تعاون کی وزارت
پنجاب میں کوآپریٹو اداروں کو مضبوط بنانا
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 5:36PM by PIB Delhi
حکومت ہند پرائمری زرعی قرض سوسائٹیوں (پی اے سی ایس) کے کمپیوٹرائزیشن کے لیے مرکزی معاونت یافتہ منصوبہ نافذ کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ریاست پنجاب میں 3,482 پی اے سی ایس کی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 3,454 پی اے سی ایس کو پہلے ہی انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ای آر پی) سافٹ ویئر سے منسلک کیا جا چکا ہے۔
منصوبے کے آغاز سے اب تک حکومت ہند نے اس منصوبے کے تحت ریاست پنجاب کو 33.94 کروڑ روپے جاری کیے ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں
|
Name of State
|
Financial Year
|
Amount Allocated
(Rs. In Crore)
|
Amount Released (Rs. In Crore)
|
|
Punjab
|
2024-25
|
13.32
|
NIL
(As the funds released by the Government of India in previous years were not utilized in accordance with the prescribed rules, the allocated funds could not be released in compliance with the guidelines issued by the Department of Expenditure, Government of India.)
|
|
2025-26
|
14.84
|
7.42
|
|
2026-27(till date)
|
4.00
|
1.00
|
سفید انقلاب 2.0 کے تحت اب تک ریاست پنجاب میں نئی کثیر المقاصد ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کی گئی ہیں اور موجودہ ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیوں کو مضبوط بنایا گیا ہے، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
15 جولائی 2026 تک پنجاب میں 1,027 نئی ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیاں رجسٹر کی جا چکی ہیں، جبکہ 951 موجودہ ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیوں کو مضبوط کیا گیا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی اناج ذخیرہ کرنے کی اسکیم کے تحت فوڈ کارپوریشن آف انڈیا نے پنجاب کے 9 اضلاع میں 5 لاکھ میٹرک ٹن ذخیرہ کرنے کی ضرورت کا تعین کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت پنجاب نے اب تک 30 پی اے سی ایس/کوآپریٹو سوسائٹیوں کی نشاندہی کی ہے، جن کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 2.84 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ تاہم، ریاست پنجاب کی جانب سے اب تک ان گوداموں کی تعمیر کا کام شروع نہیں کیا گیا ہے۔
حکومت ہند نے تمام متعلقہ فریقوں، جن میں ریاستیں، مرکز کے زیر انتظام علاقے، قومی سطح کی فیڈریشنیں، ریاستی کوآپریٹو بینک، ضلعی مرکزی کوآپریٹو بینک اور دیگر ادارے شامل ہیں، سے مشاورت کے بعد پی اے سی ایس کے لیے 5 جنوری 2023 کو مثالی ضابطۂ کار (ماڈل بائی لاز) تیار کرکے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ارسال کیا۔ ان ضوابط میں خواتین اور درج فہرست ذاتوں و درج فہرست قبائل کو مناسب نمائندگی دے کر پی اے سی ایس کی رکنیت کو زیادہ جامع اور شمولیتی بنانے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
ریاست پنجاب نے بھی انہی مثالی ضوابط کو اختیار کیا ہے اور ریاست کی مختلف پی اے سی ایس اس وقت پردھان منتری کسان سمرِدھی کیندر، پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی کیندر اور کامن سروس سینٹر جیسے اقدامات پر کام کر رہی ہیں۔
یہ معلومات امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 406 )
(रिलीज़ आईडी: 2287959)
आगंतुक पटल : 7