الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن نے لسانی ترجیح پر مبنی قانون ساز حکمرانی کو آگے بڑھانے کے مقصد سے ہریانہ اسمبلی کے لیے کثیر لسانی اے آئی ورکشاپ کا اہتمام کیا


مبنی بر شمولیت، قابل رسائی اور شہریوں پر مرتکز قانون ساز حکمرانی کے لیے اے آئی سے لیس لسانی تکنالوجیوں کی نمائش کی گئی

प्रविष्टि तिथि: 27 JUL 2026 6:32PM by PIB Delhi

ڈجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی)، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی)، حکومتِ ہند کے تحت کام کرنے والے ڈجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) نے ہریانہ ودھان سبھا سیکریٹریٹ کے ترجمہ، اشاعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کے حکام کے لیے ایک کثیر لسانی اے آئی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں اے آئی سے لیس لسانی تکنالوجیوں کا مظاہرہ کیا گیا اور زبان کو اولیت دینے والے قانون ساز نظامِ حکومت کو مضبوط بنانے، کثیر لسانی قانون سازی کے طریقہ کار کو بہتر بنانے، اور قانون سازی کے عمل کو زیادہ جامع، قابلِ رسائی اور شہری دوست بنانے میں ان کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001JF56.jpg

اس ورکشاپ میں قانون ساز اسمبلی کے اراکین، اسمبلی سیکریٹریٹ کے حکام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ لایا گیا تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ کثیر لسانی اے آئی کس طرح قانون سازی کے طریقہ کار کو بہتر بنا سکتی ہے، قانون سازی سے متعلق معلومات تک رسائی کو آسان کر سکتی ہے اور مختلف زبانوں کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے رابطے کو ممکن بنا سکتی ہے۔ اس سیشن میں بھاشنی کے زبان کو اولیت دینے والے ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کی تعمیر کے وژن پر روشنی ڈالی گئی، جہاں زبان اب نظامِ حکومت اور عوامی شمولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔

ورکشاپ میں بھاشنی کے کثیر لسانی اے آئی کے حل کے بڑھتے ہوئے نظام کا مظاہرہ کیا گیا، اور شرکاء کو اس کی بنیادی لسانی تکنالوجیوں سے متعارف کرایا گیا، جن میں آواز سے تحریر کی خودکار شناخت (اے ایس آر)، نیورل مشین ٹرانسلیشن (این ایم ٹی)، تحریر سے آواز کی تبدیلی (ٹی ٹی ایس)، تصویر سے تحریر کی شناخت (او سی آر)، ٹرانسلیٹریشن (رسم الخط کی تبدیلی) اور کثیر لسانی اے پی آئیز شامل ہیں۔ شرکاء کو دکھایا گیا کہ ان صلاحیتوں کو کس طرح بغیر کسی رکاوٹ کے سرکاری ایپلی کیشنز، ڈجیٹل پلیٹ فارمز اور عوام کے لیے تیار کردہ خدمات میں شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے قانون سازی کے عمل کو زیادہ فعال، مؤثر اور قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔

بھاشنی کی ٹیم نے اے آئی سے لیس اپنے لسانی حل کا براہِ راست مظاہرہ کیا، جس سے شرکاء کو کثیرلسانی آواز کی شناخت، ترجمہ، ٹرانسکرپشن اور دستاویزات پر مبنی ٹیکنالوجیز کا ذاتی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ان مظاہروں میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح کثیر لسانی اے آئی قانون سازی کی دستاویزات، زبان کو شامل کرنے والے باہمی رابطے، معلومات تک رسائی، ڈجیٹل ریکارڈ کے انتظام اور عوامی شمولیت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے منتخب نمائندوں اور اسمبلی حکام کو مختلف لسانی برادریوں کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے رابطہ قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

ورکشاپ میں اس بات کے مواقع بھی تلاش کیے گئے کہ کس طرح لسانی اے آئی کا فائدہ اٹھا کر قانون سازی کے عمل کو مضبوط بنایا جائے۔ اس کے لیے سرکاری دستاویزات تک کثیرلسانی رسائی کو بہتر بنانے، آواز کے ذریعے بات چیت کو ممکن بنانے اور شہریوں کے لیے ان کی پسندیدہ زبان میں قانون سازی سے متعلق معلومات تک رسائی کو آسان بنانے پر غور کیا گیا۔ گفتگو کا بنیادی محور اس بات پر تھا کہ کس طرح اے آئی سے لیس لسانی ٹیکنالوجیز قانون ساز اداروں کی ڈجیٹل تبدیلی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں اور ساتھ ہی شفافیت، رسائی اور عوامی شمولیت کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے، ڈجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن کے سی ای او، جناب امیتابھ ناگ نے کثیرلسانی اے آئی سے لیس، زبان کو اولیت دینے والے ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے لیے بھاشنی کے وژن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنا کر کہ ہر شہری ڈجیٹل عوامی خدمات تک اس زبان میں رسائی حاصل کر سکے جسے وہ سب سے بہتر سمجھتا ہے، طرزِ حکمرانی کو بدلنے میں مقامی لسانی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے گورننس کے پورے نظام میں کثیر لسانی اے آئی کو تیزی سے اپنانے کے لیے حکومتوں، ٹیکنالوجی شراکت داروں اور اداروں کے مابین باہمی تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

اس ورکشاپ نے طرزِ حکمرانی میں اے آئی سے لیس لسانی تکنالوجیوں کے استعمال کو بڑھانے کے لیے عوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بھاشنی کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ زبان کو اولیت دینے والے قانون ساز نظام کو فعال بنانے، کثیرلسانی رسائی کو مضبوط کرنے، اور گورننس کو زیادہ جامع، مؤثر اور شہری دوست بنانے کی سمت میں ایک اور اہم قدم ہے۔

ہریانہ وِدھان سبھا کے سکریٹری جناب راجیو پرساد نے کہا: ’’ جیسے جیسے قانون ساز ادارے ڈجیٹل تبدیلی کو اپنا رہے ہیں، ٹیکنالوجی کو چاہیے کہ وہ سرکاری ریکارڈز کی سالمیت پر سمجھوتہ کیے بغیر درستگی، کارکردگی اور شفافیت کو مضبوط بنائے۔ اے آئی سے لیس ٹولز ٹرانسکرپشن، ترجمہ اور دستاویزات کی تیاری کو نمایاں طور پر آسان بنا سکتے ہیں، جبکہ قانون سازی کی کارروائی کے معیار اور صداقت کو برقرار رکھنے کے لیے انسانی مہارت اور توثیق بدستور ناگزیر ہیں۔‘‘

ہریانہ وِدھان سبھا کے اسپیکر محترم جناب ہروندر کلیان نے کہا: ’’مصنوعی ذہانت کو انسانی ذہانت کو بااختیار بنانا چاہیے، نہ کہ اس کی جگہ لینی چاہیے۔ آواز کو اولیت دینے والی کثیر لسانی تکنالوجیوں کو ذمہ داری کے ساتھ اپنا کر، قانون ساز ادارے کارکردگی کو بڑھا سکتے ہیں، دستاویزات کی تیاری کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور شہریوں کے لیے رسائی کو بہتر بنا سکتے ہیں، جبکہ یہ بھی یقینی بنا سکتے ہیں کہ انسانی فیصلہ، نظم و ضبط اور جوابدہی ہر سرکاری عمل کے مرکز میں رہیں۔‘‘

ہریانہ وِدھان سبھا کے عزت مآب اسپیکر کے مشیر جناب رام نرائن یادو نے کہا: ’’ قانون ساز اسمبلی کی کارروائی کی ٹرانسکرپشن اور اس کی دستاویزات کے ترجمے کے لیے بھاشنی اے آئی کے استعمال پر پریزنٹیشن انتہائی مفید تھی۔ ٹرانسکرپشن کی درستگی کے لیے، اشاعتی شعبے کو حقائق اور زبان پر خصوصی توجہ دینی ہوگی، جبکہ ترجمے کے لیے، قواعد اور مناسب الفاظ کے انتخاب پر خاص توجہ دی جانی چاہیے، تاکہ دونوں کام مکمل درستگی کے ساتھ انجام دیے جا سکیں۔‘‘

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن  کے سی ای او نے کہا: ’’ بھارت کے قانون ساز ادارے ایسے علم و دانش کو جنم دیتے ہیں جو طرزِ حکمرانی اور جمہوریت کو جلا بخشتا ہے۔ آواز کو اولیت دینے والی کثیرلسانی اے آئی کو فعال بنا کر، بھاشنی قانون ساز اداروں کی مدد کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے روزمرہ کے کاموں کو زیادہ تیز رفتار، جامع اور قابلِ رسائی بنا سکیں۔ ریئل ٹائم ٹرانسکرپشن اور ترجمے سے لے کر کثیرلسانی اشاعت، دستاویزات کے انتظام اور عوامی شمولیت تک، ہمارا وژن ہر سیکریٹریٹ کو ایسی اے آئی سے بااختیار بنانا ہے جو ہندوستانی زبانوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر سکے۔ ہریانہ ودھان سبھا کے ساتھ ہمارا باہمی تعاون ایک ایسی ٹیکنالوجی کی تعمیر کی سمت میں ایک اور اہم قدم ہے جو قانون سازی کی کارکردگی کو مضبوط بناتی ہے اور ساتھ ہی یہ یقینی بناتی ہے کہ زبان نظامِ حکومت میں کبھی رکاوٹ نہ بنے۔‘‘

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) کے بارے میں

ڈجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی)، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت کام کرنے والا ڈجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن، اے آئی سے لیس کثیر لسانی ڈجیٹل شمولیت کے لیے بھارت کا قومی پلیٹ فارم ہے۔ آج، بھاشنی 800  سے زائد سرکاری ویب سائٹس کو چلا رہا ہے، 8 ارب سے زیادہ مجموعی اے آئی انفریسز کو ممکن بنا چکا ہے، روزانہ 20 ملین سے زیادہ اے آئی انفریسز پر کارروائی کرتا ہے، اور 36 ہندوستانی تحریری زبانوں، 23 ہندوستانی صوتی زبانوں اور 35 بین الاقوامی زبانوں کو سپورٹ کرتا ہے، جس سے لینگویج اے آئی کے ذریعے ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو زیادہ قابلِ رسائی بنایا جا رہا ہے۔


**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:697


(रिलीज़ आईडी: 2290124) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी