اقلیتی امور کی وزارتت
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور جناب کرن رجیجو نے اتراکھنڈ کے وزیرِ اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی کے ہمراہ چھٹے لوک سموردھن پرو کا افتتاح کیا، جس میں بھارت کے مالامال دستکاری ورثے کی نمائش کی جا رہی ہے
پانچ روزہ میلے میں دستکاری اور کھانے پینے کی اشیا کے 150 سے زائد اسٹال، دستکاری کے براہِ راست عملی مظاہرے اور ثقافتی پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ پہلا لوک سموردھن پرو ہے جس کا انعقاد پردھان منتری وِکاس اسکیم کے تحت حکومتِ اتراکھنڈ کے اشتراک سے کیا گیا ہے
प्रविष्टि तिथि:
11 JUL 2026 7:53PM by PIB Delhi
بھارت سرکار کی وزارتِ اقلیتی امور نے حکومتِ اتراکھنڈ کے اتراکھنڈ اقلیتی بہبود و وقف ترقیاتی کارپوریشن کے اشتراک سے آج دہرادون کے پریڈ گراؤنڈ میں چھٹے لوک سموردھن پرو کا افتتاح کیا۔ پانچ روزہ اس میلے کا افتتاح مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور جناب کرن رجیجو نے اتراکھنڈ کے وزیرِ اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی اور وزیر برائے اقلیتی بہبود جناب کھجن داس کی موجودگی میں کیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب کرن رجیجو نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت سرکار ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے جذبے کے ساتھ کام کر رہی ہے اور مذہب یا برادری کی بنیاد پر کسی بھی امتیاز کے بغیر ہر شہری کی ترقی کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ میلہ دستکاروں، بُنکروں، ہنرمندوں اور کاروباری افراد کے لیے ایک اہم قومی پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں، روایتی ہنرمندی اور مصنوعات کی نمائش کر سکتے ہیں۔ ہمیں دیوبھومی اتراکھنڈ کے خوب صورت دارالحکومت میں اس میلے کے اس ایڈیشن کے انعقاد پر بے حد خوشی ہے، جہاں ملک بھر سے آنے والے دستکار نہ صرف اپنی تخلیقات کی نمائش کر سکتے ہیں بلکہ ریاست کی گرم جوشی اور مہمان نوازی کا بھی تجربہ کر سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کو مذہب کی عینک سے نہیں دیکھتی بلکہ ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوک سموردھن پرو صرف اقلیتوں کا میلہ نہیں بلکہ تمام بھارتیوں کا جشن ہے، جو ملک کے مالامال ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے وقف ہے۔
وزیرِ اعظم کے ’’ووکل فار لوکل‘‘ کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے جناب رجیجو نے شہریوں سے مقامی اور دیسی مصنوعات کو فروغ دینے اور انہیں خریدنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس نمائش میں ملک بھر کی بھارت میں تیار کردہ دستکاری کی اشیا، ہتھ کرگھے کی مصنوعات، روایتی دستکاریاں اور علاقائی پکوانوں کی وسیع اقسام پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے زائرین پر زور دیا کہ وہ مقامی دستکاروں کی مصنوعات خرید کر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بھارت کے مالامال ثقافتی تنوع کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ روایتی ذرائعِ معاش کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مانسون کے موسم کے بعد وہ وزیرِ اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی سے صلاح و مشورے کے بعد اتراکھنڈ کے اندرونی علاقوں کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارت تعلیم، ہنرمندی کے فروغ، کاروباری صلاحیتوں کی ترقی اور منڈیوں تک رسائی کے ذریعے اقلیتی برادریوں کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے بھارت کے دستکاروں اور دیسی مصنوعات کے تئیں فخر کا ایک نیا جذبہ پیدا کیا ہے۔ ایک وقت تھا جب درآمد شدہ اشیا کو وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا، لیکن آج لوگ فخر کے ساتھ ’’بھارت میں تیار کردہ‘‘ مصنوعات کا انتخاب کرتے ہیں اور انہیں فروغ دیتے ہیں۔ لوک سموردھن پرو اسی بدلتی ہوئی سوچ کا مظہر ہے، جو ہمارے مالامال ورثے کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے دستکاروں کے لیے پائیدار ذرائعِ معاش کے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی نے کہا: ’’اتراکھنڈ کے لیے یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ پہلی مرتبہ لوک سموردھن پرو کی میزبانی کا شرف اسے حاصل ہوا ہے۔ اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست بھی بن گئی ہے جس نے اس اہم تقریب کے انعقاد کے لیے وزارتِ اقلیتی امور کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو نے اتراکھنڈ کے مختلف علاقوں کا وسیع پیمانے پر دورہ کیا ہے اور وہ دیوبھومی اتراکھنڈ کے دور افتادہ ترین علاقوں سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ یہ میلہ اتراکھنڈ کی نوجوان نسل کو مختلف ریاستوں کے مالامال دستکاری ورثے اور روایتی ہنرمندی سے روشناس کرائے گا اور ساتھ ہی ہمارے اپنے دستکاروں کو قومی سطح پر اپنی ہنرمندی کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بھی فراہم کرے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’حکومتِ اتراکھنڈ متعدد خصوصی اقدامات کے ذریعے اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ پہلی جماعت سے پی ایچ ڈی کی سطح تک معاشی طور پر کمزور اقلیتی طلبہ کو وظائف فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم کے تحت اقلیتی آبادی والے علاقوں میں ترقیاتی کام انجام دیے جا رہے ہیں۔ مکھیہ منتری ہنر یوجنا کے تحت اہل مستفیدین کاروبار اور خود روزگاری کے فروغ کے لیے 20 لاکھ روپے تک کے مدتی قرضے حاصل کر سکتے ہیں۔ ہاؤس آف ہمالیاز اور ایک ضلع، دو مصنوعات اسکیم جیسے اقدامات کے ذریعے ہم اتراکھنڈ کی منفرد مقامی مصنوعات اور روایتی دستکاریوں کو ملک بھر کی منڈیوں تک بھی پہنچا رہے ہیں۔‘‘ افتتاحی تقریب سے بھارت سرکار کی وزارتِ اقلیتی امور کے سکریٹری ڈاکٹر سری وتسا کرشنا نے بھی خطاب کیا۔ اس سے قبل وزارتِ اقلیتی امور کے جوائنٹ سکریٹری جناب ایس پی رائے نے استقبالیہ خطاب کیا۔
سکریٹری ڈاکٹر سری وتسا کرشنا نے کہا کہ 2024 میں اپنے آغاز کے بعد سے لوک سموردھن پرو نے دو سال سے بھی کم عرصے میں ملک کے طول و عرض کا سفر کیا ہے اور دستکاروں اور کاروباری افراد کو ایک متحرک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہرادون میں منعقد ہونے والا یہ ایڈیشن دیوبھومی اتراکھنڈ میں اس میلے کی پہلی آمد ہے، جہاں تقریباً 150 دستکار، جن میں قریب 90 خواتین دستکار بھی شامل ہیں، اپنی ہنرمندی اور ناری شکتی کے جذبے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوک سموردھن پرو وزیرِ اعظم کے ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے تصور کی عکاسی کرتا ہے، جو ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینے اور ملک بھر کے دستکاروں کو بااختیار بنانے کا ذریعہ ہے۔ تقریب کے دوران معزز شخصیات کی عزت افزائی کی گئی، جس کے بعد حکومتِ اتراکھنڈ نے لوک سموردھن پرو کے چھٹے ایڈیشن کی یاد میں ایک یادگاری ڈاک لفافہ جاری کیا۔
چھٹے لوک سموردھن پرو میں تقریباً 150 نمائشی اسٹال لگائے گئے ہیں، جن میں ملک بھر کی روایتی دستکاریوں، ہتھ کرگھے سے تیار کردہ کپڑوں اور ورثے سے وابستہ فنون کی نمائش کی جا رہی ہے۔ تقریباً 40 فیصد اسٹال اتراکھنڈ کے فنون اور دستکاریوں کے لیے مختص ہیں، جس سے مقامی دستکاروں کو اپنی ہنرمندی کے مظاہرے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم ہوا ہے۔ باقی اسٹال مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی متنوع فنی روایات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں اتراکھنڈ کی دستکاریاں، اجرک کی چھپائی، لاکھ کی چوڑیاں، لکڑی اور پیتل کی اشیا، مٹی سے بنی اشیا، بید اور بانس کی مصنوعات، ہتھ کرگھے سے تیار کردہ کپڑے اور متعدد دیگر روایتی فنون کی نمائش کی جا رہی ہے۔ میلے کے آئندہ دنوں میں جیوتی نوراں، کشن مہیپال، وویک نوٹیال، مایا اپادھیائے، پانڈواس اور پرمیش ورما اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے، جس سے ناظرین کو بھارت کے متنوع ثقافتی ورثے سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔ میلے میں کھانے پینے کے اسٹال بھی لگائے گئے ہیں، جن میں ملک بھر کے مقبول پکوانوں کے ساتھ ساتھ اتراکھنڈ کے روایتی پہاڑی اور کماؤں خطے کے مخصوص کھانوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
لوک سموردھن پرو 11 سے 15 جولائی 2026 تک دہرادون کے پریڈ گراؤنڈ میں روزانہ صبح 11 بج کر 30 منٹ سے رات 9 بجے تک عوام کے لیے کھلا رہے گا۔ میلے کے دوران زائرین کو ماہر دستکاروں کی جانب سے دستکاری کے براہِ راست عملی مظاہرے دیکھنے، خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان تبادلۂ خیال میں شرکت کرنے اور دستکاروں و کاروباری افراد کی منڈیوں تک رسائی اور کاروباری مواقع کو بہتر بنانے کے لیے منعقد کیے جانے والے کاروباری اور رقمی ذرائع سے تشہیر کے اجلاسوں میں شریک ہونے کا موقع ملے گا۔
دہرادون میں منعقد ہونے والا لوک سموردھن پرو ایک تاریخی سنگِ میل ہے، کیونکہ یہ پہلا لوک سموردھن پرو ہے جس کا انعقاد کسی ریاستی حکومت کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔ اس طرح اتراکھنڈ پردھان منتری وِکاس اسکیم کے تحت اس اہم تقریب کی میزبانی کے لیے وزارتِ اقلیتی امور کے ساتھ اشتراک کرنے والی ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ یہ اقدام بھارت کے مالامال روایتی فنون، دستکاریوں اور پکوانوں کے ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پائیدار ذرائعِ معاش کو فروغ دینے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان اشتراک کو مضبوط بنانے پر وزارت کی نئی توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔
سال 2024 میں آغاز کے بعد سے وزارت نے قومی اقلیتی ترقی و مالیاتی کارپوریشن (این ایم ڈی ایف سی) کے اشتراک سے لوک سموردھن پرو کے پانچ ایڈیشن منعقد کیے ہیں، جن سے 550 سے زائد دستکاروں، بُنکروں اور ماہرینِ فنِ طباخی کو فائدہ پہنچا ہے۔ انہیں منڈیوں تک رسائی، کاروباری ترقی اور روایتی ذرائعِ معاش کے فروغ کے لیے قومی سطح کا ایک پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے۔ معزز شخصیات نے دستکاروں کی ہنرمندی اور ثقافتی تنوع کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ لوک سموردھن پرو جیسے پلیٹ فارموں سے فائدہ اٹھا کر منڈیوں کے ساتھ اپنے روابط مضبوط کریں، کاروباری مواقع میں اضافہ کریں اور پائیدار ذرائعِ معاش پیدا کریں۔ اس دورے نے بھارت کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور کاروباری مواقع، منڈیوں تک بہتر رسائی اور معاشی شمولیت کے ذریعے دستکاروں کو بااختیار بنانے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
*****
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-9843
(रिलीज़ आईडी: 2283771)
आगंतुक पटल : 10