خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت مشن واتسلیہ کے نفاذ کی مسلسل نگرانی اور جائزہ لیتی ہے
یہ اسکیم جووینائل جسٹس (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ایکٹ، 2015 کے قانونی فریم ورک کے تحت مشکل حالات میں بچوں کے لیے ادارہ جاتی اور غیر ادارہ جاتی نگہداشت اور معاون خدمات فراہم کرتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 4:03PM by PIB Delhi
مشن واتسلیہ اسکیم ایک مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم ہے جسے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) نے دیکھ بھال اور تحفظ کی ضرورت والے بچوں (سی این سی پی) اور قانون کے ساتھ تنازع میں بچوں (سی سی ایل) کی مدد کے لیے نافذ کیا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد لاپتہ اور کمزور بچوں سمیت مشکل حالات میں بچوں کی دیکھ بھال، تحفظ، بحالی اور دوبارہ انضمام کو یقینی بنانا ہے۔
خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً ہونے والی میٹنگوں، پروگرام منظوری بورڈ (پی اے بی) کی میٹنگوں، جائزہ کانفرنسوں، فیلڈ دوروں اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے موصولہ رپورٹوں کے تجزیے کے ذریعے مشن واتسلیہ کے نفاذ کی مسلسل نگرانی اور جائزہ لیتی ہے۔
یہ اسکیم جووینائل جسٹس (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ایکٹ، 2015 کے قانونی فریم ورک کے تحت مشکل حالات میں بچوں کے لیے ادارہ جاتی اور غیر ادارہ جاتی نگہداشت اور معاون خدمات فراہم کرتی ہے۔
مزید برآں، جے جے ایکٹ، 2015 کی دفعہ 55 متعلقہ خدمات کی فراہمی کے ڈھانچے کے کام کاج کی تشخیص فراہم کرتی ہے۔ اس شق کے تحت، مرکزی حکومت، ریاستی حکومت یا ضلع مجسٹریٹ آزادانہ طور پر جووینائل جسٹس بورڈ، چائلڈ ویلفیئر کمیٹی، اسپیشل جووینائل پولیس یونٹس، رجسٹرڈ اداروں اور منظور شدہ فِٹ سہولیات یا افرادکے کام کاج کا اس طرح کے وقفوں پر اور اس طرح کی ایجنسیوں کے ذریعے جائزہ لے سکتے ہیں۔
جے جے ایکٹ، 2015 کی دفعہ 41 بچوں کی دیکھ بھال کے تمام اداروں کی لازمی رجسٹریشن کا حکم دیتی ہے، چاہے وہ ریاستی حکومت کے ذریعے چلائے جائیں یا رضاکارانہ/غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے، ایک مقررہ مدت کے اندر، جس میں ناکام ہونے پر وہ ایکٹ کے تحت کارروائی کے ذمہ دار ہوں گے۔ مزید برآں، جووینائل جسٹس (کیئر اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ، 2015 کی دفعہ 42 چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشنز (سی سی آئی) کا اندراج نہ کرنے پر تعزیری کارروائی کا التزام کرتی ہے۔ سی سی آئی کی رجسٹریشن، معائنہ، نگرانی اور ضابطے کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت وقتاً فوقتاً ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تمام سی سی آئی کی شناخت، رجسٹریشن اور باقاعدہ معائنہ کے لیے مشورے جاری کرتی ہے۔
جے جے ایکٹ، 2015 دیکھ بھال اور تحفظ کی ضرورت والے بچوں کی بحالی، سماجی بحالی اور وطن واپسی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ایکٹ کی دفعہ 39 میں کہا گیا ہے کہ بحالی اور سماجی بحالی انفرادی نگہداشت کے منصوبے کی بنیاد پر کی جائے گی، ترجیحی طور پر خاندان پر مبنی دیکھ بھال، جیسے خاندان یا سرپرست کے ساتھ بحالی، گود لینے، رضاعی نگہداشت یا کفالت کے ذریعے۔ دفعہ 40 یہ فراہم کرتی ہے کہ بچے کی بحالی اور تحفظ چائلڈ کیئر اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کو مناسب تفتیش اور موزونیت کے تعین کے بعد بچے کو والدین، سرپرستوں یا فِٹ افراد کے حوالے کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
ترقیاتی نگرانی اور تشخیص کے دفتر (ڈی ایم ای او)، نیتی آیوگ نے سال 2025 میں 'مرکزی اسپانسرڈ اسکیموں ' کی تشخیص کی اور رپورٹ شائع کی، جس میں سفارش کی گئی کہ مشن واتسلیہ اسکیم کو اس کے تمام اجزاء میں اعلیٰ مطابقت اور مؤثر کارکردگی کی بنیاد پر جاری رکھا جانا چاہیے۔
مشن واتسلیہ کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو سی ڈبلیو سیز، جووینائل جسٹس بورڈز (جے جے بیز)، ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس (ڈی سی پی یوز)، اسٹیٹ چائلڈ پروٹیکشن سوسائٹیز (ایس سی پی ایس)، اسٹیٹ ایڈاپشن ریسورس ایجنسیوں (ایس اے آر اے) اور چائلڈ کیئر اداروں سمیت قانونی اداروں اور خدمات کی فراہمی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ ان اداروں میں خالی آسامیوں کو پُر کرنا متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ وزارت باقاعدگی سے صورتِ حال کا جائزہ لیتی ہے اور خالی آسامیوں کو بروقت پُر کرنے اور کمزور بچوں کے لیے بحالی کی خدمات کو مضبوط بنانے کو یقینی بنانے کے لیے مشورے جاری کرتی ہے۔
یہ معلومات خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔
***
UR-389
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2287888)
आगंतुक पटल : 12