الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے سانند میں سی جی سیمی کی او ایس اے ٹی سہولت میں تجارتی پیداوار کے آغاز پر کہا: "ہندوستان نے سیمی کنڈکٹرز کے شعبے میں ایک نئے دور میں قدم رکھ دیا ہے"
دو ہزار چھبیس کے آخر تک ہندوستان میں پانچ سیمی کنڈکٹر پلانٹس کی پیداوار شروع ہونے کی امید ہے، اس سے اتم نربھر بھارت کو نئی تحریک ملے گی: اشونی ویشنو
یہ صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں ہے، بلکہ سماجی تبدیلی کی علامت بھی ہے: جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، بہار، جموں و کشمیر، کیرالہ اور گجرات کی نوجوان خواتین یہاں روزگار حاصل کر رہی ہیں: مرکزی وزیر اشونی ویشنو
چپ سیکٹر میں ترقی سے 'آتم نربھر بھارت مشن' کو فروغ ملے گا: مرکزی وزیر اشونی ویشنو
प्रविष्टि तिथि:
04 JUL 2026 10:30PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر نے ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر سیکٹرکے لیے ایک نئے دور کے آغاز کی ستائش کی
ریلوے، اطلاعات و نشریات، اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آج کہا کہ ہندوستان سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے، کیونکہ گجرات کے سانند میں سی جی سیمی (او ایس اے ٹی) سہولت نے تجارتی پیداوار کا آغاز کر دیا ہے، جو اس سال ایسا کرنے والا ملک کا تیسرا سیمی کنڈکٹر پلانٹ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی دور اندیش قیادت میں ایک مضبوط سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم(ماحولیاتی نظام) تشکیل پا رہا ہے، جو وِکست بھارت کی بنیاد کے طور پر کام کرے گا۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی، گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر پٹیل، اور نائب وزیر اعلیٰ جناب ہرش سنگھوی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جناب ویشنو نے صرف 27 مہینوں میں پلانٹ کو سنگِ بنیاد سے تجارتی پیداوار تک پہنچانے کے لیے گجرات حکومت کے فعال تعاون اور مؤثر عمل درآمد کا سہرا دیا۔
تجارتی پیداوار میں تیسرا سیمی کنڈکٹر پلانٹ
جناب ویشنو نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اس سے قبل بالترتیب 28 فروری اور 31 مارچ 2026 کو ملک کے پہلے اور دوسرے سیمی کنڈکٹر پلانٹس کا آغاز کیا تھا، اور اب تجارتی پیداوار میں اس تیسرے پلانٹ کے ساتھ ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر صلاحیت اور قابلِ اعتماد حیثیت پر عالمی اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے منظور شدہ 12 سیمی کنڈکٹر پروجیکٹوں میں سے تین اب تجارتی پیداوار میں داخل ہو چکے ہیں، جن میں سے مزید دو کا افتتاح آنے والے مہینوں میں متوقع ہے۔ جناب ویشنو نے کہا کہ 2026 کے اختتام تک ملک بھر میں پانچ سیمی کنڈکٹر پلانٹس فعال ہونے کی توقع ہے، جس سے آتم نربھر بھارت مشن کو مزید تقویت ملے گی۔
سماجی تبدیلی کی کہانی
جناب ویشنو نے اس پلانٹ کو نہ صرف ایک تکنیکی کامیابی بلکہ سماجی تبدیلی کی علامت بھی قرار دیا۔ جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، بہار، جموں و کشمیر، کیرالہ اور گجرات کی نوجوان خواتین خصوصی تربیت کے لیے ملائیشیا کا سفر کر کے اس سہولت میں آپریٹرز کے طور پر روزگار حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے ہندوستان کا اپنا سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام پختہ ہوتا جا رہا ہے، ویسے ہی عالمی معیار کی یہ تربیت ملک کے اندر بھی تیزی سے دستیاب کرائی جا سکے گی۔
سانند سے دنیا تک
جناب ویشنو نے کہا کہ اس سہولت میں تیار کی جانے والی چپس مقامی طور پر آٹوموبائل، اسکوٹر اور صنعتی آلات میں استعمال ہوں گی، جبکہ انہیں جاپان، امریکہ اور یورپ بھی برآمد کیا جائے گا، جس سے ہندوستان عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں ایک بامعنی شراکت دار کے طور پر اپنی حیثیت مزید مضبوط کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس سہولت کا سنگِ بنیاد 13 مارچ 2024 کو 7,600 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے ساتھ رکھا گیا تھا، اور اسے جاپان کی رینیساس الیکٹرانکس کے اشتراک سے قائم کیا گیا، جس کے ذریعے ہندوستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز، مینوفیکچرنگ کے طریقوں اور معیاری نظام تک رسائی حاصل ہوئی۔
صرف ایک پلانٹ نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی نظام کی تعمیر
جناب ویشنو نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اس وقت 12 سیمی کنڈکٹر یونٹس زیرِ تعمیر ہیں، 24 ڈیپ ٹیک چِپ ڈیزائن اسٹارٹ اپ ابھر کر سامنے آئے ہیں، 70,000 سے زیادہ نوجوانوں کو چِپ ڈیزائن کی تربیت دی جا چکی ہے، اور 315 یونیورسٹیاں اب سیمی کنڈکٹر ڈیزائن سے متعلق کورسز پیش کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھولیرا میں قائم ہونے والا ہندوستان کا پہلا سیمی کنڈکٹر فیب بھی تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کا الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سیکٹر تقریباً 13 لاکھ کروڑ روپے کی صنعت بن چکا ہے، جو 25 لاکھ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترقی ہندوستان کو عالمی ٹیکنالوجی طاقت کے طور پر مستحکم کرے گی۔
عالمی ویلیو چین میں ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کرنا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس موقع پر سہولت کے تجربہ مرکز اور کلین روم کا دورہ کیا، آپریٹرز اور انجینئروں سے بات چیت کی، اور تجارتی پیداوار کے آغاز کے موقع پر یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی، جس کے بعد سی جی سیمی کے چیئرمین نے سہولت کی پہلی پروڈکٹ رینیساس الیکٹرانکس انڈیا کے عالمی نائب صدر اور صدر کے حوالے کی۔
اس تقریب میں گجرات حکومت کے وزراء، ارکانِ پارلیمنٹ، اراکینِ اسمبلی، صنعت کے نمائندوں، سی جی سیمی کے سینئر افسران، اور ملک بھر کے نوجوان انجینئروں اور عملے نے شرکت کی۔
جناب ویشنو نے کہا کہ سی جی سیمی سہولت میں تجارتی پیداوار کا آغاز عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کرنے، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے لیے ملک کو ایک قابلِ اعتماد اور خود کفیل مرکز کے طور پر ابھارنے، اور ہندوستان کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی ٹیکنالوجی طاقت کے طور پر قائم کرنے کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔
***
(ش ح۔اس ک )
UR-9566
(रिलीज़ आईडी: 2281282)
आगंतुक पटल : 7