شہری ہوابازی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 آئی آئی سی اے اور وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ری سیٹلمنٹ کے اشتراک سے دفاعی افسران کے لیے کارپوریٹ گورننس سرٹیفکیشن پروگرام کے پانچویں بیچ کا آغاز


دو ہفتوں کے اس سرٹیفکیشن پروگرام میں ہندوستانی مسلح افواج کی تینوں شاخوں کے 30 سینئر افسران کی شرکت

प्रविष्टि तिथि: 15 JUL 2026 6:38PM by PIB Delhi

 انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آئی آئی سی اے) نے وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹوریٹ جنرل ری سیٹلمنٹ (ڈی جی آر) کے اشتراک سے دفاعی افسران کے لیے ڈائریکٹرز سرٹیفکیشن اِن کارپوریٹ گورننس کے پانچویں بیچ کا 13 جولائی 2026 کو گروگرام کے مانیسر واقع آئی آئی سی اے کیمپس میں افتتاح کیا۔

دو ہفتوں پر مشتمل اس سرٹیفکیشن پروگرام میں ہندوستانی مسلح افواج کی تینوں شاخوں کے 30 سینئر افسران شریک ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد شرکا کو کارپوریٹ گورننس کے نظریاتی اور ضابطہ جاتی پہلوؤں سے روشناس کرانا ہے، تاکہ وہ مستقبل میں کارپوریٹ بورڈز میں قائدانہ ذمہ داریاں اور آزاد ڈائریکٹر کے فرائض مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔ اس کے ساتھ ہی فوجی حکمت عملی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور پروجیکٹ مینجمنٹ کے شعبوں میں ان کے تجربے کو کارپوریٹ شعبے میں بروئے کار لانے کی بھی تیاری کرائی جا رہی ہے۔

اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل سنجے سیٹھی نے فوجی خدمات سے کارپوریٹ شعبے میں منتقلی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سینئر دفاعی افسران مشکل حالات میں فیصلہ سازی، ادارہ جاتی قیادت اور دیانت داری کے وسیع تجربے کے باعث کارپوریٹ بورڈز کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبہ اخلاقی اقدار، نتائج کے لیے جوابدہی اور خطرات کے نظم و نسق میں نظم و ضبط پر مبنی طویل تجربہ رکھتا ہے، جو انہیں ایسے کارپوریٹ بورڈز کے لیے موزوں بناتا ہے جہاں آزادانہ رائے، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور شفافیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

آئی آئی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گیانیشور کمار سنگھ نے کہا کہ اگست 2024 میں اس پروگرام کے آغاز کے بعد اب تک چار بیچوں میں 120 دفاعی افسران کو تربیت دی جا چکی ہے اور پانچویں بیچ کے آغاز کے ساتھ یہ تعداد 150 تک پہنچ جائے گی، جو وزارتِ دفاع اور بھارتی صنعت کے اس پروگرام پر اعتماد کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید کارپوریٹ بورڈز سے صرف ضابطوں کی پابندی کی توقع نہیں کی جاتی بلکہ انہیں تنظیمی حکمت عملی، تجاویز اور متبادل امکانات پر فعال اور تنقیدی نظر رکھنی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کارپوریٹ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گورننس کی ناکامیاں کسی ایک بڑے واقعے کا نتیجہ نہیں ہوتیں بلکہ ضروری سوالات نہ اٹھانے اور آسان جوابات قبول کرنے سے بتدریج جنم لیتی ہیں۔ ان کے مطابق بورڈ کا کردار محض نگرانی تک محدود نہیں رہا بلکہ اب وہ اسٹریٹجک رہنمائی کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔

جناب سنگھ نے وزارتِ کارپوریٹ امور کی جانب سے کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے کی گئی اصلاحات کا بھی ذکر کیا، جن میں سنٹرل رجسٹریشن سینٹر، سنٹرل پروسیسنگ سینٹر ، کمپنیوں کے اندراج کے عمل کو آسان بنانا، سنٹر فار پروسیسنگ ایکسلریٹڈ کارپوریٹ ایگزٹ   کا قیام، اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کے لیے ضابطوں میں نرمی اور کمپنیز ایکٹ کے تحت بعض طریقہ کار سے متعلق جرائم کے زمرے سے باہر کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات ضابطہ پر مبنی نظام سے اعتماد پر مبنی نظام کی جانب ملک کی تدریجی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں بہتر طرز حکمرانی اور ضابطہ جاتی بوجھ میں کمی ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔

کارپوریٹ بورڈز کی نئی ترجیحات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس اصولوں کی بڑھتی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کے بزنس ریسپانسبلٹی اینڈ سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ  فریم ورک کے تحت غیر مالیاتی رپورٹنگ لازمی ہونے کے بعد بورڈز کو ان رپورٹوں پر بھی مالیاتی بیانات کی طرح سنجیدگی سے نگرانی کرنی ہوگی۔ انہوں نے سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی سے متعلق خطرات کو بھی کارپوریٹ بورڈز کی اہم ترجیحات میں شامل قرار دیا۔

ڈائریکٹوریٹ آف ٹریننگ-ڈی جی آر کی نمائندگی کرتے ہوئے گروپ کیپٹن سوسنتا بسواس، وی ایس ایم نے بھی خطاب کیا اور منتقلی کے مرحلے سے گزرنے والے دفاعی افسران کی کارپوریٹ صلاحیتوں کو فروغ دینے میں ڈی جی آر اور آئی آئی سی اے کے مضبوط اشتراک کو سراہا۔

اس سے قبل آئی آئی سی اے کے اسکول آف کارپوریٹ گورننس اینڈ پبلک پالیسی کے سربراہ ڈاکٹر نراج گپتا نے خیرمقدمی اور موضوعاتی خطاب کرتے ہوئے دو ہفتوں پر مشتمل اس پروگرام کے بنیادی خدوخال پیش کیے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  9997)


(रिलीज़ आईडी: 2285151) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी