سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
فاسٹیگ پر مبنی ٹول وصولی اور ڈجیٹل ٹول نظام
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 4:59PM by PIB Delhi
حکومت نے غیر تجارتی کاروں، جیپوں اور وینوں کے لیے فاسٹ ٹیگ پر مبنی سالانہ پاس متعارف کرایا ہے، جو 15 اگست 2025ء سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔ اس اسکیم کے تحت، سال 2026-27 کے لیے 3,075 روپے کی ادائیگی پر سالانہ پاس کو فعال کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے ایک سال کی مدت یا 200 ٹول پلازہ کراسنگ تک تمام نیشنل ہائی ویز اور نیشنل ایکسپریس ویز کے ٹول پلازوں سے سفر کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ جون 2026ء تک، 77 لاکھ سے زیادہ سالانہ پاس جاری کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے نیشنل ہائی وے ٹول پلازوں پر 63 کروڑ ٹرانزیکشنز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ فی الحال، کار، جیپ اور وین کے ذریعے ہونے والے کل الیکٹرانک ٹول کلیکشن ٹرانزیکشنز کا تقریباً 33 فیصد حصہ سالانہ پاس ٹرانزیکشنز پر مشتمل ہے۔ اس سالانہ پاس اسکیم نے ٹول آپریشنز کی کارکردگی کو بہتر بنایا ہے اور سڑک صارفین کی سہولت میں اضافہ کیا ہے۔
حکومت نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے ذریعے قومی شاہراہوں پر ٹول ٹیکس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے متعدد شکایات کے ازالے کے نظام قائم کیے ہیں۔ شکایات نیشنل ہائی ویز کی 24 گھنٹے فعال رہنے والی ٹول فری ہیلپ لائن 1033، مخصوص ای میل falsededuction@ihmcl.com، متعلقہ فاسٹ ٹیگ جاری کرنے والے بینکوں کی ہیلپ لائنز، اور ساتھ ہی 'راجمارگ یاترا' ایپ کے ذریعے درج کرائی جا سکتی ہیں۔ یہ تمام نظام سڑک صارفین کے لیے انتہائی مؤثر، شفاف اور آسانی سے قابلِ رسائی ہیں۔
مزید برآں، قومی شاہراہوں پر ٹول ٹیکس کی وصولی میں آپریشنل سالمیت اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے، حکومت نے فاسٹ ٹیگ پر مبنی الیکٹرانک ٹول کلیکشن نظام نافذ کیا ہے۔ فی الحال، نیشنل الیکٹرانک ٹول کلیکشن پروگرام کے تحت ٹول ٹیکس کی تقریباً 98 فیصد سے زیادہ وصولی فاسٹ ٹیگ کے ذریعے ہوتی ہے۔ فاسٹ ٹیگ کے تمام ٹرانزیکشنز ایک محفوظ نظام کے تحت انجام پاتے ہیں جس میں ٹول مینجمنٹ سسٹم سافٹ ویئر، ٹول پلازہ پر موجود ایکوائرر بینک، مرکزی کلیئرنگ ہاؤس کے طور پر نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا اور فاسٹ ٹیگ جاری کرنے والا بینک شامل ہیں۔ اس لین دین میں ایک شفاف عمل شامل ہے جس کے تحت کٹوتی کی گئی ٹول فیس کی اطلاع شاہراہ کے صارفین کو دی جاتی ہے اور اسے ایک مرکزی ڈیٹا بیس میں ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ الیکٹرانک ٹول کلیکشن کا نظام اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ ان تینوں اسٹیک ہولڈرز یعنی ٹول پلازہ پر موجود ایکوائرر بینک، این پی سی آئی اور پاس جاری کرنے والے بینک کی شرکت کے بغیر فاسٹ ٹیگ کا کوئی بھی لین دین ممکن نہیں ہے۔
صنعت اور تعلیمی شعبے کے ماہرین پر مشتمل ایپیکس کمیٹی اور اعلیٰ سطحی بااختیار کمیٹی نے سیکیورٹی اور رازداری کے تحفظات، ڈیٹا کی خلاف ورزی اور مجموعی آپریشنل کنٹرول کے پیشِ نظر، جی پی ایس پر مبنی بیرئیر فری ٹولنگ سسٹم پر مزید غور و خوض کی سفارش کی ہے۔ تاہم، ٹول آپریشنز کو بہتر بنانے اور گاڑیوں کی بلاتعطل آمد و رفت کو ممکن بنانے کی کوشش میں، حکومت نے اے آئی اینالیٹکس کے ساتھ 'آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن' اور آر ایف آئی ڈی پر مبنی الیکٹرانک ٹول کلیکشن کے ذریعے ملٹی لین فری فلو کو لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو بیرئیر کے بغیر ٹولنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے، جہاں گاڑی کے صارفین کو روکے، گاڑی دھیمی کیے یا کسی مخصوص لین میں رہے بغیر ہی ٹول ٹیکس وصول کر لیا جائے گا۔ موجودہ فاسٹ ٹیگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ملٹی لین فری فلو پر مبنی بیرئیر لیس ٹولنگ کا ٹھیکہ ضمیمہ اے کے مطابق 17 ٹول پلازوں کو دیا گیا ہے۔ ان 17 میں سے 05 ٹول پلازے پہلے ہی فعال ہو چکے ہیں، جن میں چوریاسی ٹول پلازہ (سورت، گجرات)؛ منڈکا ٹول پلازہ (دہلی)؛ گھروندا ٹول پلازہ (ہریانہ)؛ منوہر پورہ ٹول پلازہ (راجستھان) اور دولت پورہ ٹول پلازہ (راجستھان) شامل ہیں۔ مزید برآں، ضمیمہ بی کے مطابق اضافی 104 ٹول پلازوں کے لیے بولیاں مدعو کی گئی ہیں۔
ضمیمہ
یہ معلومات سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری کے ذریعہ آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دیا گیا۔
**********
(ش ح –اب ن)
U.No:392
(रिलीज़ आईडी: 2287902)
आगंतुक पटल : 6