے مطابق، تشکیل کے عمل کے دوران ایک نیلے اسٹرگلر ستارے کا مشاہدہ سائنس دانوں کو ثنائی ستاروی ارتقا اور ستاروں کے دوبارہ جوان ہونے سے متعلق نظریات کو جانچنے کے لیے ایک منفرد تجربہ گاہ فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے پوری کائنات میں ستاروی جھرمٹوں اور باہمی تعامل رکھنے والے ستاروں کے ارتقا کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔
اس تحقیق کے نتائج ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہوئے ہیں۔ اس تحقیقی مقالے کے مصنفین میں گوہاٹی یونیورسٹی کے علی حسن شیخ، بیمان جے میدھی اور ہتیندر سرکار؛ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس، بنگلورو کی انپورنی سبرامنیم اور رام ساگر؛ اٹلی کے آئی این اے ایف کے سرجیو میسینا؛ آئی یو سی اے اے، پونے کے انوپم بھاردواج اور سسمیتا داس؛ لکس آبزرویٹوار دی پیرس، فرانس کے اٹیلا پورو؛ اور یونیورسٹی آف نارتھ فلوریڈا، امریکہ کی مرینا کونکل شامل ہیں۔
اشاعتی ربط: https://iopscience.iop.org/article/10.3847/2041-8213/ae6270
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno- 686
(रिलीज़ आईडी: 2290158)
आगंतुक पटल : 7