زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آئی سی اے آر - سی آئی ایس ایچ اور اپیڈا کے بحری راستے کے پروٹوکول سے دبئی کو 12.5 ٹن دشہری اور لنگڑا آموں کی کامیاب برآمد ممکن

प्रविष्टि तिथि: 22 JUL 2026 6:58PM by PIB Delhi

بھارت کے تازہ آموں کی برآمد کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، آئی سی اے آر - سینٹرل انسٹی ٹیوٹ فار سب ٹراپیکل ہارٹیکلچر، لکھنؤ اور زرعی اور ڈبہ بند ہ غذائی مصنوعات کی برآمدات کی ترقی کا ادارہ  (اپیڈا) کے مشترکہ طور پر تیار کردہ بحری برآمدی پروٹوکول کے ذریعے امروہہ، اتر پردیش سے 40 فٹ کے ریفر (سرد خانہ) کنٹینر میں سمندری راستے سے 12.5 ٹن اعلیٰ معیار کے دشہری اور لنگڑا آم کامیابی کے ساتھ دبئی، متحدہ عرب امارات برآمد کیے گئے ہیں۔ یہ کھیپ 'شہناز ایکسپورٹ'، امروہہ کی جانب سے 'عطاشی گلوبل' کے تعاون سے، خلیجی خطے کی اہم ترین ریٹیل (پرچون) چین  میں سے ایک 'لولو گروپ'، متحدہ عرب امارات کو بھیجی گئی ہے، جس میں آئی سی اے آر - سی آئی ایس ایچ کی تکنیکی رہنمائی اور اپیڈا کا تعاون حاصل رہا۔

آموں کی کٹائی 22 جون 2026 کو کی گئی اور ان کی دیکھ بھال کٹائی کے بعد کی سائنسی طریقوں کی سفارشات کے مطابق کی گئی۔ پھلوں کی شیلف لائف کو بڑھانے کے لیے انہیں 'آئی سی اے آر - سی آئی ایس ایچ'   کے تیار کردہ 'میٹ واش' کے مطابق دیکھ بھال  کی گئی، سائنسی انداز میں ان کی درجہ بندی کی گئی، امروہہ پیک ہاؤس میں پیکنگ کی گئی، 40 فٹ کے ریفر کنٹینر میں لوڈ کیا گیا اور ایک مسلسل کولڈ چین کے تحت بحری راستے سے دبئی منتقل کیا گیا۔

مغربی خلل  (ویسٹرن ڈسٹربنس) سے متعلق تاخیر کی وجہ سے، یہ کھیپ 17 جولائی 2026 کو اپنی منزل کی منڈی تک پہنچی، جس نے کٹائی سے منڈی تک کا 25 دن کا سفر مکمل کیا۔ اس طویل سفری مدت کے باوجود، پہنچنے پر تقریباً 90 فیصد آم فروخت کے لیے بہترین حالت میں پائے گئے، جو اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو ثابت کرتا ہے۔

بحری راستے کے اس ضابطے (پروٹوکول) کی کامیاب تصدیق نے کم لاگت آمد و رفت کی مدد سے برآمدات بڑھا کر کسانوں کی آمدنی میں اضافے کا ایک پائیدار طریقہ فراہم کیا ہے۔ چونکہ ہوائی نقل و حمل کے مقابلے میں بحری مال برداری نمایاں طور پر سستی ہے، اس لیے برآمد کنندگان کسانوں کو بہتر خریداری کی قیمتیں دینے کے قابل ہو سکے۔ اس کے نتیجے میں آم کے کاشتکاروں کو روایتی برآمدی طریقوں کے مقابلے میں تقریباً 15 سے 20 روپے فی کلو کی اضافی آمدنی حاصل ہوئی، جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں بھارتی آموں کی مسابقت کو برقرار رکھتے ہوئے فارم کے منافع بخش  اور کارگر ثابت ہونے میں نمایاں اضافہ ہوا۔

اتر پردیش سے دبئی تک کٹائی سے منڈی تک پہنچنے کے 25 دن کی اس طویل مدت کے دوران دشہری اور لنگڑا آموں کی بحری راستے سے یہ پہلی کامیاب تجارتی ترسیل ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمدہ معیار کے بھارتی آموں کو اب معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر بحری راستے سے کم لاگت میں برآمد کیا جا سکتا ہے۔ اس کامیابی سے برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کی امید ہے کہ وہ بحری مال برداری کو زیادہ سے زیادہ اپنائیں، جس سے خلیجی خطے اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں بھارت کے تازہ آموں کی برآمدات کو مزید  وسعت حاصل ہو۔

اس ٹیکنالوجی سے اتر پردیش اور آم پیدا کرنے والی دیگر ریاستوں سے بحری راستے سے آموں کی برآمد کو تجارتی سطح پر تیز کرنے کی توقع ہے، جس سے خلیج اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدی آمدنی میں اضافہ ہوگا، لاجسٹک (نقل و حمل) کے اخراجات میں کمی آئے گی اور اتر پردیش کے آم کے کاشتکاروں کے معیارِ زندگی اور روزگار میں بہتری آئے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔ م م ع ۔ ن م۔

U- 420

                          


(रिलीज़ आईडी: 2288195) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी