ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
صنعتی ضرورتوں کے لیے مہارت کی ترقی
प्रविष्टि तिथि:
20 JUL 2026 4:18PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے اسکل انڈیا مشن کے تحت، وزارت ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری (ایم ایس ڈی ای) مختلف اسکیموں، مثلاً پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی)، جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس)، نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) اور صنعتی تربیتی اداروں کے ذریعے کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) کے تحت ملک بھر کے تمام طبقات کو ہنر مندی، از سر نو ہنر مندی اور اعلیٰ درجے کی ہنر مندی کی تربیت، وسیع نیٹ ورک پر مشتمل ہنر مندی مراکز/اداروں وغیرہ کے ذریعے فراہم کرتی ہے۔ اسکل انڈیا مشن کا مقصد ہندوستان کے نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا اور صنعت سے متعلق مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔
ہنر مندی کی تربیتی پروگراموں کو صنعت کی ضروریات اور مستقبل کی ملازمتوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے صنعت کی قیادت میں درج ذیل ہنر مندی ترقیاتی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں:
- پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 میں طلب پر مبنی ہنر مندی کی تربیت پر زور دیا گیا ہے، جس میں ابھرتے ہوئے شعبوں میں اعلیٰ درجے کی ہنر مندی اور از سر نو ہنر مندی شامل ہیں۔ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور گرین ٹیکنالوجیز جیسی مستقبل کی مہارتوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ نوجوانوں کو ابھرتے ہوئے روزگار کے کرداروں کے لیے تیار کیا جا سکے۔ مختلف شعبوں کا یہ وسیع احاطہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت ملک میں ہنر مندی کے پروگراموں کو صنعت کی طلب سے ہم آہنگ کرنے اور روایتی نیز مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ شعبوں میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔
- پی ایم کے وی وائی کے تحت دوران ملازمت تربیت کو فروغ دیا جاتا ہے تاکہ کلاس روم میں حاصل کی جانے والی تعلیم اور عملی کام کی جگہ کی ضروریات کے درمیان مضبوط ربط قائم ہو۔ نصاب کی تیاری میں صنعت کے ماہرین فعال کردار ادا کرتے ہیں، جس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ نصاب موجودہ مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ صنعتوں کو ہنر مند امیدواروں سے براہِ راست جوڑنے کے لیے روزگار میلے، کیریئر رہنمائی کے اجلاس اور دیگر پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔
- iii. ہنر مندی کے ترقیاتی پروگراموں میں صنعت کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ دینے کے لیے وزارت نے صنعت سے ہم آہنگ تربیت، اپرنٹس شپ سے منسلک ہنر مندی کے اقدامات اور مقامی صنعتوں کے ساتھ شراکت داری کو ترجیح دی ہے۔
- iv. نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ نے صنعت کی ضروریات کے مطابق 10,209 اہلیتوں کی منظوری دی ہے، جن میں 2,975 اہلیتیں اس وقت مؤثر اور فعال ہیں۔
- مختلف شعبوں کے صنعتی رہنماؤں کی قیادت میں 36 سیکٹر اسکل کونسل (ایس ایس سی) قائم کی گئی ہیں، جنہیں متعلقہ شعبوں کی ہنر مندی کی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور مہارت کی اہلیت کے معیارات طے کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی) مارکیٹ پر مبنی پروگرام کے تحت ایسے تربیتی اداروں کی معاونت کرتا ہے جو صنعت کی طلب کے مطابق ہنر مندی کے کورسز ترتیب دیتے اور انہیں صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔
- vi. حکومت ہند نے ہنر مندی کی ترقی اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے شعبے میں عالمی تقاضوں کے مطابق ہنر مندی کی کوششوں کو ہم آہنگ بنانے کے لیے 14 ممالک کے ساتھ مفاہمت نامے (ایم او یو) اور یادداشت تعاون (ایم او سی) پر دستخط کیے ہیں۔
- ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) نے کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) کے تحت صنعتی تربیتی اداروں اور نیشنل اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں نئی نسل/ مستقبل کی مہارتوں سے متعلق 32 نئے کورسز متعارف کرائے ہیں، تاکہ 5G نیٹ ورک ٹیکنیشن، آرٹیفیشل انٹیلی جنس پروگرامنگ اسسٹنٹ، سائبر سکیورٹی اسسٹنٹ، ڈرون ٹیکنیشن وغیرہ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تربیت فراہم کی جا سکے۔
- ڈی جی ٹی فلیکسی مفاہمتی یادداشت اسکیم اور ڈوئل سسٹم آف ٹریننگ (ڈی ایس ٹی) نافذ کر رہا ہے، جن کا مقصد آئی ٹی آئی کے طلبہ کو صنعتوں کی ضروریات کے مطابق صنعتی ماحول میں عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔
- ix. ڈی جی ٹی نے آئی بی ایم، سسکو، فیوچر اسکل رائٹس نیٹ ورک، اے ڈبلیو ایس اور مائکرو سافٹ جیسی آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں تاکہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری اقدامات کے تحت ریاستی اور علاقائی سطح پر اداروں کے لیے صنعت سے روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ شراکت داریاں جدید ٹیکنالوجیوں میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
- انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسکلز (آئی آئی ایس)، جو احمد آباد اور ممبئی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت قائم کیے گئے ہیں، کا مقصد انڈسٹری 4.0 کے لیے ایسی افرادی قوت تیار کرنا ہے جو جدید ترین ٹیکنالوجی اور عملی تربیت سے آراستہ ہو اور صنعت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہو۔
- xi. ایم ایس ڈی ای کے تحت نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی) نے ڈیجیٹل کورسز کی فراہمی کے لیے اے ڈبلیو ایس، مائکرو سافٹ، انٹیل، ریٹ ہیٹ، Pearson VUE، بی سی جی اور سسکو نیٹ ورکنگ اکیڈمی سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے۔
- نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم تعلیم سے روزگار تک آسان منتقلی کو فروغ دیتی ہے، تاکہ اپرنٹس عملی تجربے کے ذریعے صنعت سے متعلق مخصوص مہارتیں حاصل کر سکیں۔ این اے پی ایس کے تحت مستفیدین کو براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے ماہانہ 1,500 روپے تک وظیفہ فراہم کیا جاتا ہے۔
- حکومت نے پی ایم-سیتو کے نام سے 60,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پر مشتمل ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم شروع کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ملک بھر میں 1,000 سرکاری آئی ٹی آئیز کو ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے مطابق جدید بنایا جائے گا، جس میں 200 ہب آئی ٹی آئیز اور 800 اسپوک آئی ٹی آئیز شامل ہوں گے۔ پی ایم-سیتو صنعت کی قیادت میں نظام حکمرانی کے ذریعے روزگار کے بہتر نتائج حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے، اور بالواسطہ طور پر خود روزگاری اور صنعت کاری کو بھی فروغ دیتی ہے۔ اس کے تحت سیکھنے والوں (بشمول ابتدائی مرحلے کے کاروباری اداروں اور پہلی مرتبہ کاروبار شروع کرنے والے افراد) کو صنعت سے متعلق مہارتیں حاصل کرنے، حقیقی کام کے ماحول کا تجربہ حاصل کرنے، اور مضبوط ادارہ جاتی نظام اور صنعت سے روابط کے ذریعے کیریئر رہنمائی، ملازمت میں تقرری اور خود روزگاری سے متعلق معاونت تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔
- ایم ایس ڈی ای نے اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب کا آغاز کیا ہے، جو ایک متحد پلیٹ فارم ہے اور ہنر مندی، تعلیم، روزگار اور صنعت کاری کے نظاموں کو یکجا کرتا ہے تاکہ مختلف فریقین کو زندگی بھر دستیاب رہنے والی متعدد خدمات فراہم کی جا سکیں۔ تربیت یافتہ امیدواروں کی تفصیلات سدھ پورٹل پر دستیاب ہیں تاکہ انہیں ممکنہ آجرین سے جوڑا جا سکے۔ اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب کے ذریعے امیدوار ملازمتوں اور اپرنٹس شپ کے مواقع تک بھی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ہنر مندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، جناب جینت چودھری نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں یہ معلومات۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
20-07-2026
U: 182
(रिलीज़ आईडी: 2286708)
आगंतुक पटल : 11