قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انتیس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 775 فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتیں فعال؛ مرکزی حکومت نے ایف ٹی ایس سی اسکیم کی مدت ستمبر 2026 تک بڑھا دی

प्रविष्टि तिथि: 25 JUL 2026 8:54PM by PIB Delhi

ریاستوں کے اشتراک سے چلنے والی ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم کے تحت فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتیں (ایف ٹی ایس سی)، بشمول خصوصی پوکسو عدالتیں، اکتوبر 2019 میں قائم کی گئی تھیں، تاکہ عصمت دری اور بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ ایکٹ، 2012 (پوسکو ایکٹ، 2012) کے تحت درج زیر التوا مقدمات کی تیز رفتار سماعت اور جلد نمٹارہ یقینی بنایا جا سکے۔ اس اسکیم میں دو مرتبہ توسیع کی جا چکی ہے، جس میں آخری توسیع کے تحت 790 فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کے قیام کے لیے اس کی مدت 31 مارچ 2026 تک مقرر کی گئی تھی۔ بعد ازاں اس اسکیم میں عارضی طور پر مزید توسیع کرتے ہوئے اس کی مدت 30 ستمبر 2026 تک بڑھا دی گئی ہے۔ ہائی کورٹس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 30 اپریل 2026 تک 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 775 فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتیں فعال تھیں، جن میں 398 خصوصی پوکسو (e-POCSO) عدالتیں شامل ہیں۔ ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقہ وار تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں (ایف ٹی ایس سی)، بشمول خصوصی پوکسو عدالتوں میں درج، نمٹائے گئے اور زیر التوا مقدمات کی تعداد کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

سال

رجسٹر کیے گئے مقدمے

نمٹائے گئے مقدمے

زیر التوا مقدمے*

2023

81,471

76,319

2,02,175

2024

88,902

85,595

2,04,122

2025

1,43,936

66,500

2,45.579

 

فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں (ایف ٹی ایس سی) کی اسکیم کے تحت فنڈز مرکزی معاونت یافتہ اسکیم کے طرز پر جاری کیے جاتے ہیں، جس میں مرکز اور ریاست کے مالی تعاون کا تناسب 60:40 اور خصوصی زمرے کی ریاستوں کے لیے 90:10 ہے۔ یہ فنڈز ہر فاسٹ ٹریک خصوصی عدالت کے لیے ایک عدالتی افسر اور سات معاون عملے کی تنخواہوں کے علاوہ روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے فلیکسی گرانٹ فراہم کرنے کے مقصد سے دیے جاتے ہیں۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے اخراجات کی تفصیلات موصول ہونے کے بعد انہیں فنڈز کی ادائیگی بطور باز ادائیگی کی جاتی ہے۔ اسکیم کے آغاز سے اب تک عدالتوں کے ہموار کام کاج کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ کی جانب سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 1,259.51 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں، بشمول مالی سال 2026-27، کے دوران جاری کیے گئے مرکزی حصے کے فنڈز کی ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقہ وار تفصیلات ضمیمہ-II میں دی گئی ہیں۔

فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کے مؤثر کام کاج کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور متعلقہ ہائی کورٹس کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔ مرکزی وزیر قانون و انصاف نے معزز وزرائے اعلیٰ اور ہائی کورٹس کے معزز چیف جسٹس صاحبان کو خطوط بھی لکھے ہیں، جن میں پوکسو ایکٹ اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا، 2023 کے تحت مقررہ مدت کے اندر کارروائی اور ضابطوں کی سختی سے پابندی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کی کارکردگی کو بین الریاستی زونل کونسل کے اجلاسوں کے باقاعدہ ایجنڈے میں شامل کیا جاتا ہے، تاکہ حکومتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہو اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔

جہاں تک عدالتوں میں ججوں اور عملے کی تقرری کا تعلق ہے، ضلعی اور ماتحت عدالتوں، بشمول فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں، میں عدالتی افسران کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی/ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومتوں اور ہائی کورٹس کی ہے۔ آئینی نظام کے مطابق، آئینِ ہند کے آرٹیکل 309 کی شقِ استثنا کو آرٹیکل 233 اور 234 کے ساتھ ملا کر استعمال کرتے ہوئے، ریاستی یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی حکومت متعلقہ ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد عدالتی افسران کی بھرتی اور تقرری سے متعلق قواعد وضع کرتی ہے۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ضلعی اور ماتحت عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی بنیادی ذمہ داری بھی متعلقہ ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم، ان حکومتوں کے وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے مرکزی حکومت 1993-94 سے عدالتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مرکزی معاونت یافتہ اسکیم نافذ کر رہی ہے، جس کے تحت مرکز اور ریاستوں کے مقررہ مالیاتی تناسب کے مطابق مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ پندرھویں مالیاتی کمیشن  کی مدت کے دوران عدالتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے اس مرکزی معاونت یافتہ اسکیم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 4,519.47 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔

 

ضمیمہ-I

 

24.07.2026 کو لوک سبھا کے ستارے والے سوال نمبر 100 کے حصہ (A) کے جواب میں 'فاسٹ ٹریک اور پوکسو کورٹس' سے متعلق بیان کا حوالہ دیا گیا ہے۔

 

30.04.2026 کو ای-پوکسو عدالتوں سمیت ریاست/ یو ٹی کے لحاظ سے فعال ایف ٹی ایس سی

 

نمبر شمار

ریاست/ یو ٹی

فعال عدالتیں - 775

 

ایف ٹی ایس سی بشمول خصوصی پوکسو عدالتیں

خصوصی پوکسو عدالتیں

 

 

  1.  

آندھرا پردیش

16

16

 

  1.  

آسام

17

17

 

  1.  

بہار

54

48

 

  1.  

چندی گڑھ

1

0

 

  1.  

چھتیس گڑھ

15

11

 

  1.  

دہلی

16

11

 

  1.  

گوا

1

0

 

  1.  

گجرات

35

24

 

  1.  

ہریانہ

18

14

 

  1.  

ہماچل پردیش

6

3

 

  1.  

جے اینڈ کے

4

2

 

  1.  

جھارکھنڈ*

0

0

 

  1.  

کرناٹک

30

16

 

  1.  

کیرالہ

55

14

 

  1.  

مدھیہ پردیش

67

56

 

  1.  

مہاراشٹر

38

0

 

  1.  

منی پور

2

0

 

  1.  

میگھالیہ

5

5

 

  1.  

میزورم

3

1

 

  1.  

ناگالینڈ

1

0

 

  1.  

اوڈیشہ

44

23

 

  1.  

پڈوچیری

1

1

 

  1.  

پنجاب

12

3

 

  1.  

راجستھان

45

30

 

  1.  

تمل ناڈو

20

20

 

  1.  

تلنگانہ

36

0

 

  1.  

تریپورہ

3

1

 

  1.  

اتراکھنڈ

4

0

 

  1.  

اتر پردیش

218

74

 

  1.  

مغربی بنگال

8

8

 

 

کُل

775

398

 

* ریاست جھارکھنڈ نے 07.07.2025 کو خط کے ذریعے ایف ٹی ایس سی اسکیم سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

 

ضمیمہ-II

 

24.07.2026 کو لوک سبھا کے ستارے والے سوال نمبر 100 کے حصہ (C) کے جواب میں 'فاسٹ ٹریک اور پوکسو کورٹس' سے متعلق بیان کا حوالہ دیا گیا ہے۔

 

گزشتہ تین سالوں کے دوران فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کی اسکیم کے تحت جاری کردہ فنڈز کے مرکزی حصے کی ریاست/ یو ٹی کے لحاظ سے تفصیلات

 

(روپے کروڑ میں)

نمبر شمار

ریاست/ یو ٹی

2023-24 میں جاری کی گئی رقم

2024-25 میں جاری کی گئی رقم

2025-26 میں جاری کی گئی رقم

  1.  

آندھرا پردیش

0

0

0

  1.  

آسام

5.528655

10.975085

10.2883947

  1.  

بہار

9.874035

11.35878

22.1617199

  1.  

چندی گڑھ

0

0

0

  1.  

چھتیس گڑھ

3.25215

3.70395

4.2178092

  1.  

دہلی

3.46896

1.97544

12.83992

  1.  

گوا

0.21681

0.49386

0.3473393

  1.  

گجرات

7.58835

8.64255

2.1386089

  1.  

ہریانہ

3.46896

7.90176

7.00002

  1.  

ہماچل پردیش

1.95129

2.22237

5.2283322

  1.  

جے اینڈ کے

2.32086

1.48158

1.739494

  1.  

جھارکھنڈ*

4.76982

0

0

  1.  

کرناٹک

7.45091

7.65483

8.0348025

  1.  

کیرالہ

25.39836

13.58115

26.2767511

  1.  

مدھیہ پردیش

15.37627

16.54431

21.3280045

  1.  

مہاراشٹر

6.59259

1.23465

2.0772397

  1.  

منی پور

0.65043

0.74079

0.1367199

  1.  

میگھالیہ

1.626075

1.851975

0.396

  1.  

میزورم

0.975645

1.111185

2.0752012

  1.  

ناگالینڈ

0.325215

0.370395

0.099556

  1.  

اوڈیشہ

9.52128

10.86492

22.7717099

  1.  

پڈوچیری

0.195975

0.24693

0.6008314

  1.  

پنجاب

3.95972

5.92632

4.66668

  1.  

راجستھان

21.1383

22.2237

19.4445

  1.  

تمل ناڈو

6.496035

6.91404

7.3159963

  1.  

تلنگانہ

7.60671

4.44474

1.8395415

  1.  

تریپورہ

0.975645

1.111185

0.0356784

  1.  

اتراکھنڈ

1.30086

1.48158

2.3551831

  1.  

اتر پردیش

47.26458

53.83074

13.2926408

  1.  

مغربی بنگال

0.70551

1.111185

1.2913255

 

کُل

200.00

200.00

200.00

 

 

قانون و انصاف کے مرکزی وزیر جناب ارجن رام میگھوال جی نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔

****

 

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                          U: 602


(रिलीज़ आईडी: 2289518) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , English