مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

"شہری موسمیاتی لچک میں توسیع: کیپا شہروں کی کامیابیاں اور آئندہ کا لائحۂ عمل" کے عنوان سے نئی دہلی میں تقریب کا انعقاد


 کیپا شہر پروگرام کی پیش رفت کے موقع پر تین علمی دستاویزات جاری

کیپا شہر نے شہری موسمیاتی لچک کے لیے ایک جامع خاکہ پیش کیا

 

प्रविष्टि तिथि: 14 JUL 2026 6:28PM by PIB Delhi

آئی سی ایل ای آئی ساؤتھ ایشیا اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز (این آئی یو اے) کے اشتراک سے "شہری موسمیاتی لچک میں توسیع: کیپا شہروں کی کامیابیاں اور آئندہ کا لائحۂ عمل" کے عنوان سے ایک تقریب آج انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر، نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کا مقصد گزشتہ ایک دہائی کے دوران کیپا سٹیز پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ اس پروگرام کے ذریعے بھارتی شہروں کو شہری نظم و نسق میں کم کاربن اخراج اور موسمیاتی لچک پر مبنی ترقی کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ضروری معلومات، آلات اور ادارہ جاتی صلاحیتیں فراہم کی گئی ہیں۔

کیپا شہروں سے متعلق پروگرام کے بارے میں

کم کاربن اور موسمیاتی لچک رکھنے والے شہروں کی ترقی کے لیے صلاحیت سازی پروگرام (کیپا سٹیز) کا آغاز 2016 میں کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کو ہندوستان اور بھوٹان میں سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کی مالی معاونت حاصل ہے۔ اس پروگرام نے کم کاربن اخراج اور موسمیاتی لچک پر مبنی شہری ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مقامی سطح پر صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر اس پروگرام نے قومی مشنوں اور ریاستی اہداف کے ساتھ مقامی اقدامات کو ہم آہنگ کرتے ہوئے بھارت کے 2070 تک خالص صفر کاربن اخراج (نیٹ زیرو ایمیشنز) کے ہدف کی تکمیل میں معاونت کی ہے۔

اس منصوبے پر آئی سی ایل ای آئی ساؤتھ ایشیا، ساؤتھ پول اور ایکانسپٹ نے مشترکہ طور پر عمل درآمد کیا، جبکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز نے علمی شراکت دار کی حیثیت سے تعاون فراہم کیا۔ اس منصوبے کے تحت تمل ناڈو کے کوئمبتور، تروچیراپلی اور ترو نیلویلی، گجرات کے احمد آباد، راجکوٹ اور وڈودرا، راجستھان کے ادے پور اور مغربی بنگال کے سلی گڑی سمیت متعدد شہروں اور گجرات و تمل ناڈو کی ریاستی حکومتوں کو تعاون فراہم کیا گیا۔

تقریب کے بارے میں

اس تقریب میں 30 سے زائد شہروں کے سینئر سرکاری افسران، میئرز، میونسپل کمشنرز اور انجینئروں، چھ ریاستی حکومتوں کے نمائندوں، مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔ شرکا نے گزشتہ دس برسوں کے دوران مقامی سطح پر موسمیاتی صلاحیتوں کی تعمیر کا جائزہ لیا اور مستقبل میں پائیدار شہری ترقی کے لیے حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا۔

افتتاحی اجلاس میں وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور حکومتِ ہند کے اقتصادی مشیر گوپال پرساد، ہندوستان اور بھوٹان میں سوئٹزرلینڈ کی سفیر مایا تیسافی، وڈودرا میونسپل کارپوریشن کی میئر گیتابین مکوانا، راجکوٹ میونسپل کارپوریشن کی نائب میئر دکشابین وسانی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر دیبولینا کندو اور آئی سی ایل ای آئی کے نائب سیکریٹری جنرل و آئی سی ایل ای آئی ساؤتھ ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمانی کمار نے شرکت کی۔ اجلاس میں شہری بھارت میں مقامی سطح پر موسمیاتی اقدامات کو وسعت دینے اور انہیں ادارہ جاتی نظام کا حصہ بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

 

افتتاحی اجلاس کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت میں شہری موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات کو صرف پالیسی سازی تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ادارہ جاتی سطح پر مؤثر طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی اقدامات کو شہری منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جائے، مقامی اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے، شہروں میں کامیاب ثابت ہونے والے ماڈلز کو وسعت دی جائے اور شراکت داری کو مضبوط بنا کر موسمیاتی لحاظ سے محفوظ شہری ترقی کو تیز کیا جائے۔

وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور، حکومت ہند کے اقتصادی مشیر گوپال پرساد نے شہری نظم و نسق میں موسمیاتی اقدامات کو ادارہ جاتی شکل دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا:"شہری منصوبہ بندی کے ساتھ موسمیاتی اقدامات کو جوڑنا ضروری ہے، لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ اسے عملی طور پر کس طرح نافذ کیا جائے۔ اس پروگرام کے تحت تیار کیا گیا ماڈل ملک بھر میں اختیار کیا جا سکتا ہے اور آئندہ مرحلے میں اسے مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ شہری بلدیاتی اداروں میں مستقل موسمیاتی سیل قائم کیے جانے چاہییں تاکہ شہر اپنی منصوبہ بندی میں موسمیاتی پہلوؤں کو شامل کر سکیں اور مؤثر عمل درآمد کے لیے ضروری ادارہ جاتی صلاحیت پیدا ہو۔"

اس پروگرام کے پس منظر میں بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان گزشتہ دس برسوں سے جاری تعاون کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستان اور بھوٹان میں سوئٹزرلینڈ کی سفیر مایا تیسافی نے کہا:"جب سوئٹزرلینڈ نے کیپا سٹیز پروگرام کی معاونت کا فیصلہ کیا تو ہمارا مقصد واضح تھا کہ اداروں کو مضبوط بنایا جائے، مقامی صلاحیتیں فروغ دی جائیں اور شہری حکومتوں کو اپنی منصوبہ بندی اور بجٹ سازی میں موسمیاتی عوامل کو شامل کرنے میں مدد دی جائے۔ آج ہم بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان اعتماد، شراکت داری اور مشترکہ تجربات پر مبنی دس سالہ سفر کا جشن منا رہے ہیں۔"

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیئرز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر دیبولینا کندو نے کہا کہ اس پروگرام نے ثابت کیا ہے کہ موسمیاتی اقدامات کے ذریعے ترقی کے کئی اضافی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ملک بھر کے شہروں کے لیے قابلِ تقلید ماڈل تیار کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا:"کیپا سٹیز کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں نے کاربن اخراج میں کمی کے ساتھ روزگار کی فراہمی، عوامی بیداری، خواتین کو بااختیار بنانے اور ماحولیاتی نظام کی بحالی جیسے متعدد مثبت نتائج پیدا کیے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت نمایاں کارکردگی دکھانے والے شہر ملک کے دیگر شہروں کے لیے رہنما کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کی جانب بڑھتے ہوئے مقامی سطح پر خیالات اور تجربات کا تبادلہ نہایت اہم ہوگا۔"

آئی سی ایل ای آئی کے نائب سیکریٹری جنرل اور آئی سی ایل ای آئی ساؤتھ ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمانی کمار نے اس تقریب کو پروگرام کے اگلے مرحلے کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا"آئی سی ایل ای آئی ساؤتھ ایشیا، کیپا سٹیز جیسے منصوبوں کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی کے پنچ امرت اہداف کے حصول کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ہماری سرگرمیاں مشن لائف، اسمارٹ سٹیز مشن، امرت اور اربن چیلنج فنڈ جیسے قومی پروگراموں سے ہم آہنگ ہیں۔ آج کی تقریب موسمیاتی لحاظ سے محفوظ اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ شہروں کی تعمیر کی سمت ایک نئے باب کا آغاز ہے۔"

اس کے بعد منعقد ہونے والے تکنیکی اجلاسوں میں شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی پہلوؤں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے، سی ٹی آئی آئی ایس 2.0 اور ٹی این سی آر یو ڈی پی جیسے پروگراموں کے ذریعے کامیاب مقامی ماڈلز کو وسعت دینے، اور جدید مالیاتی ذرائع کے ذریعے پائیدار بنیادی ڈھانچے کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مختلف ریاستوں اور بلدیاتی اداروں کے نمائندوں نے منصوبوں کی تیاری، عمل درآمد اور زمینی سطح پر حاصل ہونے والے نتائج سے متعلق اپنے تجربات بھی پیش کیے۔

تقریب کے دوران کیپا سٹیز کی تین علمی دستاویزات بھی جاری کی گئیں، جن میں نیٹ زیرو موسمیاتی لچک رکھنے والے شہروں کی طریقۂ کار رہنما کتاب (ٹول کٹ)، بھارت کے شہری بلدیاتی اداروں میں توانائی کی منتقلی کے لیے عملی رہنما کتاب اور کم کاربن ترقی کی راہ پر بھارتی شہروں کی منتقلی میں مالی وسائل کی فراہمی سے متعلق وائٹ پیپر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نیٹ زیرو موسمیاتی لچک رکھنے والے شہری عملی منصوبے کی تیاری اور عمل درآمد سے متعلق ایک ویڈیو تربیتی سلسلہ بھی جاری کیا گیا، جو اب نیشنل اربن لرننگ پلیٹ فارم پر دستیاب ہے۔ ان اشاعتوں کا مقصد ملک بھر کے شہروں کو کم کاربن اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ ترقی کے اقدامات کو وسعت دینے میں عملی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ شرکاء نے ایک خصوصی نمائش بھی دیکھی، جس میں گزشتہ دس برسوں کے دوران پروگرام کے اثرات کو شہروں، ماہرین اور مقامی برادریوں کی کہانیوں کے ذریعے پیش کیا گیا۔

گزشتہ ایک دہائی میں کیپا سٹیز پروگرام کے نمایاں نتائج

  • بالکل صفر کاربن اخراج منصوبہ بندی: چار ریاستوں کے آٹھ شہروں — احمد آباد، راجکوٹ، وڈودرا، کوئمبتور، تروچیراپلی، ترو نیلویلی، سلی گڑی اور ادے پور — میں بالکل صفر کاربن اخراج موسمیاتی لچک رکھنے والے شہری عملی منصوبے (سی آر سی اے پی) تیار کیے گئے۔
  • ادارہ جاتی نظم و نسق: چھ منصوبہ جاتی شہروں میں مستقل بالکل صفر کاربن اخراج اور موسمیاتی ایکشن سیل قائم کیے گئے تاکہ طویل مدتی عمل درآمد، نگرانی اور موسمیاتی بجٹ سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔
  • زمینی سطح پر اقدامات: احمد آباد میں شمسی توانائی سے چلنے والے برقی بس چارجنگ اسٹیشن، کوئمبتور میں 154 کلو واٹ کا تیرتا ہوا شمسی توانائی منصوبہ، راجکوٹ میں 100 رعایتی برقی آٹو رکشوں پر مشتمل گرین موبلٹی زون، تروچیراپلی میں جھیل کی بحالی، ترو نیلویلی میں سیلاب کی پیشگی وارننگ نظام اور وڈودرا میں میاواکی شہری جنگلات جیسے منصوبے کامیابی سے نافذ کیے گئے۔ متعلقہ ریاستی حکومتوں نے ان اقدامات کو مزید وسعت دینا بھی شروع کر دیا ہے۔
  • علاقائی توسیع: صلاحیت سازی کے اس ماڈل کو بھارت سے باہر بھوٹان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور ملائیشیا سمیت گلوبل ساؤتھ کے ممالک تک بھی وسعت دی گئی۔

کیپا سٹیز پروگرام کے نمایاں اعداد و شمار

  • 35 سے زائد شہر موسمیاتی لچک رکھنے والے شہری عملی منصوبے (سی آر سی اے پی) کی طریقۂ کار سے استفادہ کر رہے ہیں۔
  • 34 سے زائد شہروں کو کلائمیٹ اسمارٹ سٹیز اسیسمنٹ فریم ورک (سی ایس سی اے ایف) کے تحت تعاون فراہم کیا گیا۔
  • 1,000 سے زائد افراد کو موسمیاتی منصوبہ بندی، مالیاتی امور اور عمل درآمد کی تربیت دی گئی۔
  • 12 موسمیاتی ایکشن پلان شہروں کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
  • 25 فوری اثرات والے منصوبے عوامی زندگی میں بہتری لا رہے ہیں۔
  • 24 قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کا تصوراتی خاکہ تیار کیا گیا جبکہ 16 منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کی موزونیت سے متعلق رپورٹیں تیار کی گئیں۔
  • 25 سے زائد تکنیکی مطالعات نے مقامی سطح پر پالیسی سازی اور فیصلوں میں رہنمائی فراہم کی۔

عوامی مفاد میں موسمیاتی سرمایہ کاری

  • بالکل صفر کاربن اخراج سی آر سی اے پیز کے ذریعے 7,142 ارب روپے کی موسمیاتی سرمایہ کاری کی نشاندہی کی گئی۔
  • کیپا سٹیز کے پائلٹ منصوبوں کے ذریعے 12 کروڑ 5 لاکھ 20 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔
  • سرکاری شراکتی مالی معاونت کے ذریعے 4 کروڑ 5 لاکھ 20 ہزار روپے جمع کیے گئے۔
  • منصوبوں کی توسیع کے لیے 384 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری مختص کی جا چکی ہے۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :9939  )


(रिलीज़ आईडी: 2284615) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी