کانکنی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے 15 سے 17 نومبر تک ’’انڈیا مائننگ ویک 2026‘‘ کے انعقاد کا اعلان کیا


بھارت کا سب سے بڑا کان کنی سربراہ اجلاس، پائیدار معدنی وسائل کی ترقی کے مستقبل کی سمت متعین کرنے کے لیے عالمی پالیسی سازوں، صنعتی رہنماؤں، سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور کان کنی کے شعبے سے وابستہ تمام اہم فریقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا

प्रविष्टि तिथि: 15 JUL 2026 8:04PM by PIB Delhi

کوئلہ اور کان کنی کے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے آج باضابطہ طور پر ’’انڈیا مائننگ ویک 2026‘‘ کا اعلان کیا، جو کان کنی اور معدنیات کے شعبے کا بھارت کا سب سے بڑا کانفرنس اور نمائش پروگرام (کانفرنس-کم-ایگزیبیشن) ہے۔ یہ تین روزہ پروگرام 15 سے 17 نومبر 2026 تک نئی دہلی کے یشوبھومی کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگا۔اجلاس کے باضابطہ آغاز کے اعلان کے موقع پر مرکزی وزیر جی کشن ریڈی اور مرکزی وزیر مملکت برائے کوئلہ و کان کنی ستیش چندر دوبے نے مشترکہ طور پر سربراہ اجلاس کے لوگو اور معلوماتی کتابچہ کی رونمائی کی۔اس موقع پر وزارتِ کوئلہ کے سکریٹری وکرم دیو دت، وزارتِ کان کنی کے سکریٹری پیوش گوئل، وزارتِ کوئلہ کی ایڈیشنل سکریٹری روپیندر برار سمیت وزارتِ کوئلہ اور وزارتِ کان کنی کے متعدد سینئر افسران بھی موجود تھے۔تقریب میں کان کنی اور معدنیات کی صنعت سے وابستہ ممتاز صنعت کاروں، ماہرین اور دیگر اہم شراکت داروں نے بھی شرکت کی۔

یہ تین روزہ سربراہ اجلاس ’’مضبوط وسائل، جدید کان کنی، پائیدار مستقبل‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہوگا، جو ٹیکنالوجی سے آراستہ، عالمی سطح پر مسابقتی اور ماحول دوست کان کنی کے شعبے کی تعمیر کے لیے بھارت کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔انڈیا مائننگ ویک 2026 کان کنی اور معدنیات کے شعبے سے وابستہ پوری ویلیو چین کے لیے مکالمے، باہمی تعاون، شراکت داری اور کاروباری روابط کو فروغ دینے کا ایک ممتاز پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-07-15at8.33.30PMHZJ3.jpeg

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے کوئلہ و کان کنی جی کشن ریڈی نے کہا کہ انڈیا مائننگ ویک 2026 ایک تاریخی اقدام ہے، جو کان کنی کے شعبے میں بھارت کے نئے اعتماد، واضح وژن اور عالمی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس ایک ممتاز بین الاقوامی پلیٹ فارم ثابت ہوگا، جہاں حکومتوں، صنعتی اداروں، سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی کے ماہرین، محققین، اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کو ایک ساتھ لا کر باہمی شراکت داری کو مضبوط بنایا جائے گا، اختراعات کو فروغ دیا جائے گا اور پائیدار و ٹیکنالوجی پر مبنی کان کنی کے مستقبل کی سمت متعین کی جائے گی۔وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران کان کنی کے شعبے میں کیے گئے انقلابی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شفاف نیلامی کے نظام، تجارتی کوئلہ کان کنی، معدنی ذخائر کی تیز رفتار تلاش، کاروبار میں آسانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی مؤثر حکمرانی نے بھارت کو دنیا کے پرکشش ترین کان کنی مراکز میں شامل کر دیا ہے۔انہوں نے توانائی کے تحفظ، اہم معدنیات اور مضبوط سپلائی چین سے متعلق ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت پالیسی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی تعاون کو یکجا کرتے ہوئے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کان کنی کا ایک مضبوط نظام تشکیل دے رہا ہے۔مرکزی وزیر نے یقین ظاہر کیا کہ انڈیا مائننگ ویک 2026 عالمی شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا، بھارت کی معدنی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرے گا اور آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت کے وژن کو حقیقی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے ٹیکنالوجی کے ماہرین، محققین، صنعتوں اور کان کنی کے شعبے سے وابستہ تمام شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ انڈیا مائننگ ویک 2026 میں بھرپور طور پر شرکت کریں۔

تقریب کے دوران مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے کوئلہ ایکسچینجز کی رجسٹریشن کے لیے آن لائن پورٹل اور اہم و اسٹریٹیجک معدنی بلاکس کی نیلامی کے آٹھویں مرحلے کا بھی باضابطہ آغاز کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-07-15at8.36.18PMYPXL.jpeg

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے کوئلہ و کان کنی ستیش چندر دوبے نے کہا کہ بھارت کا کان کنی کا شعبہ ملک کی اقتصادی ترقی، علاقائی خوشحالی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ایک اہم محرک کے طور پر ابھر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شفاف طرزِ حکمرانی، ذمہ دارانہ کان کنی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر حکومت کی مسلسل توجہ کے باعث اس شعبے میں نئے امکانات اور مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈیا مائننگ ویک 2026 خیالات کے تبادلے، اختراعات کے فروغ اور محفوظ، پائیدار اور عالمی معیار کے مطابق مسابقتی کان کنی کے ماحولیاتی نظام کی تیز رفتار ترقی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-07-15at8.36.40PMY15H.jpeg

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزارتِ کوئلہ کے سکریٹری وکرم دیو دت نے کہا کہ انڈیا مائننگ ویک بھارت کے کان کنی کے شعبے میں ہونے والی غیرمعمولی پیش رفت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے اور عالمی سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں اور صنعت سے وابستہ شراکت داروں کے لیے موجود وسیع مواقع کو اجاگر کرنے کا ایک منفرد پلیٹ فارم ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی متحرک قیادت میں بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکست بھارت 2047 کے وژن کی جانب ملک کی مسلسل پیش قدمی کے لیے محفوظ، کم لاگت اور قابلِ اعتماد توانائی ناگزیر ہے، جبکہ کوئلہ اور کان کنی کا شعبہ بھارت کی اقتصادی استحکام، صنعتی مسابقت اور توانائی کے تحفظ کے لیے ایک اسٹریٹجک ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران وزارتِ کوئلہ نے شعبے میں وسیع پیمانے پر بنیادی اصلاحات نافذ کی ہیں، جن کے نتیجے میں یہ شعبہ شفاف، مسابقتی، ٹیکنالوجی سے آراستہ اور سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ سازگار بن گیا ہے۔ انہی اصلاحات کی بدولت بھارت مسلسل دو برسوں سے ایک ارب ٹن سے زائد کوئلے کی پیداوار حاصل کر رہا ہے، جبکہ ایک ارب ٹن سے زیادہ کوئلے کی سپلائی کا ہدف بھی عبور کر چکا ہے، جس سے ملک کی توانائی کا تحفظ، صنعتی پیداوار اور اقتصادی استحکام مزید مضبوط ہوا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئلہ آج بھی بھارت کی ترقی کے سفر کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ ان کے مطابق کوئلے کے شعبے کو مزید مستحکم اور جدید بنانا صرف اقتصادی ضرورت نہیں بلکہ قومی ترجیح بھی ہے۔ انہوں نے تجارتی کوئلہ کان کنی کو ایک تاریخی اصلاح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نجی شعبے کی وسیع تر شمولیت، نئی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور عالمی معیار کے بہترین طریقۂ کار کو فروغ ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا مائننگ ویک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب بھارت کان کنی کے شعبے میں اصلاحات کی رفتار تیز کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں کو تیز تر بنانا، منصوبوں پر عمل درآمد کو مزید آسان بنانا اور ضابطہ جاتی نظام کو زیادہ شفاف، قابلِ اعتماد، پیش گوئی کے قابل اور صارف دوست بنانا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-07-15at8.37.11PMQ2P6.jpeg

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزارتِ کان کنی کے سکریٹری پیوش گوئل نے کہا کہ اہم اور تزویراتی معدنیات بھارت کی توانائی کی منتقلی، جدید مینوفیکچرنگ صلاحیتوں اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پالیسی اصلاحات اور معدنی ذخائر کی تیز رفتار تلاش کے ذریعے کان کنی کے شعبے کو مزید شفاف، مسابقتی اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار بنانے پر مسلسل توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے اہم اور تزویراتی معدنی بلاکس کی نیلامی کے آٹھویں مرحلے کے جلد آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ملک میں اہم معدنیات کی مقامی دستیابی میں اضافہ ہوگا، نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ ملے گا، نئی سرمایہ کاری آئے گی اور بھارت کی معدنی ویلیو چین مزید مضبوط اور مستحکم ہوگی۔پیوش گوئل نے کہا کہ انڈیا مائننگ ویک 2026 بھارت کی کان کنی سے متعلق اصلاحات، معدنی وسائل کی وسیع صلاحیت اور سرمایہ کاری کے ابھرتے ہوئے مواقع کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا، جو بین الاقوامی تعاون، اختراعات اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-07-15at8.37.39PM9A0N.jpeg

اپنے افتتاحی خطاب میں وزارتِ کوئلہ کی ایڈیشنل سکریٹری روپیندر برار نے بھارت اور بیرونِ ملک سے آنے والے مندوبین کا انڈیا مائننگ ویک 2026 میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے، اختراعات کو فروغ دینے اور بھارت کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے کان کنی کے شعبے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئلے کے شعبے میں شفافیت، کاروبار میں آسانی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور پائیدار کان کنی کے طریقوں کو اپنانے کے لیے حکومت نے گزشتہ برسوں میں اہم اصلاحات نافذ کی ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ اجلاس بامعنی تبادلۂ خیال، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دے گا اور ذمہ دارانہ، جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کان کنی کے شعبے میں بھارت کی عالمی حیثیت کو مزید مستحکم کرے گا۔

انڈیا مائننگ ویک 2026 میں 25 ہزار سے زائد صنعتی ماہرین اور فیصلہ سازوں، 500 سے زیادہ نمائش کنندگان اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں، 200 سے زائد ممتاز مقررین اور ماہرین، 100 سے زیادہ کانفرنس سیشنز اور تکنیکی پیشکشوں، 50 سے زائد ممالک کے نمائندوں، ایک ہزار سے زیادہ سرکاری و سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یو) کے مندوبین اور 300 سے زائد کان کنی و معدنیات سے وابستہ کمپنیوں کی شرکت متوقع ہے۔اس کے علاوہ اجلاس میں بی ٹو بی کاروباری ملاقاتوں اور نیٹ ورکنگ کے خصوصی مواقع، جدید ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے، نئے مصنوعات کی لانچنگ اور اہم معدنیات، کوئلہ، دھاتوں اور کان کنی میں اختراعات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

جیسے جیسے بھارت بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، توانائی کے تحفظ اور اہم معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو تیز کر رہا ہے، کان کنی کا شعبہ ملک کی طویل مدتی اقتصادی ترقی میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور اسٹریٹجک کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں انڈیا مائننگ ویک 2026 علم و معلومات اور تجربات کے تبادلے، سرمایہ کاری سے متعلق تبادلۂ خیال، جدید ٹیکنالوجی کی نمائش اور اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جس کا مقصد بھارت کو کان کنی اور معدنی وسائل کی ترقی کے عالمی مرکز کے طور پر مزید مضبوط بنانا ہے۔

اس سربراہ اجلاس میں اعلیٰ سطحی کانفرنس، بین الاقوامی نمائش، تکنیکی سیشنز، قائدانہ سطح کے مذاکرات اور باہمی روابط کو فروغ دینے کے لیے خصوصی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اجلاس میں معدنی تحفظ، معدنی ذخائر کی تلاش، ڈیجیٹلائزیشن، خودکار نظام (آٹومیشن)، کانوں میں حفاظت اور تحفظ کے اقدامات، پائیدار ترقی، اہم معدنیات، وسائل کے مؤثر استعمال، اختراعات اور بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں کان کنی کے مستقبل جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔

نمائش میں کان کنی کے آلات، جدید ٹیکنالوجی، خودکار نظام (آٹومیشن)، حفاظتی نظام، معدنیات کی پروسیسنگ، پائیدار ترقی سے متعلق اقدامات اور معدنی وسائل کی ترقی میں ہونے والی جدید اختراعات کی نمائش کی جائے گی۔ اس میں کان کنی کی سرکردہ کمپنیاں، آلات تیار کرنے والے ادارے، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے اور مختلف سرکاری ایجنسیاں شرکت کریں گی، جس سے کاروباری روابط استوار کرنے، نئی مصنوعات کی لانچنگ، جدید ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے اور اسٹریٹجک شراکت داری کے بہترین مواقع فراہم ہوں گے۔

انڈیا مائننگ ویک 2026 میں پالیسی سازوں، اعلیٰ سرکاری حکام، چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز)، کان کنی کی صنعت کے رہنماؤں، سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی کے ماہرین، محققین، پائیدار ترقی کے ماہرین اور عالمی سطح کے ممتاز دانشوروں کی بھی شرکت متوقع ہے۔ دنیا کی معروف کان کنی کمپنیوں، بین الاقوامی کان کنی تنظیموں، آلات تیار کرنے والی کمپنیوں، ٹیکنالوجی اداروں اور مشاورتی تنظیموں سے وابستہ ممتاز مقررین عالمی سطح کے بہترین تجربات، نئی ٹیکنالوجیز، سرمایہ کاری کے رجحانات اور کان کنی کی صنعت کے مستقبل سے متعلق اپنے خیالات اور تجربات پیش کریں گے۔

انڈیا مائننگ ویک 2026 کی افتتاحی تقریب اس  سربراہ اجلاس کی تیاریوں کا باضابطہ پہلا مرحلہ ہے، جو ملک میں کان کنی کے شعبے سے وابستہ رہنماؤں، پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور بین الاقوامی شراکت داروں کے سب سے بڑے اجتماع کی راہ ہموار کرے گی۔

انڈیا مائننگ ویک 2026 سے متعلق مزید معلومات کے لیے درج ذیل لنک پرکلک کریں:

https://indiaminingweek.org

*****

ش ح۔ م م ع  ۔ ص ج

U. No-11


(रिलीज़ आईडी: 2285275) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी