ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
پارلیمانی سوال: بھارت کے قومی طور پر متعین شراکت (این ڈی سی) کے اہداف
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 5:22PM by PIB Delhi
بھارت کی قومی طور پر متعین شراکت (این ڈی سی) میں تین مقداری اہداف شامل ہیں، جن میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے اخراجی شدت میں کمی، نصب شدہ برقی پیداواری صلاحیت میں غیر حیاتی ایندھن پر مبنی توانائی کے ذرائع کا حصہ بڑھانا، اور اضافی کاربن سنک (کاربن جذب کرنے کی صلاحیت) پیدا کرنا شامل ہے۔
بھارت نے سال 2022 میں، 2005 کی سطح کے مقابلے میں، اپنی مجموعی قومی پیداوار کی اخراجی شدت میں 37.38 فیصد کمی حاصل کر لی ہے، جبکہ این ڈی سی کے تحت 2030 تک اس میں 45 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ جون 2025 میں نصب شدہ برقی پیداواری صلاحیت میں غیر حیاتی ایندھن پر مبنی توانائی کے ذرائع کا مجموعی حصہ 50 فیصد سے تجاوز کر گیا، جس کے ساتھ بھارت نے مقررہ مدت سے پانچ سال قبل ہی این ڈی سی کا یہ ہدف حاصل کر لیا۔ 30 جون 2026 تک ملک کی مجموعی نصب شدہ برقی پیداواری صلاحیت میں غیر حیاتی ایندھن پر مبنی توانائی کے ذرائع کا حصہ 54.18 فیصد ہو چکا ہے۔
بھارت نے 2005 سے 2022 کے دوران 2.44 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اضافی کاربن سنک پیدا کیا، جبکہ این ڈی سی کے تحت 2030 تک جنگلات اور درختوں کے اضافی رقبے کے ذریعے 2.5 سے 3.0 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اضافی کاربن سنک پیدا کرنے کا ہدف مقرر ہے۔
سال 2035 کے لیے این ڈی سی کے اہداف کو مزید بلند کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 2005 کی سطح کے مقابلے میں مجموعی قومی پیداوار کی اخراجی شدت میں 47 فیصد کمی، نصب شدہ برقی پیداواری صلاحیت میں غیر حیاتی ایندھن پر مبنی توانائی کے ذرائع کا مجموعی حصہ 60 فیصد تک پہنچانا، اور جنگلات و شجرکاری کے ذریعے 3.5 سے 4.0 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی کاربن سنک پیدا کرنا شامل ہے، جس کا تقابل 2005 کو بنیادی سال مان کر کیا جائے گا۔
این ڈی سی میں پانچ معیاری (غیر مقداری) اہداف بھی شامل ہیں، جن کا مقصد پائیدار طرزِ زندگی کو فروغ دینا، ماحول دوست اور زیادہ صاف ترقیاتی راستوں کو اپنانا، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا، اور ترقی یافتہ بھارت 2047 کے ویژن کے مطابق دیگر اقدامات کو آگے بڑھانا ہے۔
ہمارا مقصد قومی سطح پر این ڈی سی کے تمام اہداف حاصل کرنا ہے، جو معاہدۂ پیرس کی ان دفعات کے مطابق ہیں جن کے تحت رکن ممالک اپنی قومی طور پر متعین شراکتیں پیش کرتے ہیں اور قومی سطح پر ان کی پیش رفت کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔
حکومتِ ہند اپنے موسمیاتی وعدوں پر عمل درآمد کے لیے پورے حکومتی نظام کی مشترکہ حکمتِ عملی پر کاربند ہے۔ قومی موسمیاتی تبدیلی عملی منصوبہ (این اے پی سی سی) میں نو قومی مشن شامل ہیں، جو زراعت، توانائی کی بچت، گرین انڈیا، ہمالیائی ماحولیاتی نظام، انسانی صحت، شمسی توانائی، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تزویراتی معلومات، پائیدار رہائش گاہوں اور آبی وسائل جیسے اہم شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان نو میں سے چھ مشن موسمیاتی موافقت (ایڈاپٹیشن) پر مرکوز ہیں تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والی کمزور آبادیوں کی لچک اور مطابقت کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔ ان تمام مشنوں کو متعلقہ مرکزی وزارتوں اور محکموں نے ادارہ جاتی شکل دے رکھی ہے اور مختلف شعبوں میں متعدد اسکیموں اور پروگراموں کے ذریعے ان پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
ان اسکیموں اور پروگراموں کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی (میٹیگیشن) اور موسمیاتی موافقت (ایڈاپٹیشن) کو تیز کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد قابلِ تجدید توانائی، برقی نقل و حمل، پائیدار ٹرانسپورٹ اور رہائش گاہوں، موسمیاتی لحاظ سے مضبوط زراعت، آبی تحفظ، توانائی کے مؤثر استعمال، جنگلات اور شجرکاری میں اضافہ، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کو فروغ دینا ہے۔
اہم قومی اقدامات میں قومی گرین ہائیڈروجن مشن، پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا، پردھان منتری کسان اُرجا سرکشا ایوم اُتھان مہابھیان (پی ایم-کُسم)، صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم، جس میں اعلیٰ کارکردگی والے شمسی فوٹو وولٹائک (پی وی) ماڈیولز اور جدید کیمیائی سیل (اے سی سی) بیٹریاں شامل ہیں، کاربن کی گرفت، استعمال اور ذخیرہ (سی سی یو ایس) اور جوہری توانائی مشن سے متعلق اقدامات، نیز ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کا آغاز شامل ہے، جو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور کم کاربن پر مبنی پائیدار نقل و حمل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
ساحلی علاقوں کے لیے کیے گئے اقدامات میں مینگرووز اور ساحلی ماحولیاتی نظام کا تحفظ اور بحالی، ساحلی ضابطہ بندی زون (سی آر زیڈ) کے ضابطہ جاتی فریم ورک پر عمل درآمد، قبل از وقت انتباہی نظام اور آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنانا، اور قدرتی و ماحولیاتی نظام پر مبنی طریقۂ کار کو فروغ دینا شامل ہے، تاکہ سمندری طوفانوں، ساحلی سیلاب، سطحِ سمندر میں اضافے اور ساحلی کٹاؤ کے خلاف ساحلی علاقوں کی لچک میں اضافہ کیا جا سکے۔
ساحلی رہائش گاہوں اور پائیدار آمدنی کے لیے مینگروو اقدام (مِشٹی) پروگرام، قومی ساحلی مشن کے تحت دیگر اقدامات کے ساتھ مل کر، مینگرووز کے تحفظ و بحالی اور ساحلی ماحولیاتی نظام اور مقامی برادریوں کی موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
مزید برآں، قومی موسمیاتی تبدیلی عملی منصوبہ (این اے پی سی سی) کے مطابق 34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اپنے اپنے ریاستی موسمیاتی تبدیلی عملی منصوبے (ایس اے پی سی سی) تیار کر لیے ہیں، جو ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کی مخصوص موسمیاتی حساسیت، ترجیحات اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر موسمیاتی اقدامات کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
حکومت نے بھارت کے قومی طور پر متعین شراکت (این ڈی سی) کے اہداف اور 2070 تک خالص صفر (نیٹ زیرو) اخراج کے طویل مدتی ہدف کی جانب پیش رفت کی نگرانی کے لیے باقاعدہ ادارہ جاتی نظام قائم کیا ہے۔ وزیر اعظم کی موسمیاتی تبدیلی کونسل (پی ایم سی سی سی)، ایگزیکٹو کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی (ای سی سی سی) اور معاہدۂ پیرس پر عمل درآمد کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی (اے آئی پی اے)، متعلقہ وزارتوں اور محکموں سے وقتاً فوقتاً موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر، ملک میں موسمیاتی اقدامات کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ، موسمیاتی وعدوں پر عمل درآمد متعلقہ سرکاری اسکیموں، پروگراموں اور شعبہ جاتی پالیسیوں کے ساتھ مربوط انداز میں کیا جاتا ہے، جن میں نگرانی اور پیش رفت کی رپورٹنگ کے مؤثر نظام پہلے سے موجود ہیں۔ بھارت معاہدۂ پیرس کے آرٹیکل 13 کے تحت بہتر شفافیت کے فریم ورک (ای ٹی ایف) کے مطابق بھی اپنی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیتا اور رپورٹ کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے دو سالہ شفافیت رپورٹس اور قومی مراسلات پیش کیے جاتے ہیں، جن کی بنیاد قومی سطح پر قائم نگرانی، رپورٹنگ اور توثیق (ایم آر وی) کے نظام پر ہوتی ہے۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے مرکزی وزیرِ مملکت، جناب کیرتی وردھن سنگھ نے ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-683
(रिलीज़ आईडी: 2290132)
आगंतुक पटल : 9