دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این ایس اے پی کے تحت امدادی رقم میں ترمیم

प्रविष्टि तिथि: 21 JUL 2026 6:58PM by PIB Delhi

قومی سماجی امداد کا پروگرام (این ایس اے پی) ملک بھر میں ایک سماجی تحفظ کے پروگرام کے طور پر نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد سماج کے کمزور طبقات جیسے کہ خطِ غربت سے نیچے (بی پی ایل) زندگی گزارنے والے معمر افراد، بیواؤں اور معذور افراد کی مدد کرنا ہے۔ این ایس اے پی پنشن اسکیموں کے تحت مرکزی امداد کی شرح، بشمول قومی ضعیف العمری پنشن اسکیم، قومی بیوہ پنشن اسکیم اور قومی معذوری پنشن اسکیم، میں آخری بار 2012 میں ترمیم کی گئی تھی۔

قومی سماجی امداد کا پروگرام (این ایس اے پی) خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے 3 کروڑ سے زیادہ مستفیدین کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے جمع کی گئی معلومات کے مطابق، تقریباً 5.9 کروڑ اضافی پنشنرز کو ریاستی فنڈ سے چلنے والی سماجی پنشن اسکیموں کا تعاون حاصل ہے۔ اس طرح، تقریباً 9 کروڑ مستفیدین یا تو مرکزی پنشن اسکیموں اور/یا ریاستوں کی اپنی مخصوص سماجی تحفظ کی پنشن اسکیموں کے تحت پنشن کے فوائد حاصل کر رہے ہیں، جن میں سے کئی اسکیموں نے دائرہ کار کو وسیع کیا ہے اور مقامی ضرورتوں کے مطابق زیادہ امداد فراہم کر رہی ہیں۔ اس وقت، ریاستیں مستفیدین کو 50/- روپے سے لے کر 5700/- روپے ماہانہ تک کی ٹاپ اپ رقم دے رہی ہیں۔ نتیجے کے طور پر، کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں این ایس اے پی پنشنرز کو اوسطاً 1100/- روپے ماہانہ پنشن مل رہی ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے ادا کیے جانے والے ٹاپ اپ کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔

وزارت اور نیتی آیوگ کی جانب سے وقت بہ وقت این ایس اے پی اسکیموں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مختلف تشخیصی اور مطالعاتی جائزے کیے گئے ہیں۔ ان جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نچلی سطح پر اسکیم کا نفاذ تسلی بخش رہا ہے، اور زیادہ تر مستفیدین نے پنشن کے لیے انتخاب، منظوری اور فنڈز کی منتقلی کے طریقہ کار پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان جائزوں میں یہ بھی پایا گیا ہے کہ پنشن کی اس امداد نے مستفیدین کو خوراک، صحت کی دیکھ بھال وغیرہ جیسے ضروری اخراجات پورے کرنے میں مدد دی ہے، جس کی وجہ سے ان ضروریات کے لیے خاندان کے دیگر افراد پر ان کا انحصار کم ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ان جائزوں میں امداد کی رقم کو مزید مناسب بنانے، بروقت اور باقاعدہ ادائیگیوں کو یقینی بنانے، اور مستفیدین کی تصدیق و نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے جیسے اقدامات کے ذریعے اس پروگرام کو مزید مضبوط کرنے کی سفارشات بھی کی گئی ہیں۔

فی الحال، این ایس اے پی کے تحت امداد کی شرح میں ترمیم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

یہ معلومات وزیر مملکت برائے دیہی ترقیات جناب کملیش پاسوان کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی گئی۔

***

 (ش ح –اب ن)

U.No:296


(रिलीज़ आईडी: 2287410) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी