قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قانونی اصلاحات

प्रविष्टि तिथि: 23 JUL 2026 6:39PM by PIB Delhi

ھارت سرکار آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت مطلوبہ طور پر مقدمات کی تیز بازیافت اور التوا کو کم کرنے کے لیے عہدبستہ ہے اور عدلیہ کے ذریعے مقدمات کی تیز تر تصفیے کے لیے ایک ایکو سسٹم فراہم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں:

  1. عدالت تک رسائی کو مزید آسان بنانے کے لیے ای-کورٹس پروجیکٹ کا تیسرا مرحلہ (2023-2027) 13.09.2023 کو 7,210 کروڑ روپے کے اخراجات سے منظور کیا گیا۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے 4,14,89,062 سے زیادہ عدالتی سماعتیں منعقد کی گئی ہیں اور کئی ہائی کورٹس میں لائیو سٹریمنگ فعال ہے۔ ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں مفت ای-کورٹس خدمات فراہم کرنے والے ای-سیوا کینڈروں (سہولت مراکز) کی تعداد بڑھ کر 2,515 ہو گئی ہے۔
  2. مرکزی طور پر معاون اسکیم یعنی فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس (ایف ٹی ایس سیز) اسکیم کے تحت، ریپ اور پاکسو ایکٹ کے زیر التوا مقدمات کی فوری تصفیے کے لیے، 30.04.2026 تک 29 ریاستوں/یونین علاقوں میں 775 فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس (ایف ٹی ایس سیز) بشمول 398 خصوصی پاکسو (ای-پاکسو) کورٹس فعال ہیں۔ 30.04.2026 تک، فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس نے مجموعی طور پر 3,87,481 مقدمات کا تصفیہ کیا ہے۔
  3. پانچ سال سے زیادہ زیر التوا مقدمات صاف کرنے کے لیے تمام 25 ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں التوا کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔
  4. سرکار نے التوا کو کم کرنے کے مقصد سے نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس (ترمیمی) ایکٹ، 2018، کمرشل کورٹس (ترمیمی) ایکٹ، 2018، اسپیسفک ریلیف (ترمیمی) ایکٹ، 2018 بھی نافذ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، نئے فوجداری قوانین 2023 نافذ کیے گئے ہیں۔
  5. سرکار نے متبادل تنازعات کے حل کے طریقوں کو بھی فروغ دیا ہے۔ کمرشل کورٹس ایکٹ، 2015 میں اگست 2018 میں ترمیم کر کے کمرشل تنازعات کی صورت میں پری-انسٹی ٹیوشن میڈیشن اینڈ سیٹلمنٹ (پی آئی ایم ایس) لازمی بنا دیا گیا۔ تنازعات کی تیز بازیافت کے لیے ٹائم لائنز مقرر کرتے ہوئے، آربیٹریشن اینڈ کنسیلی ایشن ایکٹ، 1996 میں 2015 کے آربیٹریشن اینڈ کنسیلی ایشن (ترمیمی) ایکٹ کے ذریعے ترمیم کی گئی ہے۔
  6. لوک عدالت ایک اہم متبادل تنازعات کے حل کا میکانزم ہے جو عام لوگوں کے لیے دستیاب ہے، جہاں عدالت میں زیر التوا تنازعات/مقدمات یا پری-لیٹی گیشن مرحلے پر دوستانہ طور پر طے/سمجھوتا کیے جاتے ہیں۔
  7. انصاف کا محکمہ ایک مرکزی شعبہ اسکیم، یعنی، ڈیزائننگ انوویٹو سولوشنز فار ہولسٹک ایکسیس ٹو جسٹس (ڈشا) 2.0، پانچ سال (2026-2031) کی مدت کے لیے 255 کروڑ روپے کے کل اخراجات کے ساتھ نافذ کر رہا ہے، جو ٹیلی-لا (ٹیلیفون کے ذریعے پری-لیٹی گیشن قانونی مشورہ)، نیائے بندھو (پرو بونو ایڈووکیٹس)، قانونی خواندگی و قانونی آگاہی اور وِدھی (وژن فار انٹیگریٹڈ ڈیلیوری آف ہارمونائزڈ لیگل انیشی ایٹوز)- سنجیونی پروگراموں کے ذریعے پورے بھارت میں انصاف تک رسائی پر ایک جامع، مربوط حل فراہم کرنے کے لیے ہے۔ 30 جون 2026 تک، ملک بھر میں 1.13 کروڑ سے زیادہ پری-لیٹی گیشن قانونی مشورے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ 30 جون 2026 تک، نیائے بندھو پلیٹ فارم پر کل 10,835 ایڈووکیٹس نے رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کروائی ہے۔ نیائے سیتو ای آئی چیٹ بوٹ بھاشینی سے فعال صلاحیت کے ذریعے خودکار سوالات کی ہینڈلنگ، ساختی ڈیٹا کی فہم، اور کثیر لسانی تعامل کی معاونت کو آسان بناتا ہے، یہ یقینی بناتے ہوئے کہ زبان انصاف سے متعلق خدمات کے لیے رکاوٹ نہ بنے۔

نیشنل جیوڈیشل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) پر دستیاب معلومات کے مطابق، 16.07.2026 تک، مختلف عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد، زمرہ وار حسب ذیل ہے:

نمبر شمار

عدالت کا نام

دیوانی مقدمات

فوجداری مقدمات

کل التوا

1.

سپریم کورٹ

74339

21685

96024

2.

ہائی کورٹ

4513738

1958798

6472536

3.

ضلعی اور ماتحت عدالتیں

11333509

38512029

49845538

یہ معلومات مرکزی وزیر قانون و انصاف جناب ارجن رام میگھوال جی نے راجیہ سبھا کو تحریری جواب میں فراہم کیں۔

 

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 476


(रिलीज़ आईडी: 2288572) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी