سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان روایتی علم کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کی خاطر سائنسی و صنعتی تحقیق سے متعلق کونسل کی ڈیجیٹل لائبریری برائے روایتی علم (سی ایس آئی آر۔ٹی کے ڈی ایل) تک رسائی کے معاہدے پر دستخط
प्रविष्टि तिथि:
10 JUL 2026 9:32AM by PIB Delhi
سائنسی و صنعتی تحقیق سے متعلق کونسل (سی ایس آئی آر) اور آئی پی آسٹریلیا نے 9 جولائی 2026 کو آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں منعقدہ تیسرے سالانہ بھارت–آسٹریلیا سربراہ اجلاس کے دوران سی ایس آئی آر کی روایتی علم کی ڈیجیٹل لائبریری (سی ایس آئی آر۔ٹی کے ڈی ایل) تک رسائی سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کی تکمیل بھارت کے عزت مآب وزیرِاعظم جناب نریندر مودی اور آسٹریلیا کے عزت مآب زیرِاعظم جناب انتھونی البانیزی،پارلیمانی رکن کی موجودگی میں عمل میں آئی۔
ٹی کے ڈی ایل رسائی سے متعلق معاہدہ ،سمٹ کے دوران منعقدہ دو طرفہ بات چیت کے اٹھارہ کلیدی نتائج میں سے ایک ہے ، جس میں دفاع اور سلامتی ، توانائی کے تحفظ ، تعلیم ، ہنر مندی کے فروغ ، سائنس اور ٹیکنالوجی ، فلم سازی ، روایتی علم اور ثقافتی املاک کی وطن واپسی سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔
روایتی علم کی ڈیجیٹل لائبریری (ٹی کے ڈی ایل)، جو اپنی نوعیت کا پہلا علمی شواہد کاڈیٹا بیس ہے، بھارت نے اسےاپنے بیش بہا روایتی علم کو غلط طور پر پیٹنٹ کیے جانے سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت آئی پی آسٹریلیا کو ٹی کے ڈی ایل کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل ہوگی تاکہ وہ آسٹریلیا کے پیٹنٹ قوانین اور جانچ کے طریقۂ کار کے مطابق پیٹنٹ درخواستوں کی جانچ کے دوران متعلقہ قبل از موجود علمی شواہد سے استفادہ کر سکے۔ اس معاہدے سے پیٹنٹ درخواستوں کی جانچ مزید مؤثرہوگی، مستند اور جامع ہوگی، نیز ایسے علم پر پیٹنٹ جاری ہونے کی روک تھام میں مدد ملے گی جو پہلے ہی بھارت کے دستاویزی روایتی ورثے کا حصہ ہے۔
بھارت اور آسٹریلیا دونوں ایسے ممالک ہیں جہاں صدیوں پر محیط مقامی علمی روایات، روایتی طریقۂ کار اور ثقافتی اظہار کی بھرپور میراث موجود ہے، جو غلط استعمال اور ناجائز دعووں کے خطرے سے دوچار رہتی ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کیا جانا دونوں ممالک کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ روایتی علم کا تحفظ کیا جائے اور دستاویزی قبل از موجود علمی شواہد کے مؤثر استعمال کے ذریعے دانشورانہ املاک کے نظام کو مزید مضبوط ومستحکم بنایا جائے۔
مذکورہ معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی، آئی پی آسٹریلیا کے پیٹنٹس کے کمشنر جناب اینڈریو ولکنسن، سائنسی و صنعتی تحقیق (سی ایس آئی آر) کی ڈائریکٹر جنرل اور سائنسی و صنعتی تحقیق (ڈی ایس آئی آر) محکمۂ کی سکریٹری ڈاکٹر این کلاسیلوی، اور سی ایس آئی آر۔ٹی کے ڈی ایل یونٹ کی سربراہ اور سینئر سائنس دان ڈاکٹر وشواجنانی جے ستیگیری کریں گی۔
ٹی کے ڈی ایل کے بارے میں
روایتی علم کی ڈیجیٹل لائبریری (سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل) کا قیام 2001 میں بھارتی حکومت کے کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق (سی ایس آئی آر) اور وزارتِ آیوش کے مشترکہ اقدام کے تحت عمل میں لایاگیا۔ یہ دنیا کا پہلا ایسا ڈیٹا بیس ہے جو روایتی علم کے دفاعی تحفظ کے لیے مخصوص ہے۔ اسے اس مقصدکے تحت تیار کیا گیا ہےکہ بھارتی روایتی علم کی بنیاد پر غلط طور پر پیٹنٹ جاری ہونے سے روکا جا سکے۔
سی ایس آئی آر۔ٹی کے ڈی ایل میں اس وقت آیوروید، یونانی، سدھا، سووا رِگپا اور یوگا سے متعلق 5 لاکھ 20 ہزار سے زائد نسخوں اور طریقۂ علاج کی معلومات موجود ہیں، جنہیں دنیا بھر کے پیٹنٹ معائنہ کاروں کے استعمال کے لیے پانچ بین الاقوامی زبانوں، انگریزی، جرمن، فرانسیسی، جاپانی اور اسپینش میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
آئی پی آسٹریلیا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے بعد اب مجموعی طور پر اٹھارہ پیٹنٹ دفاتر کو نان ڈسکلوزر اگریمنٹس (این ڈی ایز) کے تحت اس ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔سی ایس آئی آر۔ٹی کے ڈی ایل نے بھارت کے روایتی علم کے تحفظ میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔ اس کے فراہم کردہ قبل از موجود علمی شواہد (پرائر آرٹ) کی بنیاد پر دنیا بھر میں 375 سے زائد پیٹنٹ درخواستیں منسوخ کی گئیں، مستردکی گئیں، ترمیم شدہ کوواپس لے لیا گیایا ترک کر دی گئی ہیں۔
***
ش ح۔ش م۔ ش ا
U NO: 9781
(रिलीज़ आईडी: 2283192)
आगंतुक पटल : 6