عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
پارلیمنٹ کا سوال: مرکزی سول سروسز کا جائزہ
प्रविष्टि तिथि:
23 JUL 2026 4:40PM by PIB Delhi
عملہ اور تربیت کا محکمہ (ڈی او پی ٹی) سینٹرل اسٹافنگ اسکیم، غیر مرکزی اسٹافنگ اسکیم، اور چیف نگرانی افسران کے طور پر تقرری کے تحت مرکزی سول افسران کے تبادلے اور کاموں کی تفویض سمیت مختلف کام انجام دیتا ہے۔ اس سلسلے میں، یونین پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام سول سروسز ایگزامنیشن (سی ایس ای) کے توسط سے سینٹرل سول سروسز (آئی اے ایس کے علاوہ) کے افسران بھرتی کیے گئے۔ مجموعی طور پر ایسے 1344 افسران نے گذشتہ پانچ برسوں میں مذکورہ بالا اسکیموں/ تقرریوں میں اپنے اصل کیڈر کے باہر ڈپیوٹیشن / تفویض کردہ ذمہ داری پر خدمات انجام دی ہیں۔
مذکورہ بالا تقرریوں کے علاوہ، ڈپوٹیشن/تفویض کردہ ذمہ داریاں مختلف وزارتوں/محکموں کے متعلقہ کیڈر کنٹرولنگ اتھارٹیز (سی سی اے) کی جانب سے دی اور چلائی جاتی ہیں، اور ایسی تقرریوں کے حوالے سے متعلقہ ریکارڈ سی سی اے کے ذریعے ہی برقرار رکھا جاتا ہے۔
کیڈر کا جائزہ (کیڈر ریویو) اور اس کی تنظیمِ نو ایک مسلسل عمل ہے۔ کیڈر کنٹرولنگ اتھارٹیز کی جانب سے جمع کرائی گئی تجاویز کی بنیاد پر، کیڈر ریویو گائیڈلائنز کے مطابق کیڈرز کی منظور شدہ تعداد کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
انڈین ریونیو سروس کا آخری کیڈر ریویو 2013 میں ہوا تھا جبکہ انڈین ٹیلی کمیونیکیشن سروس اور انڈین پوسٹل سروس دونوں کا کیڈر ریویو آخری بار 2016 میں کیا گیا تھا۔ کیڈر ریویو کے دوران، افرادی قوت کا تخمینہ تمام متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، جیسے کہ آٹومیشن اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کو اپنانا، کاروباری عمل کی ری انجینئرنگ، تنظیمی دائرہ اختیار میں تبدیلیاں، اور ڈیپوٹیشن کی ضروریات وغیرہ۔
یہ جانکاری عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کے وزیر مملکت اور وزیر اعظم کے دفتر کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ذریعہ آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی گئی۔
**********
(ش ح –اب ن)
U.No:469
(रिलीज़ आईडी: 2288514)
आगंतुक पटल : 10