زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے وزیر اعلی جناب نائب سنگھ سینی کے ساتھ ہریانہ میں’’ کھیت بچاؤ ابھیان ‘‘کی اختتامی تقریب میں شرکت کی
’’کھیت بچاؤ ، مستقبل بچاؤ‘‘مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے قومی عزم کے ساتھ ہریانہ کے کسانوں سے اپیل کی
متوازن کھاد صحت مند مٹی کی کلید ہے: مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان
ہریانہ ماڈل سے ملک کاشتکاری کا نیا طریقہ سیکھے گا: شیوراج سنگھ چوہان
وکست بھارت کی بنیاد ہے خوشحال کسان: مرکزی وزیر جناب چوہان
ٹیکنالوجی سے کھیتی میں تبدیلی آئیگی ، موبائل مٹی کی ضرورت بتائے گا: مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان
مہم نہیں ، اب مشن بنے گا’کھیت بچاؤ‘- مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کا اعلان
قدرتی کاشتکاری اور پانی کا تحفظ ہی مستقبل کا راستہ : مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان
प्रविष्टि तिथि:
30 JUN 2026 2:54PM by PIB Delhi
ہریانہ کے ریواڑی میں واقع زرعی کالج ، باول میں ’کھیت بچاؤ ابھیان‘ کی اختتامی تقریب اور ہریانہ ایف پی او مشن کے آغاز کے موقع پر زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کسانوں کو پائیدار زراعت ، کھاد کے متوازن استعمال اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے بارے میں ایک مضبوط پیغام دیا ۔ اس تقریب کی صدارت ہریانہ کے وزیر اعلی جناب نائب سنگھ سینی نے کی ، جبکہ ہریانہ کے زراعت اور کسانوں کی بہبود ، مویشی پروری اور ڈیری اور ماہی گیری کے وزیر جناب شیام سنگھ رانا مہمان خصوصی تھے ۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ہندوستان کو شاندار ، قابل فخر ، خوشحال ، طاقتور ، خود انحصاراور ترقی یافتہ بنانے کا عزم تب ہی پورا ہوگا جب ملک کے کسان ترقی کریں گے اور خوشحال ہوں گے ۔ جناب چوہان نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں زراعت کے شعبے کو نئی سمت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ہریانہ حکومت کی پالیسیوں کی کھل کر تعریف کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ وہ ریاست ہے جہاں 24 فصلوں پر ایم ایس پی دی جا رہی ہے ، بھاوانتر بھگتان یوجنا نافذ ہے اور باغبانی کی فصلوں ، سبزیوں اور پھلوں پر بھی بھاوانتر کے ذریعے کسانوں کو ان کے پسینے کی پوری قیمت دی جا رہی ہے ۔’’میری فصل ، میراکھیت ، میرا بیورا ‘‘ اور’’میراپانی ، میری وراثت‘‘جیسے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کوششوں سے ہریانہ پورے ملک کو ایک نئی راہ دکھا رہا ہے اور کئی ریاستوں کو یہاں سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔
مرکزی وزیر جناب چوہان نے کسانوں کو یاد دلایا کہ کبھی ہندوستان کو امریکہ سے سرخ گندم درآمد کرنا پڑتا تھا ، لیکن آج ہریانہ جیسی ریاستوں کی کوششوں سے ملک کے اناج کے ذخائر بھر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان چاول کی پیداوار میں دنیا میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا ہے اور اس زرعی انقلاب میں ہریانہ کے کسانوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ہریانہ نہ صرف غذائی اجناس کی پیداوار میں سب سے آگے ہے بلکہ سرحد کی حفاظت اور کھیل کود- اولمپکس میں ملک کا وقار بڑھانے میں بھی اس کے نوجوانوں کا کردار سب سے آگے رہتا ہے۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے مٹی کی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھاد اور کیڑے مار ادویات کے غیر متوازن اور ضرورت سے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہماری دھرتی ماں بیمار ہو رہی ہے ۔ زمین پکار کراس بات کو کہتی ہے کہ اتنی کھاد نہ ڈالیں ، اتنی کیڑے مار دوا ئیں نہ ڈالیں کہ میں خود بیمار ہو جاؤں، کہتے ہوئے انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ مٹی کی جانچ کی بنیاد پر ہی کھاد کا استعمال کریں اور ضرورت کے مطابق اتنی ہی کھاد ڈالیں ،جتنی ضرورت ہو۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح ڈاکٹر کی جانب سے ضرورت سے زیادہ یا غلط دوا تجویز کرنے سے صحت خراب ہو جاتی ہے ، اسی طرح زیادہ یوریا اور ڈی اے پی کو غیر ضروری طور پر کھیت میں ڈالنے سے مٹی کی صحت خراب ہوتی ہے ، تیزابیت بڑھتی ہے، غذائی عنصر کا عدم توازن ہوتا ہےاور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھ رہا ہے ، جس کا اثر ہماری فصلوں، بیج ، پھل اور سبزیوں اور بالآخر ہمارے جسم پرپڑ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ عدم توازن جاری رہا تو مستقبل میں زمین خوراک پیدا کرنے سے انکار کر سکتی ہے اور یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بڑا بحران بن سکتا ہے ۔

ٹیکنالوجی کے استعمال سے کاشتکاری میں انقلابی تبدیلیوں کے امکان پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ حکومت ایسا نظام بنا رہی ہے کہ موبائل ایپ کے ذریعے کسانوں کو سوائل ہیلتھ کارڈ کی معلومات فوری طور پر دستیاب ہوسکیں گی ۔ آپ کھیت میں کھڑے ہو کر موبائل کے ذریعے جان سکیں گے کہ آپ کی مٹی میں کون سے عناصر ہیں اور کتنی کھاد ڈالنی چاہیے ۔
قدرتی کاشت کاری پر زور دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ اگر قدرتی کاشتکاری صحیح طریقے سے کی جائے تو پیداوار میں کمی نہیں آتی ۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے کھیت کے ایک چھوٹے سے حصے پر قدرتی کاشتکاری کا استعمال کریں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت سے زیادہ کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کی وجہ سے مٹی میں موجود مائیکرو( خرد بینی) حیاتیات تباہ ہو رہے ہیں اورکیچوے جیسے حیاتیاتی معاون اب کھیتوں میں کم نظر آ رہے ہیں ، جس میں تبدیلی لانی ہوگی۔
جناب چوہان نے آب و ہوا کی تبدیلی اور ال نینو کے خدشات کا بھی ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ کے کچھ اضلاع میں کم بارش کے امکان کے پیش نظر، مرکز اور ریاستی حکومت مل کر کم پانی والی ، جلد تیار ہونے والی فصلوں پر مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ کسان کم پانی کے ساتھ بھی اچھی پیداوار حاصل کر سکیں ۔ انہوں نے ہریانہ کی حکوت کے ذریعے دھان کی جگہ پر دلہن کی کاشت پر فی ایکڑ 8000روپے کی کی ترغیی رقم دینے کی پالیسی کو کسانوں کے مفاد میں بڑا قدم قراردیا۔
پروگرام کے دوران ، جناب شیوراج سنگھ چوہان نے’’کھیت بچاؤ ابھیان‘‘ کو صرف ایک مہم کے طور پر نہیں بلکہ ایک طویل مدتی مشن کے طور پر آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج اختتام نہیں بلکہ ایک نئی شروعات ہے ۔ مہم ختم ہو چکی ہے لیکن مشن آج سے شروع ہو رہا ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ وزیر زراعت کے طور پر ہفتے میں کم سے کم ایک دن کسی نہ کسی ریاست میں ’’کھیت بچاؤ ابھیان‘‘ سے متعلق پروگراموں میں حصہ لیں گے تاکہ کسانوں کی متوازن کھاد ، صحت مند مٹی اور پائیدار زراعت کے بارے میں سوچ میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے ۔


تقریب کے اختتام پر مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ نے تمام کسانوں ، بہنوں اور نوجوانوں سے کھیت بچاؤ ، دھرتی بچاؤ ابھیان میں شامل ہونے اور متوازن کھادوں کا استعمال کرنے کا حلف دلایا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور کسان وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے عزم کو پورا کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے اور ہریانہ جیسی ریاستوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرکے پورے ملک کی زرعی ترقی کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا جائے گا ۔
***
(ش ح ۔ م ش ۔ م ذ)
U.No: 9341
(रिलीज़ आईडी: 2279378)
आगंतुक पटल : 14