اسٹیل کی وزارت
ایچ ڈی کماراسوامی نے آئی ایس سی او کی توسیع اور آبی تحفظ کے لیے 84 ہزار مکعب میٹر گنجائش کے آر سی سی آبی ذخیرے کا افتتاح کیا
مرکزی وزیر نے آئی ایس سی او کے بڑے توسیعی منصوبوں، پلانٹ کی سرگرمیوں اور مستقبل کے لائحۂ عمل کا جائزہ لیا
مغربی بنگال کی صنعتی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کے لیے مرکز اور ریاست کے درمیان مؤثر تال میل ناگزیر ہے: ایچ ڈی کماراسوامی
प्रविष्टि तिथि:
12 JUL 2026 7:48PM by PIB Delhi
فولاد اور بھاری صنعت کے مرکزی وزیر جناب ایچ ڈی کماراسوامی نے اتوار کو مغربی بنگال کے اپنے تین روزہ دورے کا آغاز اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا لمیٹڈ (سیل) کے تحت قائم ملک کے قدیم اور اہم مربوط فولادی کارخانوں میں سے ایک آئی ایس سی او اسٹیل پلانٹ (آئی ایس پی)، برن پور کے تفصیلی جائزے سے کیا۔اس دورے کے دوران انہوں نے پلانٹ میں جاری توسیعی منصوبوں، پیداواری سرگرمیوں، بنیادی ڈھانچے، پائیداری سے متعلق اقدامات اور ملازمین کی فلاح و بہبود کے پروگراموں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومتِ ہند سرکاری شعبے کے فولاد کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

پلانٹ پہنچنے پر مرکزی وزیر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ان کا استقبال سیل کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر اشوک کمار پانڈا، آئی ایس سی او اسٹیل پلانٹ کے ڈائریکٹر اِن چارج اور سیل کے سینئر حکام نے کیا۔
مرکزی وزیر نے اپنے دورے کا آغاز سی او بی-12 (اسٹیمپ چارج کوک اوون بیٹری) منصوبے کے معائنے سے کیا، جو آئی ایس سی او کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے اہم منصوبوں میں شامل ہے۔ سینئر حکام نے انہیں منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بیٹری پروپر، کوک ڈرائی کولنگ پلانٹ ، بائی پروڈکٹ پلانٹ اور جدید ماحولیاتی تحفظ کے نظام کے بارے میں تفصیلات پیش کیں، جن سے پیداواری کارکردگی میں نمایاں بہتری اور ماحول دوست فولاد سازی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

پروجیکٹ کا جائزہ لیتے ہوئے کماراسوامی نے زور دیا کہ اسٹریٹجک توسیعی منصوبوں کی بروقت تکمیل بھارت کی فولاد سازی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا، ’’بھارت کے عالمی فولادی طاقت بننے کا سفر صرف پیداواری صلاحیت میں اضافے سے نہیں بلکہ جدید، پائیدار اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ فولاد کے کارخانوں کے قیام سے بھی وابستہ ہے۔ آج کی ہر اسٹریٹجک سرمایہ کاری خود کفیل بھارت کی مضبوط بنیاد رکھتی ہے۔‘‘
دورے کے دوران کماراسوامی نے 84 ہزار مکعب میٹر گنجائش کے نئے آر سی سی (ری انفورسڈ سیمنٹ کنکریٹ) آبی ذخیرے کا افتتاح بھی کیا، جو آئی آئی ایس سی او اسٹیل پلانٹ میں سی او بی-10 کی آبی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ مستقبل کے 4.08 ملین ٹن سالانہ توسیعی منصوبے کی ضروریات بھی پوری کرے گا۔

حکام نے مرکزی وزیر کو بتایا کہ مربوط نظام میں نیا تعمیر شدہ بوسٹر پمپ ہاؤس، سی او بی-10 کے لیے مخصوص پمپ ہاؤس اور زیر تعمیر پروسیس واٹر پمپ ہاؤس شامل ہیں، جو ایک بند (کلوزڈ لوپ) آبی گردش کا نظام قائم کریں گے۔ اس سے پانی کے تحفظ کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنانے، ضیاع کم کرنے اور آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
کماراسوامی نے اس منصوبے کو پائیدار صنعتی بنیادی ڈھانچے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وسائل کے مؤثر استعمال اور ماحولیاتی ذمہ داری کو صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے اس بات کی مثال ہیں کہ جدید بنیادی ڈھانچہ کس طرح ایک ساتھ صنعتی کارکردگی بہتر بنانے اور قدرتی وسائل کے تحفظ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
بعد ازاں مرکزی وزیر نے پلانٹ کے بلاسٹ فرنس کا معائنہ کیا اور اس کی آپریشنل کارکردگی، پیداواری اعداد و شمار اور جاری جدیدکاری منصوبوں کا جائزہ لیا۔ حکام نے انہیں بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پلانٹ نے 29 لاکھ ٹن ہاٹ میٹل کی پیداوار حاصل کی، جو بہتر کارکردگی اور مسلسل بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کا مظہر ہے۔
وزیر موصوف نے بلاسٹ فرنس کے کنٹرول روم کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے براہ راست آپریشنز کا مشاہدہ کیا اور انجینئروں و ملازمین سے بات چیت کی۔ انہوں نے کارکنوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ فولاد کی ہر ٹن پیداوار کے پیچھے ہزاروں انجینئروں، تکنیکی ماہرین اور کارکنوں کی محنت، مہارت اور عزم شامل ہے، جو بھارت کی صنعتی طاقت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
بعد ازاں آئی آئی ایس سی او اسٹیل پلانٹ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت مرکزی وزیر نے کی۔ اجلاس میں سیل کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر اشوک کمار پانڈا، آئی آئی ایس سی او اسٹیل پلانٹ کے ڈائریکٹر اِن چارج، ایگزیکٹو ڈائریکٹروں اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں پیداوار، آپریشنل کارکردگی، جدیدکاری منصوبوں، پیداواری صلاحیت میں توسیع، پائیداری، سرمایہ جاتی اخراجات، ٹیکنالوجی کے استعمال اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
کماراسوامی نے مالی سال 2025-26 کے دوران پلانٹ کی نمایاں کامیابیوں پر پوری آئی آئی ایس سی او ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پلانٹ نے اپنی مقررہ صلاحیت کے مقابلے میں 108 فیصد ہاٹ میٹل، 108 فیصد خام فولاد اور 109 فیصد فروخت کے قابل فولاد کی پیداوار حاصل کی، جو اس کی بڑھتی ہوئی آپریشنل صلاحیت کا ثبوت ہے۔
انہوں نے انوینٹری مینجمنٹ میں بہتری، خریداری کے نظام میں شفافیت اور خاص طور پر ایم ایس ایم ایز، درج فہرست ذاتوں و قبائل اور خواتین صنعت کاروں کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو بھی سراہا۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ پلانٹ میں سرمایہ جاتی اخراجات مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 1860 کروڑ روپے تک پہنچ گئے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 689 کروڑ روپے تھے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔ ان کے مطابق، ’’ہر کارکن کی جان اور فلاح سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ آئی آئی ایس سی او ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی حفاظتی اقدامات اپنا کر ایک زیادہ محفوظ، جدید اور مؤثر فولاد کے کارخانے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔‘‘
کماراسوامی نے کہا کہ آئی آئی ایس سی او کی کامیابیاں اس کے کارکنوں کی لگن کی عکاس ہیں اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی کے وکست بھارت 2047 اور آتم نربھر بھارت کے وژن سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’آئی آئی ایس سی او کے ہر کارکن اور افسر کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی محنت کو تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کی بھرپور قدر کی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ بھارت کا خواب ایسے ہی اداروں اور ان سے وابستہ افراد کی مشترکہ کوششوں سے پورا ہوگا۔‘‘
مرکزی وزیر نے پلانٹ کی مختلف مزدور یونینوں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔ یونین نمائندوں نے ملازمین کی فلاح، کام کے حالات اور دیگر انتظامی مسائل سے متعلق اپنے تحفظات پیش کیے۔
کماراسوامی نے ان کے مسائل غور سے سنے اور یقین دلایا کہ تمام حقیقی مسائل کا ہمدردانہ جائزہ لے کر مناسب ادارہ جاتی طریقۂ کار کے ذریعے جلد از جلد حل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’ملازمین کی فلاح و بہبود فولاد کے شعبے کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ ایک باحوصلہ اور محفوظ افرادی قوت ہی پائیدار صنعتی ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔‘‘
دورے کے دوران مغربی بنگال کی وزیر برائے شہری ترقی و بلدیاتی امور اگنی مترا پال نے بھی مرکزی وزیر سے آئی آئی ایس سی او اسٹیل پلانٹ میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے صنعتی ترقی، فولاد کے شعبے کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مرکز اور ریاست کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مغربی بنگال کی صنعتی ترقی اور بھارت کے فولادی شعبے کو مزید مضبوط بنانے میں آئی آئی ایس سی او اسٹیل پلانٹ کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرنے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
کماراسوامی نے کہا کہ بھارت کی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے اور طویل مدتی صنعتی اہداف حاصل کرنے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔
اپنے دورے کے اختتام پر انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ ہند سرکاری شعبے کے فولادی کارخانوں کی جدیدکاری، گھریلو مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے اور عالمی معیار کے فولادی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آئی آئی ایس سی او اسٹیل پلانٹ مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ملک کے نمایاں فولادی مراکز میں شمار ہوگا اور وکست بھارت 2047 کے وژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔







************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :9860 )
(रिलीज़ आईडी: 2283949)
आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English