سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
کابینہ نے اتر پردیش میں این ایچ-34 کے ایکسیس- کنٹرولڈ کانپور-کبرئی سیکشن کو 4/6 لین میں تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے ، 7,145.14 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے یہ منصوبہ بی او ٹی (ٹول) ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا
प्रविष्टि तिथि:
01 JUL 2026 3:15PM by PIB Delhi
وزیراعظم نریندر مودی کی زیرِ صدارت اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے اتر پردیش میں 117.7 کلومیٹر طویل کانپور-کبرئی ایکسیس- کنٹرولڈ گرین فیلڈ ہائی وے کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ یہ چار لین پر مشتمل کنٹرولڈ ایکسیس شاہراہ مستقبل میں اسے چھ لین تک توسیع دینے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کی جائے گی اور نیشنل ہائی ویز (او) پروگرام کے تحت بھوپال-کانپور اقتصادی راہداری کا ایک اہم حصہ ہوگی۔اس منصوبے پر 7,145.14 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت آئے گی۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) اسے بی او ٹی (ٹول) ماڈل کے تحت تعمیر کرے گی، جبکہ این ایچ-34 کے موجودہ کانپور-کبرئی سیکشن کی دیکھ بھال اور آپریشن بھی اسی منصوبے کا حصہ ہوگا۔
یہ منصوبہ کانپور اور کبرئی کے درمیان تیز رفتار اور بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنائے گا، جبکہ ساگر، بھوپال اور مدھیہ پردیش کے دیگر علاقوں سے رابطے کو مزید مضبوط کرے گا۔ اس طرح اتر پردیش کے صنعتی اور تجارتی مراکز کو مدھیہ پردیش کے معدنی وسائل، صنعت اور زرعی علاقوں سے جوڑنے والی ایک جدید اقتصادی راہداری قائم ہوگی۔
80 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے مطابق ڈیزائن کی گئی یہ شاہراہ کانپور اور کبرئی کے درمیان سفر کا دورانیہ ساڑھے تین گھنٹے سے کم کرکے ڈیڑھ گھنٹہ (58 فیصد کمی) کر دے گی۔ اس سے سڑکوں کی حفاظت میں اضافہ، گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات میں کمی اور مسافروں و مال برداری کی تیز اور مؤثر نقل و حمل ممکن ہوگی۔یہ راہداری این ایچ-34، این ایچ-35، بندیل کھنڈ ایکسپریس وے، کانپور رنگ روڈ اور ریاستی شاہراہوں ایس ایچ-46، ایس ایچ-91، ایس ایچ-10 بی اور ایس ایچ-42 سے مربوط ہوگی، جس سے علاقائی شاہراہ نیٹ ورک مزید مضبوط ہوگا۔ اس کے علاوہ کبرئی کے کان کنی والے علاقے تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے معدنیات، صنعتی سامان، تعمیراتی اشیاء اور زرعی پیداوار کی نقل و حمل زیادہ مؤثر بنے گی، لاجسٹکس کا نظام مستحکم ہوگا اور علاقائی اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔
پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان سے ہم آہنگ یہ منصوبہ 16 اقتصادی مراکز کو بہتر رابطہ فراہم کرے گا، جن میں اُناؤ، بانتھر، پنکھی، رنیا، جین پور، روما، چکری، سومیر پور، بھوراگڑھ کے صنعتی علاقے، ٹرانس گنگا انٹیگریٹڈ ٹاؤن شپ، گروتھ سینٹر جے پور، کانپور نگر نوڈ اور بنگال کیمیکلز اینڈ فارماسیوٹیکلز لمیٹڈ شامل ہیں۔
یہ منصوبہ 9 سماجی مراکز کو بھی بہتر رابطہ فراہم کرے گا، جن میں فتح پور، مہوبا، کانپور چڑیا گھر، بدھ پارک، جے کے ٹیمپل اینڈ گارڈن، رادھا کرشن مندر، سدھیشور مہادیو مندر، گوپیشور مندر اور مہوبا سیاحتی مقام شامل ہیں۔اس کے علاوہ 10 لاجسٹکس مراکز بھی اس راہداری سے منسلک ہوں گے، جن میں کانپور، گھاٹم پور، ہمیر پور، مہوبا، کبرئی، بھروا سومیر پور اور باندا ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ساتھ کانپور، چکری اور کھجوراہو ہوائی اڈے شامل ہیں۔
مجموعی طور پر یہ منصوبہ بندیل کھنڈ اور اتر پردیش و مدھیہ پردیش کے ملحقہ علاقوں میں لاجسٹکس کی مسابقت، صنعتی ترقی اور اقتصادی نمو کو فروغ دے گا اور پی ایم گتی شکتی کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
تعمیراتی مرحلے کے دوران اس منصوبے سے فی لین فی کلومیٹر تقریباً 11,188 براہِ راست اور 13,985 بالواسطہ فرد-دن روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ مالی سال 2028 تک اس شاہراہ پر یومیہ اوسطاً 18,069 پیسنجر کار یونٹس (پی سی یوز) کی آمدورفت متوقع ہے، جو اس منصوبے کی طویل مدتی اقتصادی، لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ مجموعی طور پر اس منصوبے سے تقریباً 1.2 کروڑ فرد-دن کے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
راہداری کا نقشہ
****
The Need for Precise Navigation: Why India Created GAG
ش ح۔ع ح۔ش ہ ب
Uno. 9406
(रिलीज़ आईडी: 2279873)
आगंतुक पटल : 9