زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

زراعت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا فروغ اور اس کے اثرات کا جائزہ

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 6:01PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق کئی منصوبے شروع کیے ہیں۔ ان کا استعمال کسانوں کو مشورے فراہم کرنے، کیڑوں پر قابو پانے، فصلوں کی شناخت، زرعی بیمہ، سرکاری اسکیموں کے فوائد کی فراہمی اور حکمرانی سے متعلق تجزیات کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن کے تحت حکومت ریاستوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی)، مشین لرننگ، بلاک چین ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی)، روبوٹکس اور دیگر جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر مبنی منصوبوں کے لیے بھی معاونت فراہم کرتی ہے۔ حکومت کے چند اہم اے آئی اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. قومی کیڑوں کی نگرانی کا نظام (این پی ایس ایس) - یہ نظام موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیداوار میں ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ کی مدد سے فصلوں میں کیڑوں کے حملوں کی بروقت شناخت کی جاتی ہے، تاکہ فوری کارروائی کے ذریعے فصلوں کو محفوظ اور صحت مند رکھا جا سکے۔ اس ٹول کو اس وقت 10,000 سے زائد زرعی توسیعی کارکن استعمال کر رہے ہیں۔ یہ کسانوں کو کیڑوں کی تصاویر لے کر اپ لوڈ کرنے کی سہولت دیتا ہے، جس سے کیڑوں کے حملوں پر قابو پانے اور فصلوں کے نقصان کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ فی الحال یہ نظام 73 فصلوں اور 436 اقسام کے کیڑوں کے لیے معاونت فراہم کرتا ہے۔
  2. اے آئی پر مبنی مانسون اور موسمی مشاورتی نظام: محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کسانوں کو باخبر زرعی فیصلوں میں مدد دینے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی مانسون اور موسمی مشورے فراہم کرتا ہے۔ ان مشوروں کی بدولت کسان بروقت اور مقام کے لحاظ سے مخصوص موسمی پیش گوئیوں کی بنیاد پر اپنی زرعی سرگرمیوں کی بہتر منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ اب تک اس اقدام سے تقریباً 5.28 کروڑ کسان مستفید ہو چکے ہیں۔
  3. بھارت وستار: یہ زراعت کے لیے ایک کثیر لسانی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تقویت یافتہ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی بی آئی) ہے۔ یہ پلیٹ فارم کسانوں کو اے آئی کی مدد سے حقیقی وقت اور مقام کے لحاظ سے مخصوص زرعی مشورے فراہم کرتا ہے، نیز انہیں مختلف سرکاری اسکیموں اور زرعی امدادی خدمات تک رسائی بھی مہیا کرتا ہے۔

اب تک یہ پلیٹ فارم 3 لاکھ سے زائد کسانوں کو خدمات فراہم کر چکا ہے اور 72 لاکھ سے زیادہ کسانوں کے سوالات کا جواب دے چکا ہے۔ یہ مرکزی حکومت کی 18 اسکیموں، فصلوں اور مویشیوں سے متعلق مشوروں، موسم کی پیش گوئی، منڈی کی قیمتوں، کیڑوں اور بیماریوں کی شناخت، مٹی کی صحت پر مبنی سفارشات اور شکایات کے ازالے سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔

یہ پلیٹ فارم ویب پورٹل، موبائل ایپلی کیشن، اے آئی چیٹ بوٹ اور مخصوص ٹیلی فون لائن کے ذریعے دستیاب ہے۔ فی الحال بھارت وستار ٹیلی فون سروس صرف ہندی اور انگریزی میں دستیاب ہے، جبکہ چیٹ بوٹ، ویب پورٹل اور موبائل ایپلی کیشن 10 زبانوں میں دستیاب ہیں۔

حکومت کی جانب سے اب تک مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجیز کے مجموعی اثرات کا جامع جائزہ لینے کے لیے کوئی مخصوص مطالعہ نہیں کیا گیا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ڈیجیٹل زراعت سے متعلق اقدامات، بشمول مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی اقدامات، کے لیے مختص اور استعمال کیے گئے فنڈز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

سال

2022-23

2023-24

2024-25

2025-26

2026-27

مختص کیے گئے فنڈ

60

450

763.88

758.56

502.40

استعمال کیے گئے فنڈ

20.84

119.44

356

596.10

364.62

 

اس کے علاوہ، حکومت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) کو منصوبوں کے نفاذ اور استعداد سازی کے لیے تکنیکی معاونت اور انسانی وسائل کی مد میں مالی امداد بھی فراہم کرتی ہے، تاکہ کسانوں، خصوصاً چھوٹے اور پسماندہ کسانوں، کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت، جناب رام ناتھ ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے یہ معلومات فراہم کی۔

                                               **************

ش ح۔ ف ش ع

24-07-2026

                                                                                                                                          U: 556

 


(रिलीज़ आईडी: 2289195) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी