دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پردھان منتری آواس یوجنا-دیہی (پی ایم اے وائی-جی) کے تحت ہدف کا حصول

प्रविष्टि तिथि: 21 JUL 2026 7:01PM by PIB Delhi

پردھان منتری آواس یوجنا-دیہی (پی ایم اے وائی-جی) کے تحت گزشتہ پانچ برسوں (22-2021 سے 26-2025) کے دوران ہدف کے مقابلے میں منظور شدہ مکانات، مکمل کیے گئے مکانات اور زیرِ تعمیر مکانات کی ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ-1 میں دی گئی ہیں۔

16 جولائی 2026 تک ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے منظور شدہ اور مکمل شدہ مکانات کی مجموعی پیش رفت ضمیمہ-2 میں فراہم کی گئی ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں (22-2021 سے 26-2025) کے دوران پی ایم اے وائی-جی کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر 1,34,242.45 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ اس میں وزارت کی جانب سے مدھیہ پردیش کو 19,013.72 کروڑ روپے اور مہاراشٹر کو 14,898.43 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اسکیم کے تحت جاری مالی امداد اور سال 2026-27 کے لیے منظور شدہ مالیاتی تخصیص کی ریاست وار اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی تفصیلات ضمیمہ-3 میں دی گئی ہیں۔

پی ایم اے وائی-جی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مکانات کی تعمیر میں تیزی لانے کی غرض سے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں:

  1. ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بروقت اہداف کی تخصیص اور مناسب فنڈز کی فراہمی؛

(ii) پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ؛

(iii) ڈیش بورڈ کے ذریعے اسکیم کی نگرانی اور مؤثر جائزہ؛

(iv) وزارت کی جانب سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدہ ورکشاپس کا انعقاد؛

(v) دیہی مستریوں کی تربیت کا پروگرام، وغیرہ شامل ہیں۔

اس اسکیم کے تحت فی یونٹ مالی امداد کے علاوہ سوچھ بھارت مشن-دیہی (ایس بی ایم-جی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے بیت الخلا کی تعمیر کے لیے 12 ہزار روپے کی اضافی مالی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ مزید برآں، مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت اسکیم (ایم جی این آر ای جی ایس)/وی بی جی-رام جی کے ساتھ اشتراک کے تحت، منظورہ ضوابط کے مطابق ہر مستفید کنبے کو مکان کی تعمیر کے لیے مقررہ غیر ہنرمند مزدوری کے دن موجودہ اجرت کی شرح پر فراہم کرنے کا بھی انتظام ہے۔

پی ایم اے وائی-جی کے مستفید خاندانوں کو جل جیون مشن (جے جے ایم)، وزارت جل شکتی کے محکمہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی ہر گھر نل سے جل (ایچ جی این ایس جے) یا دیگر مماثل اسکیموں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے نل کے ذریعے پینے کا پانی بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وزارت توانائی، ریاستی حکومتوں یا مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی متعلقہ اسکیموں کے تحت بجلی کے کنکشن اور وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس کی پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) یا دیگر متعلقہ اسکیموں کے ذریعے ایل پی جی کنکشن بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

پی ایم اے وائی-جی کے اشتراکی اقدامات میں مستفید کنبوں کی خواتین کو سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز) میں شامل کرنا بھی شامل ہے، جس سے ان کی سماجی اور معاشی خودمختاری کو فروغ ملتا ہے۔

16 جولائی 2026 تک قومی سطح پر 3.08 کروڑ مکانات کو بیت الخلا، 2.43 کروڑ کو پینے کے پانی کے کنکشن، 3.07 کروڑ کو بجلی کے کنکشن، 2.90 کروڑ کو ایل پی جی کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ 1.35 کروڑ مستفید کنبوں کو سیلف ہیلپ گروپس سے جوڑا جا چکا ہے۔

پی ایم اے وائی-جی کے اثرات کا جائزہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ پالیسی (این آئی پی ایف پی)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایتی راج (این آئی آر ڈی اینڈ پی آر)، نیتی آیوگ اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، احمد آباد (آئی آئی ایم-اے) جیسے اداروں نے لیا ہے۔ ان میں تازہ ترین مطالعہ آئی آئی ایم-اے کی جانب سے کیا گیا، جبکہ تمام مطالعات میں رہائش اور مجموعی معیارِ زندگی پر اسکیم کے مثبت اثرات کی تصدیق کی گئی ہے۔

وزارت نے آئی آئی ایم-اے کو 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پی ایم اے وائی-جی کا آزادانہ جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ 2026 میں مکمل ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، پی ایم اے وائی-جی نے دیہی کنبوں کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری لائی ہے۔ اس سے رہائشی تحفظ میں اضافہ، صفائی ستھرائی میں بہتری، صحت کے بہتر نتائج، گھریلو آمدنی اور بچت میں اضافہ، بے گھر افراد اور مجبوری میں نقل مکانی میں کمی اور مالیاتی شمولیت کو فروغ ملا ہے۔ جائزے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس اسکیم نے مستفیدین کے وقار، معیارِ زندگی اور مجموعی سماجی و معاشی بہبود پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

یہ معلومات دیہی ترقی کے وزیر مملکت جناب ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

****

Annexure - I

Details of number of houses sanctioned, houses completed and houses under construction against the target year under PMAY-G during the last 5 years (State-wise):

Sr.No.

State

Houses Sanctioned

Houses Completed

Houses Under Construction

1

Arunachal Pradesh

5,497

5,497

0

2

Assam

21,60,640

15,44,832

6,15,808

3

Bihar

22,10,788

15,12,269

6,98,519

4

Chhattisgarh

13,54,352

9,63,548

3,90,804

5

Goa

0

0

0

6

Gujarat

4,18,814

3,14,715

1,04,099

7

Haryana

54,816

19,805

35,011

8

Himachal Pradesh

85,281

57,162

28,119

9

Jammu And Kashmir

1,98,923

1,92,741

6,182

10

Jharkhand

7,41,074

4,55,559

2,85,515

11

Kerala

63,638

18,263

45,375

12

Madhya Pradesh

27,64,648

17,34,797

10,29,851

13

Maharashtra

31,41,251

10,22,269

21,18,982

14

Manipur

72,781

25,229

47,552

15

Meghalaya

1,22,387

1,01,284

21,103

16

Mizoram

16,427

12,015

4,412

17

Nagaland

30,700

22,183

8,517

18

Odisha

9,74,212

7,92,216

1,81,996

19

Punjab

52,392

31,805

20,587

20

Rajasthan

11,09,687

7,00,010

4,09,677

21

Sikkim

67

67

0

22

Tamil Nadu

2,57,759

2,34,776

22,983

23

Tripura

3,27,528

3,25,428

2,100

24

Uttar Pradesh

14,77,701

14,69,493

8,208

25

Uttarakhand

42,812

42,651

161

26

West Bengal

12,60,941

1,52,014

11,08,927

27

Andaman And Nicobar

1,288

220

1,068

28

Dadra And Nagar Haveli

5,116

2,045

3,071

29

Lakshadweep

0

0

0

30

Andhra Pradesh

1,79,410

41,761

1,37,649

31

Karnataka

4,11,890

52,250

3,59,640

32

Ladakh

1,125

1,125

0

Total

1,95,43,945

1,18,48,029

76,95,916

Annexure - II

ANNEXURE REFERRED TO IN REPLY TO PART (b) OF LOK SABHA UNSTARRED QUESTION NO. 447 TO BE ANSWERED ON 21.07.2026.

 

The State/UT wise progress under the PMAY-G is as under:

S. No.

Name of the State/UT

Targets allocated by Ministry

Houses sanctioned by the States/UTs

Houses completed

Balance completion against targets

1

Arunachal Pradesh

35,937

35,591

35,591

346

2

Assam

29,62,945

29,09,032

22,88,557

6,74,388

3

Bihar

50,12,752

49,09,838

41,89,147

8,23,605

4

Chhattisgarh

26,42,224

24,51,294

20,16,970

6,25,254

5

Goa

257

254

243

14

6

Gujarat

8,39,116

8,29,480

7,17,038

1,22,078

7

Haryana

1,06,460

76,468

41,269

65,191

8

Himachal Pradesh

1,08,389

1,02,682

69,018

39,371

9

Jammu and Kashmir

3,41,644

3,35,367

3,26,558

15,086

10

Jharkhand

20,12,107

19,37,885

16,37,931

3,74,176

11

Kerala

1,13,404

85,671

39,991

73,413

12

Madhya Pradesh

57,74,572

54,14,165

43,38,053

14,36,519

13

Maharashtra

43,80,522

41,39,992

19,84,776

23,95,746

14

Manipur

1,13,550

1,06,813

56,929

56,621

15

Meghalaya

1,88,034

1,84,296

1,59,693

28,341

16

Mizoram

29,967

29,959

25,433

4,534

17

Nagaland

48,830

48,727

38,021

10,809

18

Odisha

28,28,739

28,06,753

25,47,541

2,81,198

19

Punjab

1,13,911

1,04,710

55,522

58,389

20

Rajasthan

24,93,546

24,32,085

20,12,820

4,80,726

21

Sikkim

1,399

1,397

1,393

6

22

Tamil Nadu

9,57,825

7,34,049

6,71,783

2,86,042

23

Tripura

3,76,913

3,76,174

3,73,940

2,973

24

Uttar Pradesh

42,77,493

36,55,821

36,42,934

6,34,559

25

Uttarakhand

69,755

68,935

68,241

1,514

26

West Bengal

46,69,423

45,69,031

34,20,433

12,48,990

27

Andaman and Nicobar Islands

3,424

2,591

1,452

1,972

28

Dadra and Nagar Haveli and Daman and Diu

11,364

10,540

6,757

4,607

29

Lakshadweep

45

45

45

0

30

Andhra Pradesh

3,21,326

2,46,929

90,581

2,30,745

31

Karnataka

9,44,140

5,68,955

1,71,836

7,72,304

32

Telangana

0

0

0

0

33

Ladakh

3,004

3,004

3,004

0

Total (for all States/UTs)

4,17,83,017

(4.18 Crore)

3,91,78,533

(3.92 Crore)

3,10,33,500

(3.10 Crore)

1,07,49,517

(1.08 Crore)

Note: The PMAY-G is not implemented in UTs of Delhi, Chandigarh and Puducherry. The State of Telangana did not implement the PMAY-G during previous phase of the Scheme (FY 2016-2024)

Annexure - III

ANNEXURE REFERRED TO IN REPLY TO PART (c) OF LOK SABHA UNSTARRED QUESTION NO. 447 TO BE ANSWERED ON 21.07.2026.

Details of financial assistance released under the scheme during the last five years (State-wise):

(Rs. in crores)

S.No

State/UT

Central Share Released (FY 2021-22 to FY 2025 - 26)**

Approved Tentative Allocation for
FY 2026-27*

1

Arunachal Pradesh

376.04

-

2

Assam

24,232.40

4,769.00

3

Bihar

15,446.89

1,420.15

4

Chhattisgarh

9,566.51

2,730.72

5

Goa

0.00

-

6

Gujarat

3,565.74

947.77

7

Haryana

211.34

269.38

8

Himachal Pradesh

1,096.25

239.77

9

Jammu And Kashmir

2,679.57

-

10

Jharkhand

3,885.96

3,181.55

11

Kerala

228.88

1,341.00

12

Madhya Pradesh

19,013.72

7,268.80

13

Maharashtra

14,898.43

10,201.09

14

Manipur

622.41

61.43

15

Meghalaya

1,788.81

-

16

Mizoram

242.35

-

17

Nagaland

472.10

-

18

Odisha

7,996.87

630.61

19

Punjab

442.87

95.49

20

Rajasthan

6,287.23

2,690.93

21

Sikkim

3.12

-

22

Tamil Nadu

3,159.29

1,041.91

23

Tripura

4,131.28

-

24

Uttar Pradesh

11,257.33

377.53

25

Uttarakhand

685.76

-

26

West Bengal

687.84

-

27

Andaman And Nicobar

5.45

-

28

Dadra And Nagar Haveli & Daman And Diu

23.62

-

29

Lakshadweep

-

-

30

Andhra Pradesh

515.74

4.92

31

Karnataka

669.17

4,652.55

32

Ladakh

21.99

-

Total

1,34,242.45

41,924.60

*The financial allocation is subject to revision based on the allocation of targets to the respective States/UTs.

**including PM-JANMAN

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :308  )


(रिलीज़ आईडी: 2287450) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी