ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے چار اضلاع کا احاطہ کرنے والے دو ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹوں کو منظوری دی ، جس سے ہندوستانی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریبا 145 کلومیٹر کا اضافہ ہوگا


ان پروجیکٹوں کی کل تخمینہ لاگت 3,907 کروڑ روپے (تقریباً) ہے اور 31-2030 تک اسےمکمل کیا جائے گا

प्रविष्टि तिथि: 15 JUL 2026 3:41PM by PIB Delhi

وزیراعظم جناب نریندر مودی کی زیرصدارت اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے آج وزارت ریلوے کے دو پروجیکٹوں کو منظوری دے دی، جن کی مجموعی تخمینہ لاگت 3,907 کروڑ روپے (تقریباً)ہے۔ان پروجیکٹوں میں درج ذیل شامل ہیں:

  1. پارا دیپ – ہری داس پور ریلوے لائن کو دوہرا کرنا
  2. راج کھرساواں – ڈانگواوپوزی ریلوے سیکشن پر چوتھی لائن کی تعمیر

ریلوے لائنوں کی گنجائش میں اضافے سے آمد و رفت میں نمایاں بہتری آئے گی، جس کے نتیجے میں بھارتی ریلوے کی آپریشنل کارکردگی اور خدمات کی قابل اعتماد فراہمی مزید مضبوط ہوگی۔ یہ ملٹی ٹریکنگ تجاویز ریلوے آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے اور موجودہ بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ یہ پروجیکٹ وزیراعظم جناب نریندر مودی کے ’’نئے بھارت‘‘ کے وژن سے ہم آہنگ ہیں۔ ان کے ذریعے خطے کی ہمہ جہت ترقی کو فروغ ملے گا، جس کے نتیجے میں مقامی افراد آتم نربھر بن سکیں گے اور ان کے لیے روزگار اور خود روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

یہ پروجیکٹ پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کے تحت تیار کیے گئے ہیں، جن کا مقصد مربوط منصوبہ بندی اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے کثیر ذرائع نقل و حمل کے باہمی ربط اور لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ ان پروجیکٹوں سے لوگوں، اشیا اور خدمات کی نقل و حرکت کے لیے ہموار اور مؤثر رابطہ فراہم ہوگا۔اڈیشہ اور جھارکھنڈ کی چار اضلاع پر مشتمل یہ دو پروجیکٹ بھارتی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 145 کلومیٹر کا اضافہ کریں گے۔

مجوزہ ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹ  سے ان تقریباً 1,526 گاؤوں کو بہتر ریلوے رابطے کی فراہمی ہوگی، جہاں مجموعی طور پر تقریباً 14 لاکھ افراد آباد ہیں۔

اس مجوزہ پروجیکٹ کے ذریعے ریلوے لائنوں کی گنجائش میں اضافے سے ملک کے متعدد اہم سیاحتی مقامات تک ریل رابطہ بھی بہتر ہوگا، جن میں للت گیری بدھشٹ کمپلیکس، شری بالا دیوجیو مندر، میگھاہاتوبورو پہاڑیاں وغیرہ شامل ہیں۔

مجوزہ  پروجیکٹ کوئلہ، خام لوہا، ڈولومائٹ، چونا پتھر، جپسم جیسی اہم معدنیات کی نقل و حمل کے لیے نہایت اہم ریلوے راستے ثابت ہوں گے۔ریلوے لائنوں کی گنجائش میں اضافے سے تقریباً 44 ملین ٹن سالانہ(ایم ٹی پی اے) اضافی مال برداری ممکن ہوگی۔چونکہ ریلوے نقل و حمل کا ماحول دوست اور توانائی کے مؤثر استعمال والا ذریعہ ہے، اس لیے یہ پروجیکٹ نہ صرف موسمیاتی اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ یہ ملک کے لاجسٹکس اخراجات میں بھی کمی لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ ان سے تیل کی درآمدات میں کمی (6کروڑ لیٹر) اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج  میں کمی (29کروڑ کلوگرام) آئے گی، جو ایک کروڑ درخت لگانے کے مساوی ماحولیاتی فائدہ فراہم کرے گی۔

*******

) ش ح –م ش-  ش ہ ب )

U.No. 9977


(रिलीज़ आईडी: 2284886) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Punjabi , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam