وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

بھارت-نیوزی لینڈ کاروباری تقریب میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن

प्रविष्टि तिथि: 11 JUL 2026 8:52AM by PIB Delhi

عالی جناب وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن،

بھارت اور نیوزی لینڈ کی کاروباری برادری کے معزز قائدین،

نمسکار

کیا اورا!

آکلینڈ میں آپ سب کے درمیان آکر مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ میں وزیر اعظم لکسن کا ان کے مثبت وژن اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے پختہ عزم پر خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

آپ سب کی موجودگی نیوزی لینڈ کی جدت پسندی، کاروباری صلاحیت اور مستقبل پر مرکوز سوچ کی عکاس ہے۔ میں بھارت کی جانب سے ایک ارب چالیس کروڑ عوام کی امنگوں، امیدوں اور ترقی کے عزم کا پیغام لے کر آپ کے درمیان حاضر ہوا ہوں۔

دوستو،

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بھارت اور نیوزی لینڈ کے تعلقات ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ آج ہم اپنے باہمی روابط کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی مضبوط بنیاد پر استوار کر رہے ہیں۔ یہ صرف سفارتی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل نہیں، بلکہ ہمارے مشترکہ مستقبل کے لیے ایک نئے عزم کا اظہار بھی ہے۔

اسی سال دونوں ممالک نے محض نو ماہ کی ریکارڈ مدت میں آزاد تجارتی معاہدہ طے کیا ہے۔ اس معاہدے سے آپ سب کے لیے منڈیوں تک بہتر رسائی، سرمایہ کاری، خدمات، ٹیکنالوجی اور باصلاحیت افرادی قوت کی نقل و حمل کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ نئے جذبے اور بھرپور تعاون کے ساتھ ہم 2030 تک اپنے دوطرفہ تجارتی حجم کو دوگنا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

نیوزی لینڈ نے آئندہ پندرہ برسوں کے دوران بھارت میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ صرف سرمایہ کاری کا وعدہ نہیں، بلکہ بھارت کی ترقی کے سفر میں ایک مضبوط شریک بننے کے عزم کا اظہار بھی ہے۔

دوستو،

آج بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے۔ ہمارا وسیع اور مسلسل بڑھتا ہوا متوسط طبقہ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر فروغ، اور بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی بھارت کو دنیا کی ایک منفرد معاشی کامیابی کی داستان بنا رہے ہیں۔

ہم نے بھارت میں اصلاحات، بہترین کارکردگی اور ہمہ گیر تبدیلی کو حکمرانی کی بنیاد بنایا ہے۔ آج بھارت میں پالیسیوں کا استحکام، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کا تسلسل موجود ہے۔

اسی لیے آج ہم دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ:

’’بھارت صرف ایک منڈی نہیں، بلکہ عالمی ترقی کے لیے ایک مضبوط نقطۂ آغاز ہے۔‘‘

بھارت میں پیدا ہونے والے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے میں چند مثالیں آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔

ملک میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے ہم نے پیداوار سے منسلک  ترغیباتی   (پی ایل آئی) اسکیم شروع کی ہے، جس کے تحت فوڈ پروسیسنگ سے لے کر ٹیکسٹائل سمیت 14 مختلف شعبوں میں تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر کی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے صنعتی سفر کا حصہ بنیں۔

بھارت میں ہوائی اڈوں، علاقائی فضائی رابطوں، فضائی مال برداری (ایئر کارگو) اور سیاحت کے شعبے میں غیر معمولی ترقی ہو رہی ہے۔ آج بھارت دنیا کی تیسری سب سے بڑی داخلی فضائی منڈی بن چکا ہے۔ ہم باہمی تعاون سے کارگو کوریڈورز، بہتر فضائی رابطوں اور مشترکہ سیاحتی پیکیجز کی تیاری کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور عوامی روابط کو مزید مستحکم بنا سکتے ہیں۔

کیوی، سیب، شہد اور سمندری غذاؤں کے لیے جلد خراب ہونے والی اشیاء کی محفوظ اور مؤثر ترسیل کے جدید نظام مشترکہ طور پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کو باغبانی، ڈیری سائنس اور جنگلات کے شعبوں میں غیر معمولی مہارت حاصل ہے، جبکہ بھارت کے پاس ایک وسیع صارف منڈی، فوڈ پارکس اور زرعی ٹیکنالوجی کے ماہرین کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ ہم مل کر فارم سے مارکیٹ تک مضبوط ویلیو چینز قائم کر سکتے ہیں اور عالمی برآمدی پلیٹ فارم تشکیل دے سکتے ہیں۔

فِن ٹیک کے میدان میں آج بھارت دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا میں ہونے والی ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً پچاس فیصد بھارت میں انجام پاتا ہے۔ ہم ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ گرین بانڈز اور بلینڈڈ فنانس جیسے شعبوں میں بھی باہمی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔

ہم نے خلائی شعبے کو نجی سرمایہ کاری اور نجی اداروں کی شمولیت کے لیے کھول دیا ہے۔ آج بھارت میں 400 سے زائد خلائی اسٹارٹ اپس سرگرمِ عمل ہیں، اور ان میں سے ایک کمپنی یونیکورن کا درجہ بھی حاصل کر چکی ہے۔ دونوں ممالک کی کمپنیاں بھارت کے خلائی نظام سے مل کر چھوٹے سیٹلائٹس، ریموٹ سینسنگ اور سمندروں کی نگرانی جیسے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کر سکتی ہیں۔

بھارت میں اسمارٹ سٹیز مشن کے تحت 100 شہروں میں آٹھ ہزار سے زائد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ہم شہری نقل و حمل، آبی وسائل کے بہتر انتظام اور فضلہ (ویسٹ) کے مؤثر انتظام جیسے شعبوں میں بھی مل کر نمایاں پیش رفت کر سکتے ہیں۔

دوستو،

میں ماؤری کاروباری رہنماؤں کا خصوصی خیرمقدم کرتا ہوں۔ بھارت کی تہذیب اور ماؤری روایات، دونوں میں فطرت، معاشرے اور پائیدار ترقی کے لیے گہرا احترام پایا جاتا ہے۔ ہمارے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) میں بھی ماؤری کاروباری اداروں کے لیے مواقع کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ انہی مشترکہ اقدار کی بنیاد پر ہم ایک ایسے تجارتی ماڈل کی تشکیل کر سکتے ہیں جو سب کے لیے مساوی مواقع فراہم کرے اور پائیدار ترقی کو فروغ دے۔

دوستو،

میری تجویز ہے کہ ہم مل کر ایک نہایت بلند ہدف رکھنے والا بزنس روڈ میپ تیار کریں۔ اپنی اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہوئے کم از کم پانچ نمایاں اور اہم منصوبوں کی نشاندہی کریں، اور انہیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے ایک مؤثر جائزہ  کا نظام قائم کریں۔ اسی صورت میں ہم اپنے تعلقات کی مکمل صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے اور دونوں ممالک کے عوام کی امیدوں اور توقعات پر پورا اتر سکیں گے۔

میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ اس مشترکہ سفر میں ہمارے شانہ بشانہ چلیں۔

آئیے، ہم اپنی شراکت داری کو خوشحالی کا ذریعہ، جدت کا پل اور عالمی بھلائی کے لیے ایک مؤثر قوت بنائیں۔

میری خواہش ہے کہ بھارت اور نیوزی لینڈ مل کر دنیا میں ایک نئی اور بااثر قوت کے طور پر ابھریں۔

آخر میں میری ایک اور گزارش ہے۔ ابھی آپ نے ذکر کیا کہ ہمارے کھیلوں کے تعلقات کو سو برس مکمل ہو رہے ہیں۔ یہ یقیناً ایک نہایت اہم اور تاریخی موقع ہے۔

ہم اس تاریخی موقع کا بھرپور جشن تو ضرور منائیں گے، لیکن کیا ہم اس کے ساتھ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ 35 برس سے کم عمر کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد نیوزی لینڈ سے بھارت آئے، اور اسی طرح بھارت سے بھی 35 برس سے کم عمر کاروباری افراد کا ایک نمائندہ وفد نیوزی لینڈ کا دورہ کرے؟

اس طرح ہم کاروباری قیادت کی ایک نئی نسل تیار کر سکیں گے، جو آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گی۔

انہی نیک تمناؤں کے ساتھ، آپ سب کا تہہ دل سے بہت بہت شکریہ۔

 

******

ش ح۔ ف ا۔ م ر

U-NO. 9820


(रिलीज़ आईडी: 2283556) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Assamese , Gujarati