سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے اتر پردیش میں نیشنل ہائی وے-19 اور وارانسی رنگ روڈ کے درمیان ہائبرڈ اینوٹی ماڈل ( ایچ اے ایم )  کے تحت، 14447.64 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری لاگت سے 6 لین والے گرین فیلڈ ایلیویٹڈ کاریڈور، ریمپس/لوپس اور فٹ اوور برج کی تعمیر کو منظوری دی

प्रविष्टि तिथि: 15 JUL 2026 3:46PM by PIB Delhi

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے آج اتر پردیش میں وارانسی شہر کے ٹریفک کو کم کرنے کے لیے دریائے گنگا کے کنارے کنیکٹیویٹی کے ساتھ نیشنل ہائی وے-19 ( این ایچ – 19 )  اور وارانسی رنگ روڈ کے درمیان ایک لنک/کنیکٹر کاریڈور کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔  46.039 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ، جس میں چھ لین کا ایلیویٹڈ مین کیریج وے، ایک شاندار کیبل اسٹیڈ برج، ایک ایکسٹرا ڈوزڈ فٹ اوور برج اور میجر برج ، لوپس، ریمپس، لنک روڈز اور سروس روڈز شامل ہیں، ہائبرڈ اینوٹی ماڈل ( ایچ اے ایم )  کے تحت نافذ کیا جائے گا  ، جس کی مجموعی سرمایہ کاری لاگت 14,447.64 کروڑ روپے ہے، جس میں این ایچ ( او ) کے تحت 6,037.85 کروڑ روپے کی سول تعمیراتی لاگت (بشمول یوٹیلیٹی شفٹنگ، بغیر جی ایس ٹی) اور 541.11 کروڑ روپے کی اراضی کے حصول کی لاگت شامل ہے۔

یہ منصوبہ این ایچ – 19  اور وارانسی رنگ روڈ کے درمیان بلا رکاوٹ کنیکٹیویٹی فراہم کرے گا، جس سے شہر کے سڑکوں کے نیٹ ورک پر ٹریفک کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہوگا اور شہری نقل و حمل میں بہتری آئے گی۔ 80-100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی آپریٹنگ رفتار کے لیے ڈیزائن کئے گئے اس  منصوبے سے متاثرہ علاقے میں سفر کے اوسط وقت کو تقریباً 60 منٹ سے کم کر کے 20 منٹ کرنے کی امید ہے، جو کہ تقریباً 67 فی صد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ این ایچ – 19  اور کاشی ریلوے اسٹیشن کے درمیان سفر کا  وقت تقریباً  50 منٹ سے کم ہو کر تقریباً 25 منٹ رہ جائے گا، جس کے نتیجے میں تقریباً 25 منٹ (تقریباً 50 فی صد) کی بچت ہوگی۔

پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے مطابق، یہ کاریڈور بڑی شاہراہوں، ریلوے اسٹیشنوں، لال بہادر شاستری ہوائی اڈے اور رام نگر اے ڈبلیو اے آئی  پورٹ تک بلا رکاوٹ رسائی فراہم کر کے ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی کو  مستحکم کرے گا، جب کہ کاشی وشو ناتھ مندر، بنارس ہندو یونیورسٹی ( بی ایچ یو ) ، نمو گھاٹ، رام نگر قلعہ اور وارانسی کے گھاٹوں سمیت اہم مذہبی، تعلیمی اور ثقافتی مقامات کے لیے کنیکٹیویٹی کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔ اہم معاشی، سماجی اور لاجسٹکس مراکز کو جوڑ کر، یہ منصوبہ لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا، سڑک  پر  حفاظت کو  بڑھائے گا، سیاحت اور یاترا  کو آسان بنائے گا اور مشرقی اتر پردیش میں پائیدار علاقائی معاشی ترقی کی حمایت کرے گا۔

اس کاریڈور کو  یکسر تبدیلی پر مبنی شہری نقل و حمل کے منصوبے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے  ، جو  این ایچ – 19  ، وارانسی رنگ روڈ ( این ایچ – 135 بی  ) ، رام نگر/بی ایچ یو اور دیگر اہم شہری مقامات کے درمیان تیز رفتار اور کنٹرولڈ ایکسس رابطہ فراہم کر کے وارانسی اور چندولی کے سڑکوں کے نیٹ ورک پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرے گا۔ ہر سال 15 کروڑ سے زیادہ سیاحوں اور  عقیدت مندوں  کی وارانسی آمد کے پیش نظر، یہ منصوبہ کاشی وشو ناتھ مندر، بنارس ہندو یونیورسٹی  ( بی ایچ یو ) ، نمو گھاٹ، رام نگر قلعہ، وارانسی کے گھاٹوں اور کاشی ریلوے اسٹیشن سمیت اہم مذہبی، تعلیمی اور ثقافتی مقامات کے رابطوں کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا، جب کہ شہر کے موجودہ سڑکوں کے نیٹ ورک پر بھی دباؤ کو کافی حد تک کم کرے گا۔ بی ایچ یو/ لنکا اور سامنے گھاٹ کے درمیان ایک ایلیویٹڈ اسپر تعمیر ہونے سے مقامی اور بیرونی ٹریفک الگ الگ ہو جائے گا، جس سے شدید  بھیر بھاڑ  والے لنکا جنکشن پر ٹریفک کا دباؤ مزید کم ہو جائے گا۔

یہ منصوبہ کنٹرولڈ ایکسس آمد و رفت کے ذریعے سڑک کی حفاظت کو بہتر بنائے گا، گاڑیوں کی آپریشنل لاگت اور کاربن اخراج کو کم کرے گا، سفر کو قابلِ بھروسہ  بنائے گا اور مسافروں و مال بردار گاڑیوں کی موثر نقل و حرکت میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ بیرونی ٹریفک کو گنجان شہری  آبادی والے علاقے   میں داخل ہوئے بغیر باہر سے ہی    نکال کر این ایچ – 19  ، بی ایچ یو-رام نگر کاریڈور اور  این ایچ – 35  پر ٹریفک کے دباؤ کو بھی کم کرے گا۔

اس منصوبے میں انجینئرنگ کی کئی شاندار خصوصیات شامل ہیں، جن میں دریائے گنگا پر ایک منفرد 910 میٹر لمبا کیبل اسٹیڈ پل، کاشی وشو ناتھ مندر تک پیدل چلنے والوں کو بلا  رکاوٹ رابطہ فراہم کرنے والا ٹریولیٹرز سے لیس  1.32 کلومیٹر لمبا ایکسٹرا ڈوزڈ فٹ اوور برج اور میجر برج، موجودہ/تجویز کردہ مالویہ برج کے اوپر ایک ریل اوور برج، مخصوص ہنگامی پارکنگ کی جگہیں ،  شور شرابے کو روکنے والی دیواریں ، خوبصورت لائٹنگ اور وارانسی کے ثقافتی ورثے سے متاثر آرکیٹیکچرل عناصر شامل ہیں۔ یہ خصوصیات نہ صرف نقل و حمل کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گی  ، بلکہ شہر کے شہری منظر نامے کو بھی خوبصورت بنائیں گی، وارانسی کے اسکائی لائن میں ایک شاندار اضافہ کریں گی اور  بھارت کے اہم ترین مذہبی اور ثقافتی مقامات میں سے ایک کے طور پر اسے مزید  مستحکم کریں گی۔

پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے مطابق تیار کردہ یہ کاریڈور ایک اقتصادی مرکز  ( چندولی   ایس ای زیڈ  )   ، ایک سماجی مرکز (چندولی درخشاں ضلع) اور چھ بڑے لاجسٹکس مراکز کو جوڑ کر ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی کو مضبوط بنائے گا، جن میں لال بہادر شاستری ہوائی اڈہ، کاشی ریلوے اسٹیشن، بنارس ریلوے اسٹیشن، وارانسی سٹی ریلوے اسٹیشن، پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن اور رام نگر آئی ڈبلیو اے آئی  پورٹ شامل ہیں۔ ان ٹرانسپورٹ مرکز اور اہم مقامات جیسے کہ کاشی وشو ناتھ مندر، بنارس ہندو یونیورسٹی  ( بی ایچ یو )  ، نمو گھاٹ، رام نگر قلعہ اور وارانسی کے گھاٹوں کے درمیان بلا رکاوٹ رابطہ فراہم کر کے، یہ منصوبہ ملٹی ماڈل انٹیگریشن کو فروغ دے گا، لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا، سیاحت اور  درشن کو آسان بنائے گا اور مشرقی اتر پردیش میں پائیدار علاقائی اقتصادی ترقی کی حمایت کرے گا۔

مجموعی طور پر، مجوزہ گنگا ایلیویٹڈ کاریڈور ایک جدید، اعلیٰ صلاحیت کا حامل شہری ٹرانسپورٹ کاریڈور تیار کرے گا  ، جو تیز رفتار، محفوظ اور زیادہ قابل اعتماد رابطہ فراہم کر کے وارانسی میں نقل و حمل کے نظام کو بدل دے گا، ٹریفک کے دباؤ کو نمایاں طور پر کم کرے گا، ملٹی ماڈل انٹیگریشن کو مضبوط بنائے گا، سیاحت اور زیارت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنائے گا اور پی ایم گتی شکتی اور وکست بھارت  کے ویژن کے عین مطابق پائیدار معاشی ترقی کی حمایت کرے گا۔

کاریڈور کا نقشہ:

 

 

............................. .......................... ...................................................

) ش ح – ا ع خ      -  ع ا )

U.No. 9965


(रिलीज़ आईडी: 2284829) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Malayalam , Marathi , हिन्दी , Gujarati