عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (آئی آئی پی اے) میں ریوییمپڈ 52ویں ایڈوانسڈ پروفیشنل پروگرام ان پبلک ایڈمنسٹریشن (اے پی پی پی اے ) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے زور دیا کہ تدریسی نصاب کو مسلسل جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جانا چاہیے، جس میں فیکلٹی کا تنوع، ادارہ جاتی تعاون، انٹرایکٹو لرننگ اور مواد کی بروقت تازہ جانکاری شامل ہو
وزیر موصوف نے تدریس کے لیے ایک ایسے ماڈل کی ضرورت پر زور دیا جو چست ، ٹیکنالوجی پر مبنی اور شہری پر مرکوز حکمرانی کے اصولوں پر مبنی ہو۔
دس ماہ پر مشتمل اے پی پی پی اے پروگرام مختلف سروسز سے تعلق رکھنے والے سینئر افسران کو اکٹھا کرتا ہے، جس کا مقصد انہیں وکست بھارت @2047 کے لیے مؤثر پالیسی لیڈرز کے طور پر تیار کرنا ہے
مستقبل کے منتظمین کو تاحیات سیکھنے والے ہونا چاہیے، جو ٹیکنالوجی، ابلاغ کی مہارتوں اور بین شعبہ جاتی سوچ سے لیس ہوں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
प्रविष्टि तिथि:
01 JUL 2026 5:15PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز (آزادانہ چارج)کےمرکزی وزیر مملکت اور وزیراعظم کےدفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشنز، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کےوزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (آئی آئی پی اے) میں 52ویں ایڈوانسڈ پروفیشنل پروگرام ان پبلک ایڈمنسٹریشن (اے پی پی پی اے ) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے زور دیا کہ تدریسی نصاب کو مسلسل جدید خطوط پر استوار کیا جانا چاہیے، جس میں فیکلٹی کا تنوع، ادارہ جاتی تعاون، انٹرایکٹو لرننگ اور نصاب کی باقاعدہ تازہ جانکاری شامل ہو۔
وزیرموصوف نے کہا کہ اکیسویں صدی میں حکمرانی ایسے نئے منتظمین کی متقاضی ہے جو مسلسل سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، تیزی سے بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں اور ٹیکنالوجی، جدت اور شہری شراکت داری سے بھرپور دور میں پراعتماد قیادت فراہم کر سکیں۔
انہوں نے ازسرِ نو تشکیل دیے گئے اے پی پی پی اے پروگرام کو وکست بھارت @2047 کے لیے ‘پالیسی آرکیٹیکٹس’’ تیار کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ صلاحیت سازی کے ذمہ دار اداروں کو بدلتے ہوئے انتظامی تقاضوں کے مطابق مسلسل ارتقاء پذیر رہنا چاہیے تاکہ وہ اپنی افادیت برقرار رکھ سکیں۔
افتتاحی تقریب میں آئی آئی پی اے کےڈائریکٹر جنرل ایس این باگڑے، سینئر فیکلٹی ممبران سمیت ڈاکٹر چارو ملہوترا، ممتاز ماہرین تعلیم اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ 52ویں اے پی پی پی اے کے شرکاء بھی موجود تھے جو آل انڈیا سروسز، مرکزی سول سروسز، دفاعی خدمات اور دیگر سرکاری اداروں سے تعلق رکھتے ہیں۔محکمۂ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) کی سرپرستی میں چلنے والا یہ 10 ماہ کا فلیگ شپ ایگزیکٹو پروگرام اعلیٰ سرکاری افسران میں قیادت، اسٹریٹجک فیصلہ سازی اور بین شعبہ جاتی فہم کو مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر ازسرِ نو ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں تعلیم حاصل کرنے، عملی تجربے اور ادارہ جاتی تعاون کا امتزاج شامل ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آزادی کے فوراً بعد قائم ہونے والے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (آئی آئی پی اے ) کی شاندار تاریخ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اس وقت قائم کیا گیا تھا جب بھارت میں عوامی منتظمین کی تربیت کے لیے منظم مراکز بہت کم تھے۔ گزشتہ دہائیوں کے دوران اس ادارے نے ایسے سول سرونٹس کی کئی نسلوں کی تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جنہوں نے ملک کی تعمیر و ترقی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس ورثے کو مزید آگے بڑھایا جائے اور عوامی انتظامیہ کو حکمرانی کے بدلتے ہوئے تقاضوں، تیز رفتار تکنیکی ترقی اور عالمی تبدیلیوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔
وزیرموصوف نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں حکمرانی کے نظام میں بنیادی تبدیلی آئی ہے، جس میں شفافیت، جوابدہی، ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی فراہمی اور وقت کی پابندی کے ساتھ عمل درآمد پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سول سرونٹس سے توقعات اب روایتی انتظامی کردار سے کہیں آگے بڑھ چکی ہیں اور ان میں اب ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل گورننس، عوامی ابلاغ اور باہمی اشتراک پر مبنی پالیسی سازی کی سمجھ بوجھ بھی شامل ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘‘آج کی حکمرانی کل کے نصاب سے نہیں چل سکتی’’ اور اس بات پر زور دیا کہ تربیتی اداروں کو مسلسل خود کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہوگا تاکہ افسران کو ایسے چیلنجز کے لیے تیار کیا جا سکے جو دس سال پہلے موجود ہی نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہر منتظم کے لیے ضروری ہے کہ وہ تاحیات سیکھنے کی عادت اپنائے کیونکہ علم اور ٹیکنالوجی غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہے ہیں۔
ازسرِ نو ترتیب دیے گئے پروگرام کے پیچھے موجود تصور کو واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اے پی پی پی اے کو چار بنیادی ستونوں پر دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے: متنوع فیکلٹی، ادارہ جاتی تعاون، عصری نصاب اور انٹرایکٹو لرننگ۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے منتظمین کو صرف سینئر بیوروکریٹس اور ماہرینِ تعلیم ہی سے نہیں بلکہ جدت کاروں، کاروباری افراد، کمیونیکیشن ماہرین، سائنسدانوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور عملی تجربہ رکھنے والے ماہرین سے بھی سیکھنا چاہیے جو حقیقی دنیا میں حکمرانی کی تشکیل کر رہے ہیں۔
عوامی انتظامیہ میں ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیرموصوف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، کوانٹم ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل گورننس اب محض تخصصی موضوعات نہیں رہے بلکہ پالیسی سازی اور نفاذ کے ذمہ دار منتظمین کے لیے بنیادی فہم کے لازمی شعبے بن چکے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو ہمیشہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانا چاہیے، نہ کہ انسانی حساسیت کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جدید حکمرانی میں ابلاغ کو ایک بنیادی اور فیصلہ کن مہارت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے سول سرونٹس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی قیادت، شہریوں اور میڈیا کے ساتھ مؤثر انداز میں رابطہ قائم کریں، جس کی وجہ سے ابلاغ عوامی انتظامیہ کا ایک ناگزیر جزو بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی لیے اس پروگرام میں ابلاغ، عملی تعلیم، کیس اسٹڈیز اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے ساتھ براہِ راست تعامل پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
شرکاء کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں علمی تجسس برقرار رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مؤثر قیادت کا آغاز ہر روز سیکھنے کی خواہش سے ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی باقاعدگی سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور نئی پیش رفت کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ عاجزی بامقصد تعلیم کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس دن ہم یہ سمجھ لیں کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں، اسی دن ہم سیکھنا بند کر دیتے ہیں۔ انہوں نے افسران کو مشورہ دیا کہ وہ نئے خیالات کے لیے ہر وقت کھلے رہیں، خواہ وہ کسی بھی ذریعے سے آئیں۔
وزیرموصوف نے شرکاء سے تفصیلی گفتگو بھی کی، جن میں انڈین پولیس سروس، انڈین ٹیلی کام سروس، انٹیلی جنس اداروں اور فوج (آرمی و نیوی) کے افسران شامل تھے۔ انہوں نے پروگرام سے اپنی توقعات بیان کیں اور عوامی انتظامیہ کے سامنے موجود بدلتے ہوئے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے خاص طور پر دفاع اور سول اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت ، خلائی ٹیکنالوجیز، بین الاقوامی تجربہ، پالیسی کے نفاذ، عوامی ابلاغ اورسبھی شعبوں کی نظامِ حکومت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔
ان تجاویز کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اعلیٰ تعلیمی اداروں، ماہرین، جدت کاروں، صنعت کے رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مزید تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے آئی آئی پی اے کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سرکاری اور نجی شعبے کے ماہرین کے ساتھ تعامل، بھارت اور بیرونِ ملک بہترین حکومتی طریقوں سے سیکھنے، اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز و عوامی پالیسی کے ماہرین کے ساتھ مضبوط روابط کے ذریعے پروگرام کو مزید بہتر بنائے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ مختلف سروسز کے شرکاء کے درمیان تجربات کے تبادلے کے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں، کیونکہ آج کے دور کے بیشتر انتظامی چیلنجز کے حل مربوط اور مشترکہ کوششوں کے متقاضی ہیں، نہ کہ الگ الگ ادارہ جاتی ردعمل کے۔
وزیرموصوف نے شرکاء کو مزید ترغیب دی کہ وہ 10 ماہ پر مشتمل اس پروگرام کے دوران اپنے تجربات کو باقاعدگی سے قلمبند کریں اور کھل کر فیڈبیک فراہم کریں تاکہ اے پی پی پی اے کے آئندہ ادوار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب وہ سننے، سیکھنے، خود کو ڈھالنے اور مسلسل بہتری لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ان کے مطابق سیکھنے کا عمل دو طرفہ ہونا چاہیے، جس میں فیکلٹی اور شرکاء ایک دوسرے کے علم اور تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے مشترکہ طور پر ترقی کریں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ازسرِ نو ترتیب دیا گیا اے پی پی پی اے پروگرام مستقبل میں بھارت کی حکمرانی میں تبدیلی کی قیادت کرنے والے افسران کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس پروگرام کو محض ایک تعلیمی سرگرمی کے طور پر نہ لیں بلکہ اسے اپنے نقطۂ نظر کو وسیع کرنے، مختلف سروسز اور اداروں کے درمیان پائیدار پیشہ ورانہ روابط قائم کرنے، اور ایک ایسے مؤثر، جدت پر مبنی، ٹیکنالوجی سے چلنے والے اور شہریوں پر مرکوز حکمرانی کے نظام کی تشکیل میں بامعنی کردار ادا کرنے کے موقع کے طور پر استعمال کریں، جو وکست بھارت @2047 کے وژن کے مطابق ہو۔
***
ش ح۔ع ح۔ش ہ ب
U.No. 9416
(रिलीज़ आईडी: 2279979)
आगंतुक पटल : 11