قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

 ہندوستان  کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے پنجاب کے ضلع موگا کے ایک سرکاری اسکول کے پرنسپل کی جانب سے طالبات کو مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کے معاملہ کا ازخود نوٹس لیا


کمیشن نے پنجاب کے چیف سکریٹری اور موگا کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملہ پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 5:59PM by PIB Delhi

 ہندوستان  کے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے میڈیا میں شائع ہونے والی اس خبر کا ازخود نوٹس لیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے ضلع موگا کے ایک سرکاری اسکول کے پرنسپل نے متعدد طالبات کو نامناسب طریقے سے چھو کر مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق پرنسپل طالبات کو یہ دھمکی بھی دیتا تھا کہ اگر انہوں نے اس کے خلاف شکایت کی تو وہ انہیں امتحان میں فیل کر دے گا۔

کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر میڈیا رپورٹ میں کیے گئے دعوے درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔ اسی لیے کمیشن نے پنجاب کے چیف سکریٹری اور موگا کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی)کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

23 جولائی 2026 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب متاثرہ طالبات میں سے ایک نے اپنے والدین کو واقعے سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد متاثرہ طالبہ کے والدین نے گاؤں کی پنچایت کو بلایا اور اسکول پہنچ کر پرنسپل سے جواب طلب کیا، تاہم اس نے الزامات کی تردید کی۔ بعد ازاں کئی دیگر طالبات بھی سامنے آئیں اور انہوں نے بھی پرنسپل پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے۔ اس کے بعد پولیس کو بھی موقع پر طلب کر لیا گیا۔

******

UR- 554

ش ح۔ ظ الف – ر ض

 


(रिलीज़ आईडी: 2289088) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी