وزارت آیوش
آیوش کی وزارت نے ادویاتی پودوں پر تحقیق، اختراع اور ان کے پائیدار استعمال کو فروغ دینے کے لیے دہلی یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے
نیشنل میڈیسنل پلانٹس بورڈ (این ایم پی بی) اور بھاسکراچاریہ کالج آف اپلائیڈ سائنسز کے درمیان مصنوعات کی تیاری، قدر میں اضافہ، پائیدار پیکیجنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینے کے لیے شراکت داری
प्रविष्टि तिथि:
15 JUL 2026 6:30PM by PIB Delhi
ادویاتی پودوں کے شعبے میں تحقیق اور اختراع کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر، آیوش کی وزارت کے تحت نیشنل میڈیسنل پلانٹس بورڈ (این ایم پی بی) اور بھاسکراچاریہ کالج آف اپلائیڈ سائنسز (بی سی اے ایس) کے ذریعے دہلی یونیورسٹی نے آج نئی دہلی کے کرتویہ بھون میں ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ اس موقع پر آیوش کی وزارت کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور صحت و خاندانی بہبود کے وزیر مملکت جناب پرتاپ راؤ جادھو موجود تھے۔
اس اشتراک کا مقصد سائنسی تحقیق، مصنوعات کی تیاری، اختراع، قدر میں اضافہ، پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجیز، پائیدار پیکیجنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں طویل مدتی شراکت داری قائم کرنا ہے، تاکہ بھارت میں ادویاتی پودوں کے وافر وسائل کے پائیدار استعمال اور تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب پرتاپ راؤ جادھو نے کہا کہ یہ اقدام وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے 2047 تک ایک صحت مند، خود کفیل اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے اس مفاہمت نامے کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سائنسی تحقیق کو تقویت ملے گی، اختراع کو فروغ ملے گا اور جدید سائنس کے روایتی علم کے ذریعے بھارت کے ادویاتی پودوں کی وسیع صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت دنیا میں ادویاتی پودوں کے سب سے بڑے اور متنوع ذخائر میں سے ایک کا حامل ہے اور یہاں جڑی بوٹیوں پر مبنی علاج کی صدیوں پرانی روایت موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شواہد پر مبنی تحقیق، اختراع اور قدر میں اضافہ، بھارت کے ادویاتی پودوں کے شعبے کی عالمی ساکھ، مسابقتی صلاحیت اور تجارتی امکانات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
شراکت داری کے وسیع تر اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب جادھو نے کہا کہ اس سے نوجوان محققین، سائنس دانوں اور کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے، اختراع پر مبنی صنعتوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور بھارت کی بایو اکانومی کی ترقی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ اشتراک قدر میں اضافہ شدہ مصنوعات، پائیدار ٹیکنالوجیز اور کسان دوست حل کی تیاری کا باعث بنے گا، جس سے صنعت اور کاشت کار برادری دونوں مستفید ہوں گے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نیشنل میڈیسنل پلانٹس بورڈ (این ایم پی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب مہیش دادھیچ نے ادویاتی پودوں کی کاشت کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں تحقیق پر مبنی اختراع کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ادویاتی پودوں کے وسائل سے تیار کردہ ماحول دوست اور صحت کے لیے محفوظ پیکیجنگ مواد کی تیاری کے امکانات پر روشنی ڈالی، جو روایتی ایلومینیم پر مبنی پیکیجنگ اور دیگر ماحول کو نقصان پہنچانے والے مواد کا پائیدار متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موزوں ماحولیاتی خطوں، بشمول دریا کے کنارے واقع علاقوں میں ادویاتی پودوں کی کاشت، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی اور کسان برادری کے لیے پائیدار ذریعۂ معاش کو بیک وقت فروغ دے سکتی ہے۔
یہ اشتراک بی سی اے ایس (بی سی اے ایس) کی غذائی ٹیکنالوجی، غذائی معاون اجزاء (نیوٹراسیوٹیکل)، پوسٹ ہارویسٹ پروسیسنگ اور پائیدار پیکیجنگ کے شعبوں میں مہارت سے استفادہ کرے گا۔ حیاتیاتی وسائل میں قدر کے اضافے سے متعلق ادارے کی حالیہ اختراعات، جن میں پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجی بھی شامل ہیں، ادویاتی پودوں کے شعبے میں اطلاقی تحقیق، ٹیکنالوجی کی تجارتی کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔ توقع ہے کہ یہ مفاہمت کی یادداشت صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک کو مضبوط بنائے گی، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو تیز کرے گی اور ادویاتی پودوں کی صحت، معیشت اور ماحولیات کے حوالے سے اہمیت کے بارے میں عوامی بیداری میں اضافہ کرے گی۔
اس تقریب میں دہلی یونیورسٹی کے ڈین آف کالجز پروفیسر بلرام پانی، ڈاکٹر عبد القیوم، ڈائریکٹر (ٹیک)، آیوش کی وزارت اور نیشنل میڈیسنل پلانٹس بورڈ (این ایم پی بی) کے سینئر افسران، بی سی اے ایس (BCAS) کے اساتذہ، محققین اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے شریک ہوئے۔
**
ش ح۔ ف ش ع
U: 9991
(रिलीज़ आईडी: 2285111)
आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English