سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر اور سی جی پی ڈی ٹی ایم کے دفتر کے درمیان این کے آر سی کے ذریعے عالمی علمی وسائل تک رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط
प्रविष्टि तिथि:
16 JUL 2026 5:45PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی وزارت تجارت و صنعت کے تحت صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے کنٹرولر جنرل آف پیٹنٹس، ڈیزائنز اینڈ ٹریڈ مارکس (سی جی پی ڈی ٹی ایم) کے دفتر اور سی ایس آئی آر-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ پالیسی ریسرچ (سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر) نے اعلیٰ معیار کی سائنسی، تکنیکی اور دانشورانہ املاک سے متعلق معلومات تک رسائی کو مضبوط بنانے کے مقصد سے آج نیشنل نالج ریسورس کنسورشیم (این کے آر سی) میں شمولیت کے لیے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔
مفاہمت نامے پر دستخط کی تقریب سرسوتی ہال، بودھک سمپدا بھون، دوارکا، نئی دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔ مفاہمت نامے پر کنٹرولر جنرل آف پیٹنٹس، ڈیزائنز اینڈ ٹریڈ مارکس پروفیسر (ڈاکٹر) انّت پی پنڈت اور سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر گیتا وانی رے سم نے دستخط کیے۔
تقریب کا آغاز معزز مہمانوں کے استقبال سے ہوا، جس کے بعد دونوں اداروں کی سرگرمیوں اور این کے آر سی کے ذریعے عالمی معیار کے سائنسی و تکنیکی معلوماتی وسائل تک آسان رسائی کے کردار پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر گیتا وانی رے سم نے کہا کہ یہ اشتراک صرف این کے آر سی کے ذریعے علمی معلومات تک رسائی تک محدود نہیں بلکہ دونوں ادارے پیٹنٹ معلوماتی خدمات، دانشورانہ املاک کے انتظام، سائنسی ابلاغ، سائنسی پالیسی تحقیق، صلاحیت سازی، ڈیجیٹل علم کے انتظام اور سائنسی معلومات کی اشاعت جیسے شعبوں میں بھی مشترکہ طور پر کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ شراکت داری محققین، اختراع کاروں، پالیسی سازوں اور ملک کے دانشورانہ املاک کے نظام کے لیے طویل مدتی اسٹریٹجک تعاون میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر تعاون اور وسائل کے بہتر استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کلیدی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر (ڈاکٹر) انّت پی پنڈت نے این کے آر سی اور سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر کو گزشتہ 25 برسوں کے دوران کنسورشیم کے کامیاب انتظام اور توسیع پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ این کے آر سی کی سلور جوبلی کے موقع پر سی جی پی ڈی ٹی ایم کی شمولیت ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے ادارے کو اعلیٰ معیار کے سائنسی، تکنیکی، پیٹنٹ اور کتابیات سے متعلق وسائل تک رسائی حاصل ہوگی اور کنسورشیم ماڈل کے ذریعے اخراجات میں بھی نمایاں بچت ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ شراکت داری دانشورانہ املاک، اختراع اور معلوماتی خدمات سمیت دیگر شعبوں میں بھی تعاون کے نئے مواقع فراہم کرے گی۔
این کے آر سی پر تفصیلی پریزنٹیشن ڈیجیٹل اطلاعاتی وسائل ڈویژن کے سربراہ اور این کے آر سی کے کوآرڈی نیٹر مکیش اے پنڈ نے پیش کی۔ انہوں نے گزشتہ 25 برسوں کے دوران کنسورشیم کی ترقی، اس کے انتظامی ڈھانچے، سبسکرپشن ماڈل، وسائل کی شراکت داری اور قومی سطح پر سائنسی معلوماتی وسائل کے لائسنس حاصل کرنے میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی، جس سے رکن اداروں کو خاطر خواہ مالی بچت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این کے آر سی، پی ایم-ون نیشن ون سبسکرپشن پروگرام کے ساتھ بھی مل کر اہم ای-وسائل تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس وقت این کے آر سی کے 82 رکن ادارے ہیں، جن میں سی ایس آئی آر، سائنس و ٹیکنالوجی محکمہ (ڈی ایس ٹی) اور وزارت ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس) کے ادارے شامل ہیں۔ انہوں نے این کے آر سی کے تحت دستیاب بین الاقوامی تحقیقی جرائد، معیارات، پیٹنٹ ڈیٹا بیس، کتابیات کے ذخائر اور دیگر تحقیقی وسائل کا بھی تعارف کرایا۔
پیٹنٹس اینڈ ڈیزائنز کی ایگزامنر محترمہ گیتا کماری نے سی جی پی ڈی ٹی ایم کے لیے این کے آر سی کی رکنیت کی اہمیت اور متوقع فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالمی سائنسی اور تکنیکی لٹریچر تک بہتر رسائی سے پیٹنٹ جانچ، پیشگی تحقیق اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔

مفاہمت نامے پر دستخط کے ساتھ ہی دونوں ممتاز اداروں کے درمیان تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا۔ تقریب میں دونوں اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ توقع ہے کہ یہ شراکت داری عالمی علمی وسائل تک رسائی کو مزید مستحکم کرے گی، دانشورانہ املاک کے انتظامی نظام کو مضبوط بنائے گی، معیاری سائنسی معلومات کے ذریعے مؤثر فیصلہ سازی میں معاون ثابت ہوگی اور تحقیق، اختراع، سائنسی ابلاغ اور سائنسی پالیسی کے شعبوں میں مستقبل کے تعاون کو فروغ دے گی۔
***********
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :39 )
(रिलीज़ आईडी: 2285523)
आगंतुक पटल : 4